أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، امْرَأَةٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى , عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ , عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِى عَبْدِ الْأَشْهَلِ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً , فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ: " أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟" , قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى , قَالَ:" فَهَذِهِ بِهَذِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو عبد الاشہل کی ایک خاتون سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ ِ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ مسجد کی طرف جس راستے سے آتے ہیں، وہ بہت بدبودار ہے، تو جب بارش ہوا کرے، اس وقت ہم کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے بعد صاف راستہ نہیں آتا؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صاف راستہ اس گندے راستے کا بدلہ ہو جائے گا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27452]
الحكم: إسناده صحيح