بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 97
صفحہ 3 از 5
حدیث نمبر: 21616 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُ تَسَحَّرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: قُلْتُ لِزَيْدٍ: كَمْ بَيْنَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سحری کھائی پھر ہم مسجد کی طرف نکلے تو نماز کھڑی ہوگئی راوی نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21616]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 575، م: 1097
الحكم: إسناده صحيح، خ: 575، م: 1097
حدیث نمبر: 21617 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: ذلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَّا ، فَنَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا مِنْكُمْ، وَالْآخَرُ مِنَّا، قَالَ: فَتَتَابَعَتْ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّمَا الْإِمَامُ يَكُونُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ:" جَزَاكُمْ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ حَيٍّ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ لَمَا صَالَحْنَاكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا تو انصار کے خطباء کھڑے ہوگئے ان میں سے کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ اے گروہ مہاجرین! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تم میں سے کسی کو کسی کام یا عہدے پر مقرر فرماتے تھے تو ہم میں سے ایک آدمی کو بھی ساتھ ملاتے تھے اس لئے ہماری رائے یہ ہے کہ اس حکومت کے سربراہ بھی دو ہوں، ایک تم میں سے ہو اور ایک ہم میں سے ہو اور خطباء انصار مسلسل اسی بات کو دہرانے لگے۔ اس پر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہاجرین میں سے تھے لہٰذا حکمران بھی مہاجرین میں سے ہوگا، ہم اس کے معاون ہوں گے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معاون تھے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے گروہ انصار! اس قبیلے کی طرف سے اللہ تمہیں جزائے خیر عطاء فرمائے اور تمہارے اس کہنے والے کو ثابت قدم رکھے پھر فرمایا بخدا! اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کرتے تو ہم تم سے متفق نہ ہوتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21618 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَبَاهُ زَيْدًا
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ زَيْدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، قَالَ زَيْدٌ: ذُهِبَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُعْجِبَ بِي، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا غُلَامٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، مَعَهُ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ بِضْعَ عَشْرَةَ سُورَةً، فَأَعْجَبَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " يَا زَيْدُ، تَعَلَّمْ لِي كِتَابَ يَهُودَ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي" قَالَ زَيْدٌ: فَتَعَلَّمْتُ كِتَابَهُمْ، مَا مَرَّتْ بِي خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حَتَّى حَذَقْتُهُ وَكُنْتُ أَقْرَأُ لَهُ كُتُبَهُمْ إِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ، وَأُجِيبُ عَنْهُ إِذَا كَتَبَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے دیکھ کر خوش ہوئے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بنو نجار کے اس لڑکے کو آپ پر نازل ہونے والی قرآن کی کئی سورتیں یاد ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تعجب ہوا اور فرمایا زید! یہودیوں کا طرز تحریر سیکھ لو، کیونکہ اپنے خطوط کے حوالے سے واللہ مجھے یہودیوں پر اعتماد نہیں ہے چنانچہ میں نے ان کی لکھائی سیکھنا شروع کردی اور ابھی پندرہ دن بھی نہیں گذرنے پائے تھے کہ میں اس میں مہارت حاصل کرچکا تھا اور میں ہی ان کے خطوط نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پڑھ کر سناتا تھا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب دیتے تھے تو میں ہی اسے لکھا کرتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21618]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 7195 تعليقا بصيغة الجزم
الحكم: إسناده حسن، خ: 7195 تعليقا بصيغة الجزم
حدیث نمبر: 21619 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: أَتَى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21619]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21620 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَيَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَوَكِيعٌ ، الدَّسْتَوَائِيُّ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ . ح وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ . ح وَوَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَقُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ:" قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً"، قَالَ: قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ: فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ خَمْسِينَ آيَةً .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے تو نماز کھڑی ہوگئی، راوی نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21620]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 575، م: 1097
الحكم: إسناده صحيح، خ: 575، م: 1097
حدیث نمبر: 21621 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الدَّسْتَوَائِيُّ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ:" قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے تو نماز کھڑی ہوگئی، راوی نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21621]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21622 مسند احمد
وَكِيعٌ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُطِيلُ الْقِيَامَ، وَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کسی نے ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان میں قیام لمبا فرماتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21622]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، المطلب بن عبدالله لم يسمعه من زيد بن ثابت
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، المطلب بن عبدالله لم يسمعه من زيد بن ثابت
حدیث نمبر: 21623 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَيَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا: أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَرَأْتُ (وَالنَّجْمِ) ، فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا ، قَالَ يَزِيدُ: قَرَأْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سورت نجم کی تلاوت کی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21623]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1072، م: 577
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1072، م: 577
حدیث نمبر: 21624 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فرض نمازوں کو چھوڑ کر دوسری نمازیں گھر میں پڑھنا انسان کے لئے سب سے افضل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21624]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 731، م: 781
الحكم: إسناده صحيح، خ: 731، م: 781
حدیث نمبر: 21625 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ"، وَقَالَ عُثْمَانُ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21625]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عقبة بن عبدالرحمن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عقبة بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 21626 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، طَاوُسٍ ، رَجُلٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ الرُّقْبَى لِلْوَارِثِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " عمری " (وہ مکان جسے عمر بھر کے لئے کسی کے حوالے کردیا جائے) وارث کا حق قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21626]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح، الرجل المبهم هو حجر المدري، فهو ثقة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح، الرجل المبهم هو حجر المدري، فهو ثقة
حدیث نمبر: 21627 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21627]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2173، م: 1539
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2173، م: 1539
حدیث نمبر: 21628 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ قَدْ اقْتَتَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ، فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ"، قَالَ: فَسَمِعَ رَافِعٌ، قَوْلَهُ:" لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، بخدا! ان سے زیادہ اس حدیث کو میں جانتا ہوں دراصل ایک مرتبہ دو آدمی لڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری حالت یہی ہونی ہے تو تم زمین کو کرائے پر نہ دیا کرو جس میں سے رافع رضی اللہ عنہ نے صرف اتنی بات سن لی کہ زمین کو کرائے پر مت دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21628]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21629 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، قَالَ: قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا، وَقَالَ: " النَّاسُ حَيِّزٌ، وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ"، وَقَالَ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ" ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ كَذَبْتَ، وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ، فَرَفَعَ عَلَيْهِ مَرْوَانُ الدِّرَّةَ لِيَضْرِبَهُ، فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالَا: صَدَقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورت نصر نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مکمل سنائی اور فرمایا تمام لوگ ایک طرف ہیں اور میں اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہ ایک پلڑے میں ہیں اور فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت کا ثواب باقی ہے یہ حدیث سن کر مروان نے ان کی تکذیب کی اس وقت وہاں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے جو مروان کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اگر یہ دونوں چاہیں تو تم سے یہ حدیث بیان کرسکتے ہیں لیکن ان میں سے ایک کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے ان کی قوم کی چوہدارہٹ چھین لو گے اور دوسرے کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے صدقات روک لو گے اس پر وہ دونوں حضرات خاموش رہے اور مروان نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنے کے لئے کوڑا اٹھا لیا یہ دیکھ کر ان دونوں حضرات نے فرمایا یہ سچ کہہ رہے ہیں۔ فائدہ۔ اس روایت کی صحت پر راقم الحروف کو شرح صدر نہیں ہو پارہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21629]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: الناس حيز وأنا وأصحابي حيز، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: الناس حيز وأنا وأصحابي حيز، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 21630 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ : أَخْبَرَنِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ فَرَجَعَ أُنَاسٌ خَرَجُوا مَعَهُ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَانِ، فِرْقَةٌ تَقُولُ بِقَتْلِهِمْ، وَفِرْقَةٌ تَقُولُ لَا، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ، فَرِيقًا يَقُولُونَ: بِقَتْلِهِمْ، وَفَرِيقًا يَقُولُونَ: لَا، قَالَ بَهْزٌ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا طَيْبَةُ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ"، حَدَّثَنَاه عَفَّانُ، وَقَالَ: فِيهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ بَهْزٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ احد کے لئے روانہ ہوئے تو لشکر کے کچھ لوگ راستے ہی سے واپس آگئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے اور گروہ ثانی کہتا تھا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ ہے یہ گندگی کو اسی طرح دور کردیتا ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21631 مسند احمد
كَثِيرٌ ، جَعْفَرٍ ، ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ، قُلْتُ: وَمَا الْمُخَابَرَةُ؟ قَالَ تَأْجُرُ الْأَرْضَ: بِنِصْفٍ، أَوْ بِثُلُثٍ، أَوْ بِرُبُعٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں " مخابرہ " سے منع فرمایا ہے، میں نے " مخابرہ " کا معنی پوچھا تو فرمایا زمین کو نصف، تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر لینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21631]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21632 مسند احمد
مَكِّيٌّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْد بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْد بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حُجْرَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيُصَلِّي فِيهَا، فَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ يَعْنِي رِجَالًا، وَكَانُوا يَأْتُونَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةٌ مِنَ اللَّيَالِي، لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحْنَحُوا وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: " أَيُّهَا النَّاسُ، مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے ایک خیمہ بنایا اور اس میں کئی راتیں نماز پڑھتے رہے حتٰی کہ لوگ بھی جمع ہونے لگے کچھ دنوں کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز نہیں آئی تو لوگوں کا خیال ہوا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوگئے اس لئے کچھ لوگ اس کے قریب جا کر کھانسنے لگے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر آجائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں مسلسل تمہارا یہ عمل دیکھ رہا تھا حتٰی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں تم پر یہ نماز (تہجد) فرض نہ ہوجائے، کیونکہ اگر یہ نماز تم پر فرض ہوگئی تو تم اس کی پابندی نہ کرسکو گے اس لئے لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ فرض نمازوں کو چھوڑ کر دوسری نمازیں گھر میں پڑھنا انسان کے لئے سب سے افضل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21632]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 731، م: 781
الحكم: إسناده صحيح، خ: 731، م: 781
حدیث نمبر: 21633 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَلَمْ أَرَكَ اللَّيْلَةَ خَفَّفْتَ الْقِرَاءَةَ فِي سَجْدَتَيْ الْمَغْرِبِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقْرَأُ فِيهِمَا بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مروان سے فرمایا میں دیکھ رہاہوں کہ تم نے مغرب کی نماز بہت ہی مختصر پڑھائی ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز مغرب میں سورت اعراف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21633]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 764، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 764، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21634 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ : أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ، رَجَعَ أُنَاسٌ خَرَجُوا مَعَهُ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةٌ تَقُولُ: نَقْتُلُهُمْ، وَفِرْقَةٌ تَقُولُ: لَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَكَانَ فَرِيقٌ يَقُولُونَ: قَتْلَهُمْ، وَفَرِيقٌ يَقُولُونَ: لَا، قَالَ بَهْزٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا طَيْبَةُ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ احد کے لئے روانہ ہوئے تو لشکر کے کچھ لوگ راستے ہی سے واپس آگئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے اور گروہ ثانی کہتا تھا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ ہے یہ گندگی کو اسی طرح دور کردیتا ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21634]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21635 مسند احمد
فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ ، جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ ، عَنْ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ :" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ"، قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: مَا الْمُخَابَرَةُ؟ قَالَ: " أَنْ تَأْخُذَ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ أَوْ بِثُلُثٍ أَوْ بِرُبُعٍ، أَوْ بِأَشْبَاهِ هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں " مخابرہ " سے منع فرمایا ہے، میں نے " مخابرہ " کا معنی پوچھا تو فرمایا زمین کو نصف، تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر لینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21635]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد