بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 94
صفحہ 2 از 5
حدیث نمبر: 22382 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو رمضان کے مہینے میں سینگی لگوا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22383 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَوْرٍ ، رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمْ الْبَرْدُ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْبَرْدِ،" فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر کہیں روانہ فرمایا راستے میں سردی کا موسم آگیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس پہنچے تو سردی کی شدت سے پہنچنے والی تکلیف کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں عماموں اور موزوں پر مسح کرنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22383]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22384 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، سَالِمٍ ، مَعْدَانَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: شُعْبَةُ حَدَّثَنَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ملتا ہے اور ایک قیراط کا پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22384]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 946
الحكم: إسناده صحيح، م: 946
حدیث نمبر: 22385 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَنَا , قَالَ: لَا تَسْأَلْ النَّاسَ شَيْئًا" , فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ: نَاوِلْنِيهِ، حَتَّى يَنْزِلَ فَيَتَنَاوَلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا حتیٰ کہ اگر وہ سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گرپڑتا تو وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہتے خود اتر کر اسے اٹھاتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22385]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22386 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ، وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان بعض اوقات اس گناہ کی وجہ سے بھی رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اس سے صادر ہوتا ہے اور تقدیر کو دعاء کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی اور عمر میں نیکی کے علاوہ کوئی چیز اضافہ نہیں کرسکتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22386]
حکم دارالسلام
حسن لغيره دون قوله: إن الرجل ... يصيبه، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله ابن أبى الجعد مجهول، ولم يسمع من ثوبان
الحكم: حسن لغيره دون قوله: إن الرجل ... يصيبه، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله ابن أبى الجعد مجهول، ولم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22387 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٍ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَتْ مِنْ خُرَاسَانَ فَأْتُوهَا، فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةَ اللَّهِ الْمَهْدِيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے آتے ہوئے دیکھو تو ان میں شامل ہوجاؤ کیونکہ اس میں خلیفۃ اللہ امام مہدی رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22387]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيىئ الحفظ، وعلي بن زيد ضعيف، وأبو قلابة لم يسمع من ثوبان
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيىئ الحفظ، وعلي بن زيد ضعيف، وأبو قلابة لم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22388 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمٍ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ مَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قریش جب تک تمہارے لئے سیدھے رہیں تم بھی ان کے لئے سیدھے رہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22388]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سالم لم يسمع من ثوبان
الحكم: إسناده ضعيف، سالم لم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22389 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَاصِمٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ" , قِيلَ: وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ:" جَنَاهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22389]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2568
الحكم: إسناده صحيح، م: 2568
حدیث نمبر: 22390 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٍ ، قَتَادَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ: الْكِبْرِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ، فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ" , أَوْ" وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حال میں جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ تکبر، قرض غنیمت میں خیانت۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22390]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22391 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، جُبَيْرٍ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّةً، ثُمَّ قَالَ:" يَا ثَوْبَانُ، أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ" , قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا ثوبان! اس بکری کا گوشت خوب اچھی طرح سنبھال لو چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ منورہ تشریف آوری تک اس کا گوشت کھلاتا رہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22391]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1975
الحكم: إسناده صحيح، م: 1975
حدیث نمبر: 22392 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، إِسْرَائِيلَ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: لَمَّا أُنْزِلَتْ الَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة التوبة آية 34 , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: قَدْ نَزَلَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَا نَزَلَ، فَلَوْ أَنَّا عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ اتَّخَذْنَاهُ فَقَالَ: " أَفْضَلُهُ لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں شریک تھے تو کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ سونا اور چاندی کے متعلق تو جو حکم نازل ہونا تھا وہ ہوگیا اب اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ کون سامال بہتر ہے تو ہم وہی اپنے پاس رکھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل مال ذکر کرنے والی زبان شکر گذار دل اور مسلمان بیوی ہے جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرنے والی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22392]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سالم لم يسمع من ثوبان
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سالم لم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22393 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے متعلق گمراہ کن ائمہ سے اندیشہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22393]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22394 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے متعلق گمراہ کن ائمہ سے اندیشہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22395 مسند احمد
وَبِهِ قَالَ: وَبِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَوَى لِي الْأَرْضَ أَوْ قَالَ: إِنَّ رَبِّي زَوَى لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا، وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يَهْلِكُوا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ، وَلَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ" . وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: " يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ، وَقَالَ يُونُسُ: لَا يُرَدُّ , وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ، وَلَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ، وَلَوْ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ: مَنْ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا" " وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ . " وَإِذَا وُضِعَ فِي أُمَّتِي السَّيْفُ لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ حَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ساری زمین کو سمیٹ دیا چنانچہ میں نے اس کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک کا علاقہ مجھے سمیٹ کر دکھایا گیا ہے اور مجھے دو خزانے سرخ اور سفید دیئے گئے ہیں اور میں نے اپنی امت کے لئے یہ درخواست کی ہے کہ وہ اسے عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان پر کوئی بیرونی دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں خوب قتل کرے تو میرے رب نے فرمایا اے محمد! میں نے جو فیصلہ کرلیا ہے اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، میں نے آپ کی امت کے حق میں آپ کی یہ دعاء قبول کرلی کہ میں انہیں عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور میں ان پر کوئی بیرونی دشمن مسلط نہیں کروں گا جو ان میں خوب قتل و غارت گری کرے گو کہ ان پر ان کے دشمن اکناف عالم سے جمع ہوجائیں یہاں تک کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو فناء کرنے لگیں گے اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کن ائمہ سے اندیشہ ہے۔ اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر قیامت تک اٹھائی نہیں جائے گی۔ اور قیامت اس وقت قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے نہ جا ملیں اور جب تک میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔ اور عنقریب میری امت میں تیس کذاب آئیں گے جن میں سے ہر ایک بزعم خویش اپنے آپ کو نبی قرار دیتا ہوگا، حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جہاد کرتا رہے گا جو ہمیشہ غالب رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والا کوئی شخص انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22395]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1920، 2889
الحكم: إسناده صحيح، م: 1920، 2889
حدیث نمبر: 22396 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، بَقِيَّةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْوُصَابِيِّ ، عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَدِيٍّ الْبَهْرَانِيِّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْوُصَابِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَدِيٍّ الْبَهْرَانِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي: أَحْرَزَهُمْ اللَّهُ مِنَ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ، وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم سے محفوظ رکھا ہے ایک گروہ ہندوستان میں جہاد کرے گا اور ایک گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22396]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل بقية، لكنه توبع، وأبو بكر بن الوليد مجهول الحال، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل بقية، لكنه توبع، وأبو بكر بن الوليد مجهول الحال، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22397 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، مَرْزُوقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْصِيُّ ، أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ الْأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا" , قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ تَكُونُونَ غُثَاءً كَغُثَاءِ السَّيْلِ يَنْتَزِعُ الْمَهَابَةَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ، وَيَجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمْ الْوَهْنَ" , قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ:" حُبُّ الْحَيَاةِ، وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں دنیا کے ہر کونے سے مختلف قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دیں گی جیسے ایک کھلانے والی عورت اپنے پیالے کی طرف بلاتی ہے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس زمانے میں ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایسا ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی لیکن تم لوگ سمندر کے خس و خاشاک کی طرح ہوگے تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال لیا جائے گا اور تمہارے دلوں میں " وہن '' ڈال دیا جائے گا ہم نے پوچھا کہ " وہن " سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زندگی کی محبت اور موت سے نفرت۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22397]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22398 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى ، زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، جَدَّهُ ، أَبَا أَسْمَاءَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، أَنَّ جَدَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ , أَنَّ ابْنَةَ هُبَيْرَةَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا خَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ، يُقَالُ لَهَا الْفَتَخُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَعُ يَدَهَا بِعُصَيَّةٍ مَعَهُ، يَقُولُ لَهَا: " يَسُرُّكِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ فِي يَدِكِ خَوَاتِيمَ مِنْ نَارٍ؟!" فَأَتَتْ فَاطِمَةَ فَشَكَتْ إِلَيْهَا مَا صَنَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَانْطَلَقْتُ أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَلْفَ الْبَابِ، وَكَانَ إِذَا اسْتَأْذَنَ قَامَ خَلْفَ الْبَابِ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهَا فَاطِمَةُ انْظُرِي إِلَى هَذِهِ السِّلْسِلَةِ الَّتِي أَهْدَاهَا إِلَيَّ أَبُو حَسَنٍ قَالَ: وَفِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ، بِالْعَدْلِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَفِي يَدِكِ سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ؟!" ثُمَّ عَذَمَهَا عَذْمًا شَدِيدًا، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ، فَأَمَرَتْ بِالسِّلْسِلَةِ فَبِيعَتْ، فَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا عَبْدًا فَأَعْتَقَتْهُ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ، وَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنت ہبیرہ نامی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں جنہیں " فتخ " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی لاٹھی سے اس کے ہاتھ کی انگوٹھیوں کو ہلاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تمہارے ہاتھ میں آگ کی انگوٹھیاں ڈال دے تو؟ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رویے کی شکایت کی۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ادھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر پہنچ کر دروازے کے پیچھے کھڑے ہوگئے " جو کہ اجازت لیتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول مبارک تھا " اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اس خاتون سے فرما رہی تھیں یہ چین دیکھو جو مجھے " ابو حسن " نے ہدیئے میں دی ہے ان کے ہاتھ میں سونے کی ایک چین تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر میں داخل ہو کر فرمایا اے فاطمہ بات انصاف کی ہونی چاہئے تاکہ کل کو لوگ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر انگلی نہ اٹھائیں اس لئے تمہارے ہاتھ میں آگ کی یہ چین کیسی؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں شدت کے ساتھ ندامت کا احساس دلایا اور وہاں بیٹھے بغیر ہی واپس چلے گئے اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے وہ چین فروخت کرنے کا حکم دے دیا چنانچہ اسے بیچ دیا گیا جس کی قیمت سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے ایک غلام خریدا اور اسے آزاد کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب یہ بات سنی تو خوشی سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا اللہ کا شکر کہ اس نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو آگ سے بچا لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22398]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وفي سماع يحيي بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، والأرجح سلام أنه كتاب أخذه يحيى من معاوية بن سلام
الحكم: رجاله ثقات، وفي سماع يحيي بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، والأرجح سلام أنه كتاب أخذه يحيى من معاوية بن سلام
حدیث نمبر: 22399 مسند احمد
الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، لَيْثٍ ، أَبِي الْخَطَّابِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ وَالرَّائِشَ" , يَعْنِي: الَّذِي يَمْشِي بَيْنَهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رشوت لینے والے دینے والے اور ان دونوں کے درمیان معاملہ طے کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22399]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: والرائش، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف، وقد اضطرب فى هذا الحديث، وأبو الخطاب مجهول، وأبو زرعة روايته عن ثوبان مرسلة
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: والرائش، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف، وقد اضطرب فى هذا الحديث، وأبو الخطاب مجهول، وأبو زرعة روايته عن ثوبان مرسلة
حدیث نمبر: 22400 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، مَيْمُونٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمَرئِيُّ التَّمِيمِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمَرئِيُّ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَرَّهُ النَّسَاءُ فِي الْأَجَلِ، وَالزِّيَادَةُ فِي الرِّزْقِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لمبی عمر اور وسعت رزق چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22400]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22401 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، مَيْمُونٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ وَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجِبْرِيلَ: إِنَّ فُلَانًا عَبْدِي يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِي، أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ، فَيَقُولُ جِبْرِيلُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ، وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ الْعَرْشِ، وَيَقُولُهَا مَنْ حَوْلَهُمْ , حَتَّى يَقُولَهَا أَهْلُ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ إِلَى الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے اور اس میں مسلسل لگا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ میری رضا کی تلاش میں ہے آگاہ رہو کہ میری رحمت اس پر متوجہ ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں کہ فلاں آدمی پر اللہ کی رحمت ہو، حاملین عرش بھی یہی کہتے ہیں ان کے آس پاس کے فرشتے بھی یہی کہنے لگتے ہیں حتیٰ کہ ساتوں آسمانوں لوگ یہی کہنے لگتے ہیں پھر یہ بات زمین پر اتار دی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22401]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن