بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 23616
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 23616
حدیث نمبر: 23616 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْن طِهْفَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: أَلَا تُخْبِرُنَا عَنْ خَبَرِ أَبِيكَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْن طِهْفَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَثُرَ الضَّيْفُ عِنْدَهُ، قَالَ:" لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ بِضَيْفِهِ"، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ اجْتَمَعَ عِنْدَهُ ضِيفَانٌ كَثِيرٌ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ مَعَ جَلِيسِهِ" قَالَ: فَكُنْتُ مِمَّنْ انْقَلَبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ، قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، حُوَيْسَةُ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لِإِفْطَارِكَ، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهَا فِي قُعَيْبَةٍ لَهَا، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا قَلِيلًا فَأَكَلَهُ، ثُمَّ قَالَ:" خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ" فَأَكَلْنَا مِنْهَا حَتَّى مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَرَابٍ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، لُبَيْنَةٌ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لَكَ، قَالَ:" هَلُمِّيهَا"، فَجَاءَتْ بِهَا، فَتَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَهَا إِلَى فِيهِ فَشَرِبَ قَلِيلًا، ثُمَّ قَالَ:" اشْرَبُوا بِسْمِ اللَّهِ" فَشَرِبْنَا، حَتَّى وَاللَّهِ مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ خَرَجْنَا فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَاضْطَجَعْتُ عَلَى وَجْهِي، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُوقِظُ النَّاسَ:" الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ" وَكَانَ إِذَا خَرَجَ يُوقِظُ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ فَمَرَّ بِي وَأَنَا عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا"؟ فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفة، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعیش بن طخفہ (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب اصحاب صفہ میں سے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حوالے سے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں کو حکم دیا تو لوگ ایک ایک دو دو کر کے انہیں اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ کہتے ہیں کہ صرف پانچ آدمی رہ گئے جن میں سے ایک میں بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میرے ساتھ چلو چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں پہنچ کر فرمایا عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ، وہ کچھ کھجوریں لے کر آئیں جو ہم نے کھالیں پھر وہ کھجور کا تھوڑا ساحلوہ لے کر آئیں ہم نے وہ بھی کھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پانی پلاؤ، چناچہ وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئیں جو ہم سب نے پیا پھر ایک چھوٹا پیالہ لے کر آئیں جس میں دودھ تھا ہم نے وہ بھی پیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اگر چاہو تو رات یہیں پر گذار لو اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ میں نے عرض کیا کہ نہیں ہم مسجد ہی جائیں گے ابھی میں سحری کے وقت اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا سو ہی رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگا اور کہنے لگا کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23616]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن عبدالله بن طخفة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن عبدالله بن طخفة
← پچھلی حدیث (23615) باب پر واپس اگلی حدیث (23617) →