بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
-بقية حديث أبي الدرداء رضي الله عنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 45
صفحہ 1 از 3
حدیث نمبر: 27513 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ ، عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ , قَالَ: كَانَ رَجُلٌ بِالشَّامِ يُقَالُ لَهُ: مَعْدَانُ , كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ , فَفَقَدَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَلَقِيَهُ يَوْمًا وَهُوَ بِدَابِقٍ , فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : يَا مَعْدَانُ , مَا فَعَلَ الْقُرْآنُ الَّذِي كَانَ مَعَكَ؟ كَيْفَ أَنْتَ وَالْقُرْآنُ الْيَوْمَ؟ قَالَ: قَدْ عَلِمَ اللَّهُ مِنْهُ فَأَحْسَنَ , قَالَ: يَا مَعْدَانُ , أَفِي مَدِينَةٍ تَسْكُنُ الْيَوْمَ أَوْ فِي قَرْيَةٍ؟ قَالَ: لَا , بَلْ فِي قَرْيَةٍ قَرِيبَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ , قَالَ: مَهْلًا , وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَا مِنْ خَمْسَةِ أَهْلِ أَبْيَاتٍ لَا يُؤَذَّنُ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ , وَتُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَوَاتُ , إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ , وَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ" , فَعَلَيْكَ بِالْمَدَائِنِ , وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ معدان کو قرآن پڑھاتے تھے، کچھ عرصے تک وہ غائب رہا، ایک دن " دابق " میں وہ انہیں ملا تو انہوں نے پوچھا معدان! اس قرآن کا کیا بنا جو تمہارے پاس تھا؟ تم اور قرآن آج کیسے ہو؟ اس نے کہا اللہ جانتا ہے اور خوب اچھی طرح، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت ِ نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہذا تم جماعت ِ مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ اکیلی بکری کو بھڑیا کھا جاتا ہے، ارے معدان! مدائن شہر کو لازم پکڑو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27513]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حاتم بن أبى نصر، ولضعف هشام بن سعد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حاتم بن أبى نصر، ولضعف هشام بن سعد
حدیث نمبر: 27514 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، وَوَكِيعٌ ، زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، السَّائِبِ ، وَكِيعٌ ، ابْنِ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيِّ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ , وَوَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنِ السَّائِبِ , قَالَ وَكِيعٌ : ابْنِ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيِّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ , فَلَا يُؤَذَّنُ , وَلَا تُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَوَاتُ , إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ , عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ , فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ" , قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ فِي الصَّلَاةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معدان بن ابی طلحہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت ِ نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہذا تم جماعت ِ مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ اکیلی بکری کو بھڑیا کھا جاتا ہے، ارے معدان! مدائن شہر کو لازم پکڑو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27514]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل السائب بن حبيش
الحكم: إسناده حسن من أجل السائب بن حبيش
حدیث نمبر: 27515 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، أَبَا عُمَرَ الصِّينِيَّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُمَرَ الصِّينِيَّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّهُ إِذَا كَانَ نَزَلَ بِهِ ضَيْفٌ , قَالَ: يَقُولُ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مُقِيمٌ فَنُسْرحُ, أَوْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: فَإِنْ قَالَ لَهُ , ظَاعِنٌ , قَالَ لَهُ , مَا أَجِدُ لَكَ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ شَيْءٍ أَمَرَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ , يَحُجُّونَ وَلَا نَحُجُّ , وَيُجَاهِدُونَ وَلَا نُجَاهِدُ , وَكَذَا وَكَذَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ , جِئْتُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا يَجِيءُ بِهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ: أَنْ تُكَبِّرُوا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ , وَتُسَبِّحُوهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَتَحْمَدُوهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا کہ تم مقیم ہو کہ ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں یا مسافر ہو کہ تمہیں زاد راہ دیں؟ اس نے کہا مسافر ہوں، انہوں نے فرمایا تمہیں ایک ایسی چیز زاد راہ کے طور پر دیتا ہوں جس سے افضل اگر کوئی چیز مجھے ملتی تمہیں وہی دیتا، ایک مرتبہ میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مالدار دنیا اور آخرت دونوں لے گئے، ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں البتہ وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تم سے پہلے والا کوئی تم سے آگے نہ بڑھ سکے اور پیچھے والا تمہیں نہ پا سکے، الاً یہ کہ کوئی آدمی تمہاری ہی طرح عمل کرنے لگے، ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27515]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى عمر الصيني
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى عمر الصيني
حدیث نمبر: 27516 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَحَجَّاجٌ , قَالاَ: حدثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ , يُحَدِّثُ , عَنْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ , عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَ حَجَّاجٌ:" مَنْ قَرَأَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سورت کہف کی آخری دس آیات یاد کرلے وہ دجال کے فتنے سے مخفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27516]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 809، لكن شذ فيه شعبة، فقال: "من أواخر سورة الكهف"
الحكم: إسناده صحيح، م: 809، لكن شذ فيه شعبة، فقال: "من أواخر سورة الكهف"
حدیث نمبر: 27517 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّة ، عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّة , عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے افضل اور بھاری چیز اخلاق ہوں گے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27517]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27518 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، الْكَيْخَارَانِيِّ
حَدَّثَنَاه يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْكَيْخَارَانِيِّ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27519 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ مَرَّ بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا؟" , فَقَالُوا: نَعَمْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ , كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک خیمے کے باہر ایک عورت کو دیکھا جس کے یہاں بچے کی پیدائش کا زمانہ قریب آچکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لگتا ہے کہ اس کا مالک اس کے " قریب " جانا چاہتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جائے، یہ اسے کیسے اپنا وارث بنا سکتا ہے جب کہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کیسے اس سے خدمت لے سکتا ہے جبکہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27519]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1441
الحكم: إسناده صحيح، م: 1441
حدیث نمبر: 27520 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، شَيْخٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سُلَيْمَانَ , عَنْ ذَكْوَانَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ شَيْخٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 63 - 64 , قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ , أَوْ تُرَى لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27520]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27521 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، رَجُلٍ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ , سَمِعَهُ مِنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وله إسنادان، كلاهما ضعيف لابهام الراوي عن ابي الدرداء
الحكم: صحيح لغيره، وله إسنادان، كلاهما ضعيف لابهام الراوي عن ابي الدرداء
حدیث نمبر: 27522 مسند احمد
بَهْزٌ ، بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ ، قَتَادَةُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلَّ يَوْمٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , نَحْنُ أَضْعَفُ مِنْ ذَاكَ وَأَعْجَزُ , قَالَ: " فَإِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ , فَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , جُزْءٌ مِنْ أَجْزَائِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ ہم بہت کمزور اور عاجز ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے تین حصے کئے ہیں اور سورت اخلاص کو ان میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27522]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 27523 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، سَالِمٍ ، مَعْدَانَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
وحَدَّثَنَاه عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ," , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 811
الحكم: إسناده صحيح، م: 811
حدیث نمبر: 27524 مسند احمد
عَفَّانُ ، بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ
وقَالَ عَفَّانُ , حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ , بِهَذَا الْإِسْنَادِ , بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 27525 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ , وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ , وَأَرْفَعِهَا لِدَرَجَاتِكُمْ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا رِقَابَهُمْ وَيَضْرِبُونَ رِقَابَكُمْ؟ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو، تمہارے لئے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ مید ان جنگ میں دشمن سے آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادوں؟ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سا عمل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27525]
حکم دارالسلام
هذا اسناد فيه ضعف وانقطاع، وقد سلف باسناد صحيح، انظر: 21702
الحكم: هذا اسناد فيه ضعف وانقطاع، وقد سلف باسناد صحيح، انظر: 21702
حدیث نمبر: 27526 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، رَجُلٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حدثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْهُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " بُشْرَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ , يَرَاهَا الْمُسْلِمُ , أَوْ تُرَى لَهُ , وَبُشْرَاهُمْ فِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27526]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27527 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , مِثْلَ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , دَخَلَ الْجَنَّةَ" , إِلَّا أَنَّ فِيهِ:" وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے جو شخص اس طرح مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا، یہ حدیث حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اگرچہ ابودردا کی ناک خاک آلود ہوجائے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27527]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث أبى ذر ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين أبى صالح وأبي الدرداء
الحكم: صحيح من حديث أبى ذر ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين أبى صالح وأبي الدرداء
حدیث نمبر: 27528 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , قَالَ: كَانَ فِينَا رَجُلٌ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ: فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27528]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 27529 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , قَالَ: كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ , فَتَبِيتُ عِنْدَ نِسَائِهِ , وَيَسْأَلُهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَامَ لَيْلَةً فَدَعَا خَادِمَهُ , فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ , فَلَعَنَهَا , فَقَالَتْ: لَا تَلْعَنْ , فَإِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ مروان کا بیٹا عبدالمالک حضرت ام دردا کو اپنے یہاں بلا لیتا تھا، وہ اس کی عورتوں کے یہاں رات گذارتی تھیں اور وہ ان سے نبی کے متعلق پوچھتا رہتا تھا ایک رات وہ بیدار ہوا تو خادمہ کو آواز دی، اس نے آنے میں تاخیر کردی تو وہ سے لعنت ملامت کرنے لگا، حضرت ام دردا نے فرمایا لعنت مت کرو کیونکہ ابودردا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی کو کہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لعنت ملامت کرنے والے قیامت کے دن گواہ بن سکیں گے اور نہ ہی سفارش کرنے والے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2598
الحكم: إسناده صحيح، م: 2598
حدیث نمبر: 27530 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرُ بْنُ كُرَيْبٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرُ بْنُ كُرَيْبٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ , فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ , وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ , فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي , مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! تو ایک انصار نے کہا کہ یہ تو واجب ہوگئی پھر حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ ان کے قریب تھا اور فرمایا بھتیجے! میں سمجھتا ہوں کہ جب امام لوگوں کی امامت کرتا ہے تو وہ ان کی طرف سے کفایت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27531 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ اشْتَرَى سِقَايَةً مِنْ فِضَّةٍ بِأَقَلَّ مِنْ ثَمَنِهَا , أَوْ أَكْثَرَ , قَالَ: فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ نے چاندی کا ایک پیالہ اس کی قیمت سے کم و بیش میں خریدا تو حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بیع سے منع فرمایا ہے الاً یہ کہ برابر سرابر ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27531]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث عبادة بن الصامت، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أبى الدرداء
الحكم: صحيح من حديث عبادة بن الصامت، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27532 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة ، عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة , عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَثْقَلَ فِي الْمِيزَانِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں اچھے اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح