بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 91
صفحہ 5 از 5
حدیث نمبر: 21824 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، صَالِحُ أبى الْأَخْضَرِ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، أُسَامَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنِي صَالِحُ أبى الْأَخْضَرِ , حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُسَامَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَجَّهَهُ وِجْهَةً , فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , مَا الَّذِي عَهِدَ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أُغِيرَ عَلَى أُبْنَى صَبَاحًا , ثُمَّ أُحَرِّقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کسی جانب لشکر دے کر روانہ فرمایا تھا لیکن اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں صبح کے وقت " ابنی " پر حملہ کروں اور اسے آگ لگا دوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21824]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح ابن أبى الأخضر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح ابن أبى الأخضر
حدیث نمبر: 21825 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ , فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا الْفُقَرَاءُ , إِلَّا أَنَّ أَصْحَابَ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ , إِلَّا أَهْلَ النَّارِ , فَقَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ , وَوَقَفْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ , فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت مساکین کی ہے جبکہ مالداروں کو (حساب کتاب کے لئے فرشتوں نے) روکا ہوا ہے البتہ جو جہنمی ہیں انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت عورتوں کی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21825]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5196، م: 2736
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5196، م: 2736
حدیث نمبر: 21826 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَشْعَثَ ، الْحَسَنِ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَشْعَثَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمستَحْجمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21826]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من اسامة شياء، وقد اختلف فيه عليه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من اسامة شياء، وقد اختلف فيه عليه
حدیث نمبر: 21827 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ سَعْدًا , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ لَيْسَ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوهَا , وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس علاقے میں طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5728، م: 2218
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5728، م: 2218
حدیث نمبر: 21828 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنِ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي وَالْحَسَنُ , فَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا , فَأَحِبَّهُمَا" . قَالَ يَحْيَى: قَالَ التَّيْمِيُّ: كُنْتُ أُحَدِّثُ بِهِ , فَدَخَلَنِي مِنْهُ , فَقُلْتُ: أَنَا أُحَدِّثُ بِهِ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا , فَوَجَدْتُهُ مَكْتُوبًا عِنْدِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات مجھے پکڑ کر اپنی ران پر بٹھا لیتے اور دوسری پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پھر ہمیں بھینچ کر فرماتے اے اللہ! میں چونکہ ان دونوں سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تو بھی ان سے محبت فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21828]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3735
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3735
حدیث نمبر: 21829 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ ، التَّيْمِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ . وَإِسْمَاعِيلُ , عَنِ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا تَرَكْتُ فِي النَّاسِ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کے مردوں پر عورتوں سے زیادہ سخت فتنہ کوئی نہیں چھوڑا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21829]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5096، م: 2741
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5096، م: 2741
حدیث نمبر: 21830 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٌ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ , فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَجَافَ الْبَابَ وَالْبَيْتَ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ , فَمَضَى حَتَّى أَتَى اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْبَابَ , بَابَ الْكَعْبَةِ , فَجَلَسَ , فَحَمِدَ اللَّهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , وَسَأَلَهُ , وَاسْتَغْفَرَهُ , ثُمَّ قَامَ حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ , فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَجَسَدَهُ عَلَى الْكَعْبَةِ , فَحَمِدَ اللَّهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , وَسَأَلَهُ , وَاسْتَغْفَرَهُ , ثُمَّ انْصَرَفَ , حَتَّى أَتَى كُلَّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ , وَالتَّهْلِيلِ , وَالتَّسْبِيحِ , وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَالِاسْتِغْفَارِ , وَالْمَسْأَلَةِ , ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِ الْكَعْبَةِ , ثُمَّ انْصَرَفَ , فَقَالَ: " هَذِهِ الْقِبْلَةُ , هَذِهِ الْقِبْلَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے دروازہ بند کرلیا، اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر مشتمل تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے ہوئے ان دو ستونوں کے قریب پہنچے جو باب کعبہ کے قریب تھے) اور بیٹھ کر اللہ کی حمدوثناء کی، تکبیروتہلیل کہی (دعاء و استغفار کیا) پھر کھڑے ہو کر بیت اللہ کے سامنے والے حصے کے پاس گئے اور اس پر اپنا سینہ مبارک، رخسار اور مبارک ہاتھ رکھ دیئے، پھر تکبیروتہلیل اور دعاء کرتے رہے پھر ہر کونے پر اسی طرح کیا اور باہر نکل کر باب کعبہ پر پہنچ کر قبلہ کی طرف رخ کر کے دو تین مرتبہ فرمایا یہ ہے قبلہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21830]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أسامة شيئا، بينهما ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أسامة شيئا، بينهما ابن عباس
حدیث نمبر: 21831 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَفَعَ أَوْ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ , فَأَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ وَالْخُلَفَاءُ , قَالَ: فَبَالَ , فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ , ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ , قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" , قَالَ: فَأَتَى جَمْعًا , فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ , ثُمَّ لَمْ يَحُلَّ بَقِيَّةُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے اور اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سواریوں کو بٹھایا کرتے تھے، نبی کریم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا جو بہت زیادہ مبالغہ آمیز نہ تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی، نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21831]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
الحكم: إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
حدیث نمبر: 21832 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , وَالثَّوْرِيُّ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ , عَنْ أُسَامَةَ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ , فَلَمَّا بَلَغَ قَالَ مَعْمَرٌ: الشِّعْبَ , وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: النَّقْبَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
الحكم: إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
حدیث نمبر: 21833 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أُسَامَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أُسَامَةَ , فَسُئِلَ عَنْ مَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ , فَقَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ" , يَعْنِي: فَوْقَ الْعَنَقِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رفتار درمیانی تھی جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21833]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1666، م: 1286
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1666، م: 1286
حدیث نمبر: 21834 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنِ ذَرٍّ ، مُجَاهِدٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنِ ابْنِ ذَرٍّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ , وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو خود بھی پرسکون تھے اور لوگوں کو بھی پرسکون رہنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح