مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، يَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ضِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ تَضَيَّفَهُ مِنَ الْمَسَاكِينِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ يَتَعَاهَدُ ضَيْفَهُ، فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى بَطْنِي فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: " لَا تَضْطَجِعْ هَذِهِ الضِّجْعَةَ، فَإِنَّهَا ضِجْعَةٌ يَبْغَضُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت طخفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند لوگوں کے ساتھ ان کی ضیافت فرمائی چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے ابھی رات کے وقت میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا سو ہی رہا تھا کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگے اور کہنے لگے کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اہل جہنم کا طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23615]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن طخفة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن طخفة