بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 91
صفحہ 2 از 5
حدیث نمبر: 21762 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21762]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2178، م: 1596، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2178، م: 1596، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21763 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَأَبِي النَّضْرِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ ، أُسَامَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ , أَخبرنَا مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , وَأَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ , سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ: مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , أَوْ عَلَى طَائِفَةٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ , الشَّكُّ فِي الْحَدِيثِ , فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ , فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ , وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا , فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" , قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارًا مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عامربن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21763]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218
حدیث نمبر: 21764 مسند احمد
حَسيَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سُلَيْمٍ ، أُسَامَةُ
حَدَّثَنَا حَسيَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ سُلَيْمٍ مَوْلًى لَيْثٍ , وَكَانَ قَدِيمًا قَالَ: مَرَّ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ , عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ يُصَلِّي , فَحَكَاهُ مَرْوَانُ , قَالَ أَبُو مَعْشَرٍ: وَقَدْ لَقِيَهُمَا جَمِيعًا , فَقَالَ أُسَامَةُ : يَا مَرْوَانُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ فَاحِشٍ مُتَفَحِّشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروان بن حکم ایک مرتبہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا وہ نماز پڑھ رہے تھے، مروان کہانیاں بیان کرنے لگا ایک مرتبہ جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مروان! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ کسی بےحیائی اور بہیودہ گوئی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21764]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف أبى المعشر. سليم مجهول
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف أبى المعشر. سليم مجهول
حدیث نمبر: 21765 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، مَنْ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , يَقُولُ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں اکٹھی ادا فرمائیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21765]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أسامة
الحكم: حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أسامة
حدیث نمبر: 21766 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرنا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيْنَ نَنْزِلُ غَدًا؟ فِي حَجَّتِهِ , قَالَ:" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا" , ثُمَّ قَالَ:" نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ , يَعْنِي الْمُحَصَّبَ , حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ" , وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ , أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ , وَلَا يُبَايِعُوهُمْ , وَلَا يُؤْوُهُمْ , ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ , وَلَا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! کل آپ کہاں منزل کریں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے بھی کوئی منزل چھوڑی ہے؟ پھر فرمایا کل ان شاء اللہ ہم خیف بنوکنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش نے کفر پر معاہدہ کر کے قسمیں کھائی تھیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ بنو کنانہ نے بنو ہاشم کے خلاف قریش سے یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ بنوہاشم کے ساتھ نکاح، بیع وشراء اور انہیں ٹھکانہ دینے کا کوئی معاملہ نہیں کریں گے، پھر فرمایا کوئی کافر کسی مسلمان کا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3058، م: 1351
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3058، م: 1351
حدیث نمبر: 21767 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ , وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ , وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ , حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ , وَالْيَهُودِ , فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ , وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ , فَلَمَّا غَشِيَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ , خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ , ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا , فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ , فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ , وَقَرَأَ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ , فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا , فَلَا تُؤْذِينَا فِي مَجَالِسِنَا , وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ , فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ , قَالَ: فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ , وَالْمُشْرِكُونَ , وَالْيَهُودُ , حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا , فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ , ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , فَقَالَ:" أَيْ سَعْدُ , أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا" , فَقَالَ: اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ , فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ , وَلَقَدْ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ , فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ , فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ , شَرِقَ بِذَلِكَ , فَذَاكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ , فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بھی تھا اور اس کے نیچے فد کی چادر تھی اور اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھالیا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنوحارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے جا رہے تھے، یہ واقعہ عزوہ بدر سے پہلے کا ہے راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک ایسی مجلس پر ہوا جس میں مسلمان، بتوں کے پجاری مشرک اور یہودی سب ہی تھے اور جن میں عبداللہ بن ابی بھی موجود تھا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی۔ جب اس مجلس میں سواری کا گردوغبار اڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر اپنی چادر رکھی اور کہنے لگا کہ ہم پر گردوعبار نہ اڑاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں رک کر انہیں سلام کیا اور تھوڑی دیر بعد سواری سے نیچے اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلانے اور قرآن پڑھ کر سنانے لگے یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی کہنے لگا اے بھائی! جو بات آپ کہہ رہے ہیں اگر یہ برحق ہے تو اس سے اچھی کوئی بات ہی نہیں لیکن آپ ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلیف نہ دیا کریں، آپ اپنے ٹھکانے پر واپس چلے جائیں اور وہاں جو آدمی آئیں اس کے سامنے یہ چیزیں بیان کیا کریں، اس پر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ ہماری مجالس میں ضرور تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں، اس طرح مسلمانوں اور مشرکین و یہود کے درمیان تلخ کلامی ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے سے بھڑجاتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں مسلسل خاموش کراتے رہے۔ جب وہ لوگ پرسکون ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں چلے گئے اور ان سے فرمایا سعد! تم نے سنا کہ ابوحباب (عبداللہ بن ابی) نے کیا کہا ہے؟ اس نے اس طرح کہا ہے؟ اس نے اس طرح کہا ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اسے معاف کردیا کریں اور اس سے درگذر فرمایا کریں، بخدا! اللہ نے جو مقام آپ کو دینا تھا وہ دے دی اور نہ یہاں کے لوگ اسے تاج شاہی پہنانے پر متفق ہوچکے تھے لیکن اللہ نے جب اس حق کے ذریعے اسے رد کردیا جو اس نے آپ کو عطاء کیا تو یہ اس پر ناگوار گذرا، اس وجہ سے اس نے ایسی حرکت کی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے معاف فرما دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21767]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2987، م: 1798
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2987، م: 1798
حدیث نمبر: 21768 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَقَدْ اجْتَمَعَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21768]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5663، م: 1798
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5663، م: 1798
حدیث نمبر: 21769 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , أَخبرنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَكِبَ حِمَارًا عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ , وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ , يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ , فَذَكَرَهُ , وَقَالَ: الْبَحْرَةِ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4566، م: 1798
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4566، م: 1798
حدیث نمبر: 21770 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَيْوَةُ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَبَا النَّضْرِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , أَخْبَرَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ , أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ , قَالَ: فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي , قَالَ:" لِمَ" , قَالَ: شَفَقًا عَلَى وَلَدِهَا , أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا , فَقَالَ: " إِنْ كَانَ لَذَلِكَ فَلَا مَا ضَارَّ ذَلِكَ , فَارِسَ وَلَا الرُّومَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں اپنی بیوی سے عزل کرنا چاہتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے وجہ سے پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس کے بچوں کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر صرف اس وجہ سے کرنا چاہتے ہو تو ایسا مت کرو کیونکہ اس چیز سے تو اہل فارس وروم کو بھی نقصان نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21770]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1443
الحكم: إسناده صحيح، م: 1443
حدیث نمبر: 21771 مسند احمد
هَيْثَمٌ ، الْهَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ ، رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْهَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ , حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَمَّا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ , فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ , أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ بِهَا نَحْوَ الْفَرْجِ , قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُشُّ بَعْدَ وُضُوئِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی لے کر نازل ہوئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وضو کرنا بھی سکھایا تھا اور جب وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چلو میں پانی لے کر شرمگاہ کے قریب اسے چھڑک لیا، لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی وضو کے بعد اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21771]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد
حدیث نمبر: 21772 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ , فَسَأَلْتُهُ مَا لَهُ؟ فَقَالَ: " لَمْ يَأْتِنِي جِبْرِيلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ" , قَالَ: فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ بَيْنَ بُيُوتِهِ , فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ , فَبَدَا لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَبَهَشَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ , فَقَالَ:" لَمْ تَأْتِنِي!" , فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ , وَلَا تَصَاوِيرُ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور پر غم اور کسی کمرے میں آثار دیکھے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ تین دن سے میرے پاس جبرائیل نہیں آئے دیکھا تو کتے کا ایک پلاّ کسی کمرے میں چھپا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا تھوڑی ہی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نمودار ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور فرمایا آپ میرے پاس کیوں نہیں آ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے یا تصویریں ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21772]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 21774 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ , عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخِلْ عَلَيَّ أَصْحَابِي" , فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَكَشَفَ الْقِنَاعَ , ثُمَّ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرض الوفات میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو میرے پاس بلا کر لاؤ جب وہ آگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پردہ (چادر کو) ہٹایا اور فرمایا یہودونصاری پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21774]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات وشواهد لأجل قيس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات وشواهد لأجل قيس
حدیث نمبر: 21775 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، قَيْسٌ ، جَامِعٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا قَيْسٌ , عَنْ جَامِعٍ ..... إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَدَخَلُوا عَلَيْهِ وَهُوَ مُتَقَنِّعٌ بِبُرْدٍ لَهُ , مَعَافِرِيٍّ , وَلَمْ يَقُلْ: وَالنَّصَارَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21775]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات وشواهد لأجل قيس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات وشواهد لأجل قيس
حدیث نمبر: 21776 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَبَا عُثْمَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ بَنَاتِهِ , أَنَّ صَبِيًّا لَهَا ابْنًا , أَوْ ابْنَةً قَدْ احْتُضِرَتْ , فَاشْهَدْنَا قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا يَقْرَأُ السَّلَامَ , وَيَقُولُ: " إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى , وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى , فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ" , فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ , فَقَامَ وَقُمْنَا , فَرُفِعَ الصَّبِيُّ إِلَى حِجْرِ , أَوْ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ , وَفِي الْقَوْمِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ , وَأُبَيٌّ أَحْسِبُ , فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هَذِهِ رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ , وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی صاحبزادی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ ان کے بچہ پر نزع کا عالم طاری ہے آپ ہمارے یہاں تشریف لائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا جو لیا وہ بھی اللہ کا ہے اور جو دیا وہ بھی اللہ کا ہے اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک وقت مقرر ہے لہٰذا تمہیں صبر کرنا چاہئے اور اس پر ثواب کی امید رکھنی چاہئے، انہوں نے دوبارہ قاصد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قسم دے کر بھیجا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم بھی ساتھ ہی کھڑے ہوگئے۔ اس بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں لا کر رکھا گیا، اس کی جان نکل رہی تھی لوگوں میں اس وقت حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور غالباً حضرت ابی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جسے دیکھ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21776]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5655، م: 923
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5655، م: 923
حدیث نمبر: 21778 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ , أَنَّهُ قَالَ: " الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21779 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمَيْمَةَ ابْنَةِ زَيْنَبَ , وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلَّهِ مَا أَخَذَ , وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى , وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى" , فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ , فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَبْكِي أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ , وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں (ان کی نواسی) امیمہ بنت زینب کو لایا گیا اس کی روح اس طرح نکل رہی تھی جیسے کسی مشکیزے میں ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لیا وہ بھی اللہ کا ہے اور جو دیا وہ اللہ کا ہے اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک وقت مقرر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جسے دیکھ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ بھی رو رہے ہیں؟ فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1284، م: 923
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1284، م: 923
حدیث نمبر: 21780 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، أَبِي الشَّعْثَاءِ ، ابْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ , قَالَ:" خَرَجْتُ حَاجًّا فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ , فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ السَّارِيَتَيْنِ , مَضَيْتُ حَتَّى لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ , قَالَ: وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ , حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَصَلَّى أَرْبَعًا , قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى , قُلْتُ لَهُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ؟ قَالَ: فَقَالَ: هَاهُنَا , أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّهُ صَلَّى , قَالَ: قُلْتُ: فَكَمْ صَلَّى؟ قَالَ: عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي أَنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمُرًا , ثُمَّ لَمْ أَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى , فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالَ: خَرَجْتُ حَاجًّا , قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ , قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ , حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي , فَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ , ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حج کے ارادے سے نکلا، بیت اللہ شریف میں داخل ہوا جب دو ستونوں کے درمیان پہنچا تو جا کر ایک دیوار سے چمٹ گیا اتنی دیر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ میں کہاں نماز پڑھی تھی انہوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسی پر تو آج تک میں اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں کہ میں نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گذارا لیکن یہ نہ پوچھ سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ اگلے سال میں پھر حج کے ارادے سے نکلا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں پچھلے سال کھڑا ہوا تھا اتنی دیر میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہوگئے پھر وہ مجھ سے مزاحمت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے وہاں سے باہر کردیا اور پھر اس میں چار رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21780]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21781 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ ، مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ , أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ حَدَّثَه , أَنَّ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ يَخْرُجُ فِي مَالٍ لَهُ بِوَادِي الْقُرَى , فَيَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ , فَقُلْتُ لَهُ: لِمَ تَصُومُ فِي السَّفَرِ وَقَدْ كَبِرْتَ وَرَقَقْتَ؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ؟ قَالَ: " إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ , وَيَوْمَ الْخَمِيسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک دن وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے مال کی تلاش میں وادی قری گیا ہوا تھا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ان کے غلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر بوڑھے اور کمزور ہونے کے باوجود بھی پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے میں اتنی پابندی کیوں رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے کسی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21781]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة مولي قدامة، وجهالة مولي أسامة، والمرفوع منه صحيح بطرقه وشواهده
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة مولي قدامة، وجهالة مولي أسامة، والمرفوع منه صحيح بطرقه وشواهده
حدیث نمبر: 21782 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أُسَامَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ , فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ , وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَغَيْرُهُ: إِلَّا أَصْحَابَ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ , إِلَّا أَصْحَابَ النَّارِ , فَقَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ , وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ , فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا النِّسَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت مساکین کی ہے جبکہ مالداروں کو (حساب کتاب کے لئے فرشتوں نے) روکا ہوا ہے البتہ جو جہنمی ہیں انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے اور جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت عورتوں کی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21782]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5196، م: 2736
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5196، م: 2736
حدیث نمبر: 21783 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي ، أُسَامَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ , عَنْ سَيْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَا شَاهِدٌ , قَالَ: " كَانَ سَيْرُهُ الْعَنَقَ , فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ , وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ , وَأَنَا رَدِيفُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رفتار درمیانی تھی جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21783]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2999، م: 1286
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2999، م: 1286