بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27538
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27538
حدیث نمبر: 27538 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , أَنَّهُ قَدِمَ الشَّامَ , فَدَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ , فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ , وَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا , قَالَ: فَجَاءَ , فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ يَقْرَأُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى سورة الليل آية 1 - 2 , قَالَ عَلْقَمَةُ: " وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى" , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: لَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى شَكَّكُونِي , ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ , وَصَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُهُ , وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! صَاحِبُ الْوِسَادِ: ابْنُ مَسْعُودٍ , وَصَاحِبُ السِّرِّ: حُذَيْفَةُ , وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ: عَمَّارٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام دمشق کی جامع میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، ان لوگوں نے مجھ سے اس پر اتنی بحث کی تھی کہ مجھے شک میں مبتلا کردیا تھا، پھر فرمایا کیا تم میں " تکیے والے " ایسے رازوں کو جاننے والے جنہیں کوئی نہ جانتا ہو اور جنہیں نبی کی زبانی شیطان سے مخفوظ قرار دیا گیا تھا " نہیں ہیں؟ تکیے والے تو ابن مسعود ہیں، رازوں کو جاننے والے حذیفہ ہیں اور شیطان سے محفوظ عمار ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27538]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (27537) باب پر واپس اگلی حدیث (27539) →