بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 23614 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زُهَيْرٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابن طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَبِي
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابن طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ ضَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ، قَالَ: فَبِتْنَا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ يَطَّلِعُ، فَرَآهُ مُنْبَطِحًا عَلَى وَجْهِهِ، فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ، فَأَيْقَظَهُ، وَقَالَ: " هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت طخفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند لوگوں کے ساتھ ان کی ضیافت فرمائی چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ان کے گھرچلے گئے ابھی رات کے وقت میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا سو ہی رہا تھا کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگے اور کہنے لگے کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اہل جہنم کا طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23614]
حکم دارالسلام
النهي عن النوم على البطن حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة
الحكم: النهي عن النوم على البطن حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة
حدیث نمبر: 23615 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، يَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ضِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ تَضَيَّفَهُ مِنَ الْمَسَاكِينِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ يَتَعَاهَدُ ضَيْفَهُ، فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى بَطْنِي فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: " لَا تَضْطَجِعْ هَذِهِ الضِّجْعَةَ، فَإِنَّهَا ضِجْعَةٌ يَبْغَضُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت طخفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند لوگوں کے ساتھ ان کی ضیافت فرمائی چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے ابھی رات کے وقت میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا سو ہی رہا تھا کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگے اور کہنے لگے کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اہل جہنم کا طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23615]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن طخفة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن طخفة
حدیث نمبر: 23616 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْن طِهْفَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: أَلَا تُخْبِرُنَا عَنْ خَبَرِ أَبِيكَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْن طِهْفَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَثُرَ الضَّيْفُ عِنْدَهُ، قَالَ:" لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ بِضَيْفِهِ"، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ اجْتَمَعَ عِنْدَهُ ضِيفَانٌ كَثِيرٌ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ مَعَ جَلِيسِهِ" قَالَ: فَكُنْتُ مِمَّنْ انْقَلَبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ، قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، حُوَيْسَةُ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لِإِفْطَارِكَ، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهَا فِي قُعَيْبَةٍ لَهَا، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا قَلِيلًا فَأَكَلَهُ، ثُمَّ قَالَ:" خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ" فَأَكَلْنَا مِنْهَا حَتَّى مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَرَابٍ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، لُبَيْنَةٌ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لَكَ، قَالَ:" هَلُمِّيهَا"، فَجَاءَتْ بِهَا، فَتَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَهَا إِلَى فِيهِ فَشَرِبَ قَلِيلًا، ثُمَّ قَالَ:" اشْرَبُوا بِسْمِ اللَّهِ" فَشَرِبْنَا، حَتَّى وَاللَّهِ مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ خَرَجْنَا فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَاضْطَجَعْتُ عَلَى وَجْهِي، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُوقِظُ النَّاسَ:" الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ" وَكَانَ إِذَا خَرَجَ يُوقِظُ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ فَمَرَّ بِي وَأَنَا عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا"؟ فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفة، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعیش بن طخفہ (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب اصحاب صفہ میں سے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حوالے سے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں کو حکم دیا تو لوگ ایک ایک دو دو کر کے انہیں اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ کہتے ہیں کہ صرف پانچ آدمی رہ گئے جن میں سے ایک میں بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میرے ساتھ چلو چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں پہنچ کر فرمایا عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ، وہ کچھ کھجوریں لے کر آئیں جو ہم نے کھالیں پھر وہ کھجور کا تھوڑا ساحلوہ لے کر آئیں ہم نے وہ بھی کھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پانی پلاؤ، چناچہ وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئیں جو ہم سب نے پیا پھر ایک چھوٹا پیالہ لے کر آئیں جس میں دودھ تھا ہم نے وہ بھی پیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اگر چاہو تو رات یہیں پر گذار لو اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ میں نے عرض کیا کہ نہیں ہم مسجد ہی جائیں گے ابھی میں سحری کے وقت اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا سو ہی رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگا اور کہنے لگا کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23616]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن عبدالله بن طخفة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن عبدالله بن طخفة
حدیث نمبر: 23617 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَبِي
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ، فَجَعَلَ يَنْقَلِبُ الرَّجُلُ بِالرَّجُلِ وَالرَّجُلَيْنِ، حَتَّى بَقِيتُ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقُوا" فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا" فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ جَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا" فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ جَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ"، فَقُلْنَا: لَا، بَلْ نَنْطَلِقُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِي إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَبْغَضُهَا اللَّهُ" ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعیش بن طخفہ (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب اصحاب صفہ میں سے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حوالے سے لوگوں کو حکم دیا تو لوگ ایک ایک دو دو کر کے انہیں اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ کہتے ہیں کہ صرف پانچ آدمی رہ گئے جن میں سے ایک میں بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میرے ساتھ چلو چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں پہنچ کر فرمایا عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ، وہ کچھ کھجوریں لے کر آئیں جو ہم نے کھالیں پھر وہ کھجور کا تھوڑا ساحلوہ لے کر آئیں ہم نے وہ بھی کھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پانی پلاؤ، چناچہ وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئیں جو ہم سب نے پیا پھر ایک چھوٹا پیالہ لے کر آئیں جس میں دودھ تھا ہم نے وہ بھی پیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اگر چاہو تو رات یہیں پر گذار لو اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ میں نے عرض کیا کہ نہیں ہم مسجد ہی جائیں گے ابھی میں سحری کے وقت اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا سو ہی رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگا اور کہنے لگا کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23617]
حکم دارالسلام
النهي عن النوم على البطن حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة
الحكم: النهي عن النوم على البطن حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة
حدیث نمبر: 23618 مسند احمد
هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، يَعِيشُ بْنُ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعِيشُ بْنُ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا فُلَانُ،" انْطَلِقْ بِهَذَا مَعَكَ"، وَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23618]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة