عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ , فَسَأَلْتُهُ مَا لَهُ؟ فَقَالَ: " لَمْ يَأْتِنِي جِبْرِيلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ" , قَالَ: فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ بَيْنَ بُيُوتِهِ , فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ , فَبَدَا لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَبَهَشَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ , فَقَالَ:" لَمْ تَأْتِنِي!" , فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ , وَلَا تَصَاوِيرُ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور پر غم اور کسی کمرے میں آثار دیکھے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ تین دن سے میرے پاس جبرائیل نہیں آئے دیکھا تو کتے کا ایک پلاّ کسی کمرے میں چھپا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا تھوڑی ہی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نمودار ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور فرمایا آپ میرے پاس کیوں نہیں آ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے یا تصویریں ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21772]
الحكم: إسناده قوي