بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 27452 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، امْرَأَةٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى , عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ , عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِى عَبْدِ الْأَشْهَلِ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً , فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ: " أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟" , قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى , قَالَ:" فَهَذِهِ بِهَذِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو عبد الاشہل کی ایک خاتون سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ ِ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ مسجد کی طرف جس راستے سے آتے ہیں، وہ بہت بدبودار ہے، تو جب بارش ہوا کرے، اس وقت ہم کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد صاف راستہ نہیں آتا؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ صاف راستہ اس گندے راستے کا بدلہ ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27452]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27453 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، امْرَأَةٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى , عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ , أَنَّهَا قَالَتْ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أَمُرُّ فِي طَرِيقٍ لَيْسَ بِطَيِّبٍ , فَقَالَ: " أَلَيْسَ مَا بَعْدَهُ أَطْيَبُ مِنْهُ؟" , قَالَتْ: بَلَى , قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ تَذْهَبُ بِذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو عبد الاشہل کی ایک خاتون سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ ِ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ مسجد کی طرف جس راستے سے آتے ہیں، وہ بہت بدبودار ہے، تو جب بارش ہوا کرے، اس وقت ہم کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد صاف راستہ نہیں آتا؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ صاف راستہ اس گندے راستے کا بدلہ ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27453]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح