بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 21919 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، وعَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، سَفِينَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ . ح وعَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنِي حَمَّادٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا , ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمُلْكُ" , قَالَ سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ , وَخِلَافَةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَشْرَ سِنِينَ , وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشْرَ سَنَةً , وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ سِتَّ سِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلافت تیس سال تک رہے گی اس کے بعد بادشاہت آجائے گی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ اسے یوں شمار کراتے ہیں کہ دو سال حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ہوئے دس سال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ سال حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اور چھ سال حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے (کل تیس سال ہوگئے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21919]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21920 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، يَحْيَى ، سَفِينَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ سَفِينَةَ , أَنَّ رَجُلًا أشاطَ نَاقَتَهُ بِجِذْلٍ , فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کو ایک تیز دھار لکڑی سے ذبح کرلیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21920]
حکم دارالسلام
إسناده معضل ضعيف، يحيى لم يدرك سفينة، بينهما راويان مجهولان
الحكم: إسناده معضل ضعيف، يحيى لم يدرك سفينة، بينهما راويان مجهولان
حدیث نمبر: 21921 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، سَفِينَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , أَنَّهُ كَانَ يَحْمِلُ شَيْئًا كَثِيرًا , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ سَفِينَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چونکہ وہ بہت سا بوجھ اٹھا لیا کرتے تھے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہہ دیا کہ تم تو سفینہ (کشتی) ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21921]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21922 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، سَفِينَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَصَنَعُوا لَهُ طَعَامًا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَوْ دَعْونَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا , فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَجَاءَ , فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ , فَإِذَا قِرَامٌ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: اتْبَعْهُ , فَقُلْ لَهُ: مَا رَجَعَكَ؟ قَالَ: فَتَبِعَهُ , فَقَالَ: مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِي , أَوْ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلا بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ واپس کیوں آگئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا جو آراستہ و منقش ہو مناسب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21922]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21923 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , حَدَّثَنِي سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا , ثُمَّ الْمُلْكُ" , فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21923]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21924 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عِمْرَانَ النَّخْلِيِّ ، مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عِمْرَانَ النَّخْلِيِّ , عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَانْتَهَيْنَا إِلَى وَادٍ , قَالَ: فَجَعَلْتُ أَعْبُرُ النَّاسَ أَوْ أَحْمِلُهُمْ , قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ الْيَوْمَ إِلَّا سَفِينَةً , أَوْ مَا أَنْتَ إِلَّا سَفِينَةٌ" , قِيلَ لِشَرِيكٍ: هُوَ سَفِينَةُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا ہم ایک وادی میں پہنچے، میں لوگوں کا سامان اٹھا کر اسے عبور کرنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21924]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 21925 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، سَفِينَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , أخبرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أخبرَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَكُلَّمَا أَعْيَا بَعْضُ الْقَوْمِ أَلْقَى عَلَيَّ سَيْفَهُ , وَتُرْسَهُ , وَرُمْحَهُ , حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ سَفِينَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے جب کوئی آدمی تھک جاتا تو وہ اپنی تلوار، ڈھال اور نیزہ مجھے پکڑا دیتا، اس طرح میں نے بہت ساری چیزیں اٹھالیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21925]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21926 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , حَدَّثَنَا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ رَجُلًا أَضَافَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ نَحْو حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ , فَدَعَوْهُ فَجَاءَ , فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيْ الْبَابِ , فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , فَرَجَعَ , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْهُ , فَقُلْ لَهُ: لِمَ رَجَعْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلا بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ واپس کیوں آگئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا " جو آراستہ ومنقش ہو " مناسب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21926]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21927 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: " أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ , وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگا دی کہ تا حیات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21927]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21928 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، حَشْرَجُ ابْنُ نُبَاتَةَ الْعَبْسِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، سَفِينَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا حَشْرَجُ ابْنُ نُبَاتَةَ الْعَبْسِيُّ كُوفِيٌّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , حَدَّثَنِي سَفِينَةُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً , ثُمَّ مُلْكًا بَعْدَ ذَلِكَ" , ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ , وَخِلَافَةَ عُمَرَ , وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ , وَأَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ , قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً , ثُمَّ نَظَرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْخُلَفَاءِ فَلَمْ أَجِدْهُ يَتَّفِقُ لَهُمْ ثَلَاثُونَ , فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: أَيْنَ لَقِيتَ سَفِينَةَ؟ قَالَ: لَقِيتُهُ بِبَطْنِ نَخْلٍ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ , فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثَمَانِ لَيَالٍ أَسْأَلُهُ عَنْ أَحَادِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِكَ , سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفِينَةَ , قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاكَ سَفِينَةَ؟ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ , فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ مَتَاعُهُمْ , فَقَالَ لِي:" ابْسُطْ كِسَاءَكَ" , فَبَسَطْتُهُ , فَجَعَلُوا فِيهِ مَتَاعَهُمْ , ثُمَّ حَمَلُوهُ عَلَيَّ , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْمِلْ , فَإِنَّمَا أَنْتَ سَفِينَةُ" , فَلَوْ حَمَلْتُ يَوْمَئِذٍ وِقْرَ بَعِيرٍ , أَوْ بَعِيرَيْنِ , أَوْ ثَلَاثَةٍ , أَوْ أَرْبَعَةٍ , أَوْ خَمْسَةٍ , أَوْ سِتَّةٍ , أَوْ سَبْعَةٍ , مَا ثَقُلَ عَلَيَّ إِلَّا أَنْ يَجْفُوا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلافت تیس سال تک رہے گی اس کے بعد بادشاہت آجائے گی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ اسے یوں شمار کراتے ہیں کہ دو سال حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ہوئے دس سال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ سال حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اور چھ سال حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے (کل تیس سال ہوگئے) راوی حدیث کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جمہان سے پوچھا کہ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے آپ کی ملاقات کہاں ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا حجاج بن یوسف کے زمانے میں بطن نخلہ میں میری ان سے ملاقات ہوئی تھی اور میں آٹھ راتیں ان کے یہاں مقیم رہا تھا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث پوچھتا رہا تھا، میں نے ان سے ان کا نام بھی پوچھا لیکن انہوں نے فرمایا کہ یہ میں نہیں بتاسکتا، بس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام سفینہ ہی رکھا تھا، میں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کا نام سفینہ کیوں رکھا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے، ان کا سامان اس رکھا اور وہ گٹھڑی میرے اوپر لاد دی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اسے اٹھا لو کہ تم نے سفینہ (کشتی) ہی ہو اس دن اگر مجھ پر ایک دو نہیں، سات اونٹوں کا بوجھ بھی لاد دیا جاتا تو مجھے کچھ بوجھ محسوس نہ ہوتا الاّ یہ کہ وہ مجھ پر زیادتی کرتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21928]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21929 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، حَشْرَجٌ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، سَفِينَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَهُ , هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى , بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظُفْرَةٌ غَلِيظَةٌ , مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ , يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ , وَالْآخَرُ نَارٌ , فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ , مَعَهُ مَلَكَانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُشْبِهَانِ نَبِيَّيْنِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ , لَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُهُمَا بِأَسْمَائِهِمَا وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمَا , وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ , وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ , وَذَلِكَ فِتْنَةٌ , فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ , أَلَسْتُ أُحْيِ وَأُمِيتُ؟ فَيَقُولُ لَهُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ: كَذَبْتَ , مَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ , إِلَّا صَاحِبُهُ , فَيَقُولُ لَهُ: صَدَقْتَ , فَيَسْمَعُهُ النَّاسُ , فَيَظُنُّونَ إِنَّمَا يُصَدِّقُ الدَّجَّالَ , وَذَلِكَ فِتْنَةٌ , ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ , فَلَا يُؤْذَنُ لَهُ فِيهَا , فَيَقُولُ: هَذِهِ قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ , ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو یاد رکھو! اس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اور اس کی دائیں آنکھ پر ایک موٹی پھلی ہوگی، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، اس کے پاس جنت اور جہنم کی تمثیلی دو وادیاں ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان دو نبیوں اور ان کے آباؤ اجداد کا نام بھی بتاسکتا ہوں، ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہوگا اور دوسرا بائیں جانب اور یہ ایک آزمائش ہوگی۔ پھر دجال کہے گا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندگی اور موت نہیں دیتا؟ ان میں سے ایک فرشتہ کہے گا تو جھوٹ بولتا ہے لیکن یہ بات اس کے ساتھی فرشتے کے علاوہ کوئی انسان نہ سن سکے گا، اس کا ساتھی اس سے کہے گا کہ تم نے سچ کہا، اس کی آواز لوگ سن لیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ وہ دجال کی تصدیق کر رہا ہے حالانکہ یہ ایک آزمائش ہوگی، پھر وہ روانہ ہوگا یہاں تک کہ مدینہ منورہ جا پہنچے گا لیکن اسے وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی اور وہ کہے گا کہ یہ اس آدمی کا شہر ہے پھر وہ وہاں سے چل کر شام پہنچے گا اور اللہ تعالیٰ اسے " افیق " نامی گھاٹی کے قریب ہلاک کروا دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21929]
حکم دارالسلام
ضعيف بهذه السياقة، تفرد به حشرج بن نباتة ، عن ابن جمهان، وقد يقع لهما فى أحاديثهما غرائب ومناكير
الحكم: ضعيف بهذه السياقة، تفرد به حشرج بن نباتة ، عن ابن جمهان، وقد يقع لهما فى أحاديثهما غرائب ومناكير
حدیث نمبر: 21930 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَبُو رَيْحَانَةَ ، سَفِينَةُ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , حَدَّثَنِي أَبُو رَيْحَانَةَ , قَالَ أَبِي: وَسَمَّاهُ عَلِيٌّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَطَرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي سَفِينَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوَضِّئُهُ الْمُدُّ , وَيَغْسِلُهُ الصَّاعُ مِنَ الْجَنَابَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کے لئے ایک مد پانی رکھتے تھے اور غسل جنابت کے لئے ایک صاع پانی رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21930]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 326، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن عاصم، وقد توبع
الحكم: صحيح لغيره، م: 326، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن عاصم، وقد توبع
حدیث نمبر: 21931 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو رَيْحَانَةَ ، سَفِينَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ , عَنْ سَفِينَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ , وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21931]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 326، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 326، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21932 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، سَفِينَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ , قَالَ: فَكَانَ كُلَّمَا أَعْيَا رَجُلٌ أَلْقَى عَلَيَّ ثِيَابَهُ تُرْسًا , أَوْ سَيْفًا , حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ سَفِينَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے جب کوئی آدمی تھک جاتا تو وہ اپنی تلوار، ڈھال اور نیزہ مجھے پکڑا دیتا، اس طرح میں نے بہت ساری چیزیں اٹھا لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21932]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21933 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، سَفِينَةُ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أخبرَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , حَدَّثَنِا سَفِينَةُ , أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: لَوْ دَعَوْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا , فَدَعَوْنَاهُ فَجَاءَ , فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ وَقَدْ ضَرَبْنَا قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , فَلَمَّا رَآهُ رَجَعَ , قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ؟ قَالَ: مَا رَدَّكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلا بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ واپس کیوں آگئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا " جو آراستہ و منقش ہو " مناسب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21933]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21934 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ بِمَعْنَاهُ , قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِي , أَوْ قَالَ: لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21934]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن