أَبُو أَحْمَدَ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَأَرْسَلُوا إِلَى خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَبِي قَامَ، أَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُطِيلُ الْقِيَامَ، وَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَدْ أَعْلَمُ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا لِقِرَاءَةٍ، فَأَنَا أَفْعَلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے درمیان نماز ظہر و عصر میں قرأت کے متعلق اختلاف رائے ہونے لگا تو انہوں نے خارجہ بن زید رحمہ اللہ کے پاس ایک آدمی کو یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے بھیجا، انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے رہتے تھے میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ایسا قراءت ہی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اس لئے میں بھی قراءت کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21580]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن