بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 94
صفحہ 1 از 5
حدیث نمبر: 22362 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَحَجَّاجٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو قَبِيلٍ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقرِئَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقرِئَ ، يَقُولُ: قَالَ حَجَّاجٌ: عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُبْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ سورة الزمر آية 53" , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ، إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ" ثَلَاثَ مَرَّاتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس آیت کے بدلے میں مجھے دنیا ومافیہا بھی مل جائے تو مجھے پسند نہیں " یا عبادی الذین اسرفواعلی انفسہم۔۔۔۔۔۔۔۔ " ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! شرک کرنے والے کا کیا حکم ہے؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے پھر تھوڑی دیر بعد تین مرتبہ فرمایا سوائے مشرک کے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22362]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبن لهيعة سيئ الحفظ، وأبو عبدالرحمن الجبلاني مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، أبن لهيعة سيئ الحفظ، وأبو عبدالرحمن الجبلاني مجهول
حدیث نمبر: 22363 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ ، سُلَيْمَانَ الْمَنْبِهِيِّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِهِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مَنْ أَهْلهِ فَاطِمَةُ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهِ إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ، قَالَ: فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فَأَتَاهَا، فَإِذَا هُوَ يَمْسَحُ عَلَى بَابِهَا، وَرَأَى عَلَى الْحَسَنِ , وَالْحُسَيْنِ قَلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ فَاطِمَةُ ظَنَّتْ أَنَّهُ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ مَا رَأَى، فَهَتَكَتْ السِّتْرَ، وَنَزَعَتْ الْقَلْبَيْنِ مِنَ الصَّبِيَّيْنِ، فَقَطَعَتْهُمَا، فَبَكَى الصَّبِيَّانِ، فَقَسَمَتْهُ بَيْنَهُمَا، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمَا، فَقَالَ:" يَا ثَوْبَانُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى بَنِي فُلَانٍ أَهْلُ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ، وَاشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ، وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَلَا أُحِبُّ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمْ الدُّنْيَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہوتے تو اپنے اہل خانہ میں سے سب سے آخر میں جس سے ملاقات کرتے وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ ہوتیں اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے جس کے یہاں تشریف لے جاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ ہوتیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو حسب معمول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے وہاں پہنچے تو گھر کے دروازے پر پردہ دکھائی دیا اور حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن نظر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے گئے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر سمجھ گئیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہی چیزوں کو دیکھ کر واپس چلے گئے ہیں چنانچہ انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور دونوں بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار کر توڑ ڈالے اس پر دونوں بچے رونے لگے اور روتے روتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ کنگن " جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تقسیم کردیئے تھے " ان سے لے لئے اور حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے ثوبان! بنو فلاں (اہل مدینہ کے ایک گھر کے متعلق فرمایا کے پاس لے جاؤ اور فاطمہ کے ایک یمنی ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لاؤ کیونکہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ یہ اپنی حلال چیزیں بھی دنیا میں کھالیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22363]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حميد الشامي وسليمان المنبهي مجهولان
الحكم: إسناده ضعيف، حميد الشامي وسليمان المنبهي مجهولان
حدیث نمبر: 22364 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَأَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الْأُمْلُوكِيِّ ، أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , وَأَبُو الْيَمَانِ , وَهَذَا حَدِيثُ إِسْحَاقَ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الْأُمْلُوكِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ: " إِنَّا مُدْلِجُونَ، فَلَا يُدْلِجَنَّ مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ" , فَأَدْلَجَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَعْبَةٍ فَسَقَطَ، فَانْدَقَّتْ فَخِذُهُ فَمَاتَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ:" إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی سفر میں فرمایا ہم رات کو سفر پر روانہ ہوں گے اس لئے کوئی شخص کی بپھرے ہوئے یا کمزور جانور پر سواری نہ کرے اس ہدایت کے باوجود ایک آدمی ایک سرکش اونٹنی پر سوار ہوگیا راستے میں وہ کہیں گرا اور اس کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں، پھر ایک منادی کو لوگوں میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ کسی نافرمان کے لئے جنت حلال نہیں تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22364]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف راشد بن داود، ومتنه منكر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف راشد بن داود، ومتنه منكر
حدیث نمبر: 22365 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ، اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ! تو ہی حقیقی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی مل سکتی ہے اے بزرگی اور عزت والے! تیری ذات بڑی بابرکت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 591
الحكم: إسناده صحيح، م: 591
حدیث نمبر: 22366 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟" قَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا، قَالَ:" لَا تَسْأَلْ النَّاسَ" , يَعْنِي شَيْئًا، قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَكَانَ لَا يَسْأَلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22366]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 22367 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ المُهَاجِرِ ، الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ ، أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُهَاجِرِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ ، فَحُمِلَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَرِيدِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْحَوْضِ، فَقُدِمَ بِهِ عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ حَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَكَاوِيبُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ" , فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هُمْ الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدُّنْسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَلَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ" , فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: لَقَدْ نَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَفُتِحَتْ لِي السُّدَدُ إِلَّا أَنْ يَرْحَمَنِي اللَّهُ، وَاللَّهِ لَا جَرَمَ أَنْ لَا أَدْهُنَ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ، وَلَا أَغْسِلَ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ڈاکیے کے ذریعے ایک مرتبہ ابو سلام حبشی رحمہ اللہ کی طرف پیغام بھیجا وہ ابو سلام سے حوض کوثر کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے چنانچہ وہ آگئے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میرے حوض کی لمبائی چوڑائی اتنی ہے جتنی عدن اور عمان بلقاء کے درمیان ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا اس کے کٹورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے جو اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا سب سے پہلے اس حوض پر فقراء مہاجرین آئیں گے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے سروں کے بال بکھرے ہوئے اور کپڑے میلے ہوں گے جو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح نہیں کرسکے ہوں گے اور نہ ہی ان کے لئے بند دروازے کھولے جاتے ہوں گے۔ حضرت عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ میں نے تو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح کیا ہے اور میرے لئے تو بند دروازے بھی کھولے جاتے ہیں اب اللہ ہی مجھ پر رحم فرمائے واللہ اب میں اس وقت تک اپنے سر پر تیل نہیں لگاؤں گا جب تک وہ پراگندہ نہ ہوجائے اور اپنے جسم پر پہنے ہوئے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوؤں گا جب تک وہ میلے نہ ہوجائیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22367]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: أول الناس المهاجرين....، وهذا إسناد ضعيف، العباس بن سالم لم يسمع الحديث من أبى سلام، لكنه توبع، وأبو سلام لم يسمع من ثوبان
الحكم: صحيح دون قوله: أول الناس المهاجرين....، وهذا إسناد ضعيف، العباس بن سالم لم يسمع الحديث من أبى سلام، لكنه توبع، وأبو سلام لم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22368 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، شَيْخٌ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَتَلَ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا، أَوْ أَحْرَقَ نَخْلًا، أَوْ قَطَعَ شَجَرَةً مُثْمِرَةً، أَوْ ذَبَحَ شَاةً لِإِهَابِهَا، لَمْ يَرْجِعْ كَفَافًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص (میدان جہاد میں کسی نابالغ بچے یا انتہائی عمر رسیدہ آدمی کو قتل کرے یا کسی باغ کو آگ لگا دے یا کسی پھل دار درخت کو کاٹ ڈالے یا کھال حاصل کرنے کے لئے کسی بکری کو ذبح کر ڈالے تو وہ برابر سرابر واپس نہیں آیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22368]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وشيخه لم يسمّه
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وشيخه لم يسمّه
حدیث نمبر: 22369 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ ، قَتَادَةُ ، سَالِمٍ ، مَعْدَانَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , وَأَبَانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ، دَخَلَ الْجَنَّةَ الْكِبْرِ، وَالدَّيْنِ، وَالْغُلُولِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حال میں جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، تکبر، قرض اور مال غنیمت میں خیانت۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22370 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، لِثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: قِيلَ لِثَوْبَانَ , حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: تَكْذِبُونَ عَلَيَّ! وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کسی شخص نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے تو انہوں نے فرمایا تم لوگ میری طرح جھوٹی نسبت کرتے ہو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان بھی اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22370]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 488، وهذا إسناد ضعيف ، سالم لم يلق ثوبان
الحكم: حديث صحيح، م: 488، وهذا إسناد ضعيف ، سالم لم يلق ثوبان
حدیث نمبر: 22371 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22371]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22372 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي الْجُودِيِّ ، بَلْجٍ ، أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ ، لِثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ ، عَنْ بَلْجٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ: وَكَانَ قَاصَّ النَّاسِ، قَالَ: قِيلَ لِثَوْبَانَ : حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو شبیہ مہری رحمہ اللہ جو قسطنطنیہ میں وعظ گوئی کیا کرتے تھے " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قئی آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22372]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بلج وشيخه مجهولان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بلج وشيخه مجهولان
حدیث نمبر: 22373 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، فَهُوَ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22373]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء، بينهما أبو الأشعث
الحكم: حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء، بينهما أبو الأشعث
حدیث نمبر: 22374 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، لِأَبِي الْعَالِيَةِ ، ثَوْبَانُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ : مَا ثَوْبَانُ ؟ قَالَ: مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَتَكَفَّلَ لِي أَنْ لَا يَسْأَلَ شَيْئًا، وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟" , فَقَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا , فَكَانَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22374]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22375 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ، فَإِنَّهُ فِي أَخْرَافِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22375]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء ، بينهما أبو الأشعث
الحكم: حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء ، بينهما أبو الأشعث
حدیث نمبر: 22376 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ" , قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ:" أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے کسی نے پوچھا کہ قیراط کیا ہوتا ہے؟ فرمایا اس کا کم از کم پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 946
الحكم: إسناده صحيح، م: 946
حدیث نمبر: 22377 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيَّ ، الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ ، ثَوْبَانَ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ، أَوْ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً" , قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي: مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معدان یعمری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ مجھے اللہ کے نزدیک پسندیدہ کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جس کی برکت سے اللہ مجھے جنت میں داخل فرما دے، اس پر وہ خاموش رہے، تین مرتبہ سوال اور خاموشی کے بعد انہوں نے فرمایا کہ یہی سوال میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کثرت سجدہ کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ تم اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف فرما دے گا۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22377]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 488
الحكم: إسناده صحيح، م: 488
حدیث نمبر: 22378 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمٍ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ، وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ثابت قدم رہو تمام اعمال کا تو تم کسی صورت احاطہ نہیں کرسکتے البتہ یاد رکھو کہ تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی پابندی وہی کرتا ہے جو مؤمن ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22378]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من ثوبان، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من ثوبان، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22379 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت بغیر کسی خاص وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی مہک بھی حرام ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22379]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح، الرجل المبهم: هو أبو أسماء الرحبي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح، الرجل المبهم: هو أبو أسماء الرحبي
حدیث نمبر: 22380 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَفْضَلَ دِينَارٍ دِينَارٌ أَنْفَقَهُ رَجُلٌ عَلَى عِيَالِهِ، أَوْ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے اہل عیال پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنی سواری پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22380]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 994، وهذا إسناد صحيح، الرجل المبهم: هو أبو أسماء الرحبي
الحكم: حديث صحيح، م: 994، وهذا إسناد صحيح، الرجل المبهم: هو أبو أسماء الرحبي
حدیث نمبر: 22381 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، مَعْدَانَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاءَ فَأَفْطَرَ" , قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَنَا صَبَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قے آگئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے بھی اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22381]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناده، والخلاف كله يدور على الثقات
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناده، والخلاف كله يدور على الثقات