يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَفَعَ أَوْ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ , فَأَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ وَالْخُلَفَاءُ , قَالَ: فَبَالَ , فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ , ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ , قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" , قَالَ: فَأَتَى جَمْعًا , فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ , ثُمَّ لَمْ يَحُلَّ بَقِيَّةُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے اور اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سواریوں کو بٹھایا کرتے تھے، نبی کریم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا جو بہت زیادہ مبالغہ آمیز نہ تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی، نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21831]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
الحكم: إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280