بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22398
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22398
حدیث نمبر: 22398 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى ، زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، جَدَّهُ ، أَبَا أَسْمَاءَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، أَنَّ جَدَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ , أَنَّ ابْنَةَ هُبَيْرَةَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا خَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ، يُقَالُ لَهَا الْفَتَخُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَعُ يَدَهَا بِعُصَيَّةٍ مَعَهُ، يَقُولُ لَهَا: " يَسُرُّكِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ فِي يَدِكِ خَوَاتِيمَ مِنْ نَارٍ؟!" فَأَتَتْ فَاطِمَةَ فَشَكَتْ إِلَيْهَا مَا صَنَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَانْطَلَقْتُ أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَلْفَ الْبَابِ، وَكَانَ إِذَا اسْتَأْذَنَ قَامَ خَلْفَ الْبَابِ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهَا فَاطِمَةُ انْظُرِي إِلَى هَذِهِ السِّلْسِلَةِ الَّتِي أَهْدَاهَا إِلَيَّ أَبُو حَسَنٍ قَالَ: وَفِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ، بِالْعَدْلِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَفِي يَدِكِ سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ؟!" ثُمَّ عَذَمَهَا عَذْمًا شَدِيدًا، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ، فَأَمَرَتْ بِالسِّلْسِلَةِ فَبِيعَتْ، فَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا عَبْدًا فَأَعْتَقَتْهُ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ، وَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنت ہبیرہ نامی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں جنہیں " فتخ " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی لاٹھی سے اس کے ہاتھ کی انگوٹھیوں کو ہلاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تمہارے ہاتھ میں آگ کی انگوٹھیاں ڈال دے تو؟ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رویے کی شکایت کی۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ادھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر پہنچ کر دروازے کے پیچھے کھڑے ہوگئے " جو کہ اجازت لیتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول مبارک تھا " اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اس خاتون سے فرما رہی تھیں یہ چین دیکھو جو مجھے " ابو حسن " نے ہدیئے میں دی ہے ان کے ہاتھ میں سونے کی ایک چین تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر میں داخل ہو کر فرمایا اے فاطمہ بات انصاف کی ہونی چاہئے تاکہ کل کو لوگ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر انگلی نہ اٹھائیں اس لئے تمہارے ہاتھ میں آگ کی یہ چین کیسی؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں شدت کے ساتھ ندامت کا احساس دلایا اور وہاں بیٹھے بغیر ہی واپس چلے گئے اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے وہ چین فروخت کرنے کا حکم دے دیا چنانچہ اسے بیچ دیا گیا جس کی قیمت سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے ایک غلام خریدا اور اسے آزاد کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب یہ بات سنی تو خوشی سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا اللہ کا شکر کہ اس نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو آگ سے بچا لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22398]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وفي سماع يحيي بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، والأرجح سلام أنه كتاب أخذه يحيى من معاوية بن سلام
الحكم: رجاله ثقات، وفي سماع يحيي بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، والأرجح سلام أنه كتاب أخذه يحيى من معاوية بن سلام
← پچھلی حدیث (22397) باب پر واپس اگلی حدیث (22399) →