بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 97
صفحہ 1 از 5
حدیث نمبر: 21576 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، شُرَحْبِيلَ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: أَخَذْتُ نُهَسًا بِالْأَسْوَافِ، فَأَخَذَهُ مِنِّي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَأَرْسَلَهُ، وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شرجیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بازار میں لٹورے کی طرح کا ایک پرندہ پکڑ لیا، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو اسے میرے ہاتھ سے لے کر چھوڑ دیا (اور وہ اڑ گیا) اور فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21576]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد
حدیث نمبر: 21577 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، قَالَ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21577]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21578 مسند احمد
الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، الرُّكَيْنِ ، الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ كِتَابُ اللَّهِ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم میں اپنے دو نائب چھوڑ کر جارہا ہوں، ایک تو کتاب اللہ ہے جو کہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکی ہوئی رسی ہے اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں کبھی جدا نہیں ہونگی یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21578]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده دون وقوله: و إنهما لن يتفرقا حتى يردا على الحوض، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
الحكم: حديث صحيح بشواهده دون وقوله: و إنهما لن يتفرقا حتى يردا على الحوض، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 21579 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدٌ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَحَدَّثَهُ حَدِيثًا، فَأَمَرَ إِنْسَانًا أَنْ يَكْتُبَ، فَقَالَ: زَيْدٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ، فَمَحَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ملاقات کے لئے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ان سے کوئی حدیث بیان کی، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ اسے لکھ لے لیکن حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کوئی حدیث بھی لکھنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ انہوں نے اسے مٹا دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21579]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لم يسمع من زيد بن ثابت
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لم يسمع من زيد بن ثابت
حدیث نمبر: 21580 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَأَرْسَلُوا إِلَى خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَبِي قَامَ، أَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُطِيلُ الْقِيَامَ، وَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَدْ أَعْلَمُ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا لِقِرَاءَةٍ، فَأَنَا أَفْعَلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے درمیان نماز ظہر و عصر میں قرأت کے متعلق اختلاف رائے ہونے لگا تو انہوں نے خارجہ بن زید رحمہ اللہ کے پاس ایک آدمی کو یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے بھیجا، انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے رہتے تھے میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ایسا قراءت ہی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اس لئے میں بھی قراءت کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21580]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21581 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21581]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2173، م: 1539، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2173، م: 1539، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21582 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَبَا النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَالِيَ، حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ، فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: " مَا زَالَ بِكُمْ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ، مَا قُمْتُمْ بِهِ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے ایک خیمہ بنایا اور اس میں کئی راتیں نماز پڑھتے رہے حتٰی کہ لوگ بھی جمع ہونے لگے کچھ دنوں کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز نہ آئی تو لوگوں کا خیال ہوا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوگئے اس لئے کچھ لوگ اس کے قریب جا کر کھانسنے لگے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر آجائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں مسلسل تمہارا یہ عمل دیکھ رہا تھا حتٰی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں تم پر یہ نماز (تہجد) فرض نہ ہوجائے، کیونکہ اگر یہ نماز تم پر فرض ہوگئی تو تم اس کی پابندی نہ کرسکو گے اس لئے لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ فرض نمازوں کو چھوڑ کر دوسری نمازیں گھر میں پڑھنا انسان کے لئے سب سے افضل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21582]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 731، م: 781
الحكم: إسناده صحيح، خ: 731، م: 781
حدیث نمبر: 21583 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2173، م: 1539
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2173، م: 1539
حدیث نمبر: 21584 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ" فَأَخْبَرَهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو کٹی ہوئی کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " عرایا " میں اس کی اجازت دے دی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21584]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2173، م: 1534
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2173، م: 1534
حدیث نمبر: 21585 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: " قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سحری کھائی پھر ہم مسجد کی طرف نکلے تو نماز کھڑی ہوگئی، راوی نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21585]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1921، م: 1097
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1921، م: 1097
حدیث نمبر: 21586 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَعَلَ الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ"، وَقَالَ مَرَّةً: قَضَى بِالْعُمْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " عمری " (وہ مکان جسے عمر بھر کے لئے کسی کے حوالے کردیا جائے) وارث کا حق قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21586]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21587 مسند احمد
جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُحْسِنُ السُّرْيَانِيَّةَ؟ إِنَّهَا تَأْتِينِي كُتُبٌ"، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَتَعَلَّمْهَا" فَتَعَلَّمْتُهَا فِي سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تم سریانی زبان اچھی طرح جانتے ہو، کیونکہ میرے پاس خطوط آتے ہیں؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے سیکھ لو، چنانچہ میں نے اسے صرف سترہ دن میں سیکھ لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21587]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان ثابت بن عبيد سمع من مولاه زيد بن ثابت
الحكم: إسناده صحيح إن كان ثابت بن عبيد سمع من مولاه زيد بن ثابت
حدیث نمبر: 21588 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ قَدْ اقْتَتَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ، فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ"، قَالَ: فَسَمِعَ رَافِعٌ قَوْلَهُ:" لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، بخدا! واللہ ان سے زیادہ اس حدیث کو میں جانتا ہوں دراصل ایک مرتبہ دو آدمی لڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری حالت یہی ہونی ہے تو تم زمین کو کرائے پر نہ دیا کرو، جس میں سے رافع رضی اللہ عنہ نے صرف اتنی بات سن لی کہ زمین کو کرائے پر مت دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21588]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21589 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: لَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ، لَعَلَّهُ يَذْهَبُ مِنْ قَلْبِي، قَالَ: " لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ، كَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ جَبَلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَوْ مِتَّ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، لَدَخَلْتَ النَّارَ"، قَالَ: فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ لِي: مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لِي: مِثْلَ ذَلِكَ وَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن دیلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے گیا اور عرض کیا کہ اے ابوالمنذر؟ میرے دل میں تقدیر کے متعلق کچھ وسوسے پیدار ہو رہے ہیں آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جس کی برکت سے میرے دل سے یہ وسوسے دور ہوجائیں انہوں نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کردیں تو اللہ تعالیٰ پھر بھی ان پر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے اور اگر ان پر رحم کردیں تو یہ رحمت ان کے اعمال سے بڑھ کر ہوگی اور اگر تم اللہ کے راستہ میں احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردو گے تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک تم تقدیر پر کامل ایمان نہ لے آؤ اور یہ یقین نہ کرلو کہ تمہیں جو چیز پیش آئی ہے وہ تم سے چوک نہیں سکتی تھی اور جو چیز تم سے چوک گئی ہے وہ تم پر آ نہیں سکتی تھی، اگر تمہاری موت اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر ہوئی تو تم جہنم میں داخل ہوگے۔ پھر میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا۔ پھر میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے یہ جواب دیا۔ پھر میں حضرت زید بن ثابت کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے یہ جواب دیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21589]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 21590 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نَحْوًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، فَقُلْنَا: مَا بَعَثَ إِلَيْهِ السَّاعَةَ إِلَّا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ عَنْهُ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: أَجَلْ، سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا، فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ، فَإِنَّهُ رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثُ خِصَالٍ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ أَبَدًا إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأَمْرِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ"، وَقَالَ:" مَنْ كَانَ هَمُّهُ الْآخِرَةَ، جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَهُ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الدُّنْيَا، فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ"، وَسَأَلَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، وَهِيَ الظُّهْرُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابان بن عثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نصف النہار کے وقت مروان کے پاس سے نکلے ہم آپس میں کہنے لگے کہ مروان نے اس وقت اگر انہیں بلایا ہے تو یقینا کچھ پوچھنے کے لئے ہی بلایا ہوگا، چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہاں! اس نے مجھ سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھا تھا جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو ہم سے کوئی حدیث سنے اسے یاد کرے اور آگے تک پہنچا دے کیونکہ بہت سے لوگ " جو فقہ کی بات اٹھائے ہوتے ہیں " خود فقیہ نہیں ہوتے، البتہ ایسے لوگوں تک بات پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہہ اور سمجھدار ہوتے ہیں۔ اور فرمایا جس شخص کا غم ہی آخرت ہو اللہ اس کے متفرقات کو جمع کردیتا ہے اور اس کے دل کو غنی کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر خود ہی آجاتی ہے اور جس شخص کا مقصد ہی دنیا ہو اللہ اس کے معاملات کو متقرق کردیتا ہے اس کی تنگدستی کو اس کی آنکھوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے اور دنیا پھر بھی اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں لکھی گئی ہوتی ہے۔ اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صلوٰۃ وسطیٰ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز ظہر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21590]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21591 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ، فَلَمْ يَسْجُدْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سورت نجم کی تلاوت کی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1072، م: 577
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1072، م: 577
حدیث نمبر: 21592 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الرُّكَيْنِ الْفَزَارِيِّ ، الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ أَرْضٌ مِنْ أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفًّا يُوَازِي الْعَدُوَّ، وَصَفًّا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً، ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الرُّكَيْنِ الْفَزَارِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنوسلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام " ذی قرد " تھا، نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21593 مسند احمد
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الرُّكَيْنِ الْفَزَارِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21594 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، سَالم ابْنُ النَّضْرِ ، بِسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَالم ابْنُ النَّضْرِ ، عَنْ بِسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ بِحُجْرَةٍ، فَكَانَ يَخْرُجُ يُصَلِّي فِيهَا، فَفَطِنَ لَهُ أَصْحَابُهُ، فَكَانُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے حجرے میں تھے باہر آکر وہ اپنے حجرے میں نماز پڑھتے تھے لوگوں کو پتہ چل گیا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہونے لگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21594]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 731، م: 781
الحكم: إسناده صحيح، خ: 731، م: 781
حدیث نمبر: 21595 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، الزِّبْرِقَانَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزِّبْرِقَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، وَقَالَ: إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ، وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کی گرمی میں پڑھتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے اس سے زیادہ سخت نماز کوئی نہ تھی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی " تمام نمازوں کی اور خصوصیت کے ساتھ درمیانی نماز کی پابندی کیا کرو " اور فرمایا اس سے پہلے بھی دو نمازیں ہیں اور اس کے بعد بھی دو نمازیں ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21595]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح