بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِيَّةُ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 26
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 19369 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ، فَيَرْمِي أَحَدُنَا الصَّيْدَ، فَيَغِيبُ عَنْهُ لَيْلَةً، أَوْ لَيْلَتَيْنِ، فَيَجِدُهُ وَفِيهِ سَهْمُهُ؟ قَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ سَهْمَكَ، وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِهِ، وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ، فَكُلْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض یا کہ ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیرپھینکتا ہے وہ شکار ایک دو دن تک اس سے غائب رہتا ہے پھر وہ اسے پالیتا ہے اور اس کے جسم میں اس کاتیرپیوست ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس میں اپناتیر دیکھ لو اور کسی دوسری چیز کا کوئی اثرنظر نہ آئے اور تمہیں یقین ہو کہ تمہارے ہی تیرنے اسے قتل کیا ہے تو تم اسے کھالو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929
حدیث نمبر: 19370 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: عَمَدْتُ إِلَى عِقَالَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَسْوَدُ، وَالْآخَرُ أَبْيَضُ، فَجَعَلْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادِي، قَالَ: ثُمَّ جَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، فَلَا تُبِينُ لِي الْأَسْوَدَ مِنَ الْأَبْيَضِ، وَلَا الْأَبْيَضَ مِنَ الْأَسْوَدِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ وِسَادُكَ إِذًا لَعَرِيضًا، إِنَّمَا ذَلِكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی " رمضان کی رات میں تم اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک تمہارے سامنے سفید دھاگے کالے دھاگے سے واضح اور ممتاز نہ ہوجائے " تو میں نے دو دھاگے لئے ایک کالے رنگ کا اور ایک سفید رنگ کا اور انہیں ایک تکیے کے نیچے رکھ لیا میں انہیں دیکھتا رہا لیکن کالا دھاگہ سفید سے اور سفید دھاگہ کالے سے جدا نہ ہوا صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا تکیہ تو بڑا چوڑا ہے اس سے مراد دن کی روشنی اور رات کی تاریکی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1916، م: 1090
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1916، م: 1090
حدیث نمبر: 19371 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مُجَالِدٌ ، وَزَكَرِيَّا ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، وَزَكَرِيَّا ، وَغَيْرُهُمَا، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ، فَخَزَقَ، فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ، فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، فَلَا تَأْكُلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے ماراہو تو اسے کھاسکتے ہو لیکن جسے تیر کی چوڑائی سے ماراہو وہ موقوذہ (چوٹ سے مرنے والے جانور) کے حکم میں ہے اس لئے اسے مت کھاؤ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5475، م: 1928
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5475، م: 1928
حدیث نمبر: 19372 مسند احمد
عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُرْسِلُ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ، فَيَأْخُذُ، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَخَذَ، فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ"، قَالَ: قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ، قَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ، فَكُلْ، وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ، فَلَا تَأْكُلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اپنے سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کھالیا کرو میں نے عرض کیا اگرچہ وہ اسے ماردے؟ نبی کریم نے فرمایا ہاں! بشرطیکہ دوسرے کتے اس کے ساتھ شریک نہ ہوئے ہوں میں نے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے ماراہو تو اسے کھاسکتے ہو لیکن جسے تیر کی چوڑائی سے مارا ہو اسے مت کھاؤ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19372]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5475، م: 1929
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5475، م: 1929
حدیث نمبر: 19373 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، خَيْثَمَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ"، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَلْيَفْعَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے جس سے اس کا پروردگار براہ راست بغیر کسی ترجمان کے گفتگونہ کرے وہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو صرف وہی نظر آئے گا جو اس وقت خود آگے بھیجا ہوگا بائیں جانب دیکھے گا تو بھی وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے خود آگے بھیجا ہوگا اور سامنے دیکھے گا تو جہنم کی آگ اس کا استقبال کرے گی اس لئے تم میں سے جو شخص جہنم سے بچ سکتا ہو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے عوض تو وہ ایساہی کرے ' [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6539، م: 1016
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6539، م: 1016
حدیث نمبر: 19374 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٌ ، مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيَفْعَلُ كَذَا، قَالَ:" إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ شَيْئًا فَأَدْرَكَهُ" . قَالَ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْمِي الصَّيْدَ، وَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا؟ قَالَ: " أَمَرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، ثُمَّ اذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" . قُلْتُ: طَعَامٌ مَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا؟ قَالَ: " مَا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً، فَلَا تَدَعْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی سے مروی ہے کہ ایک میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میرے والد صاحب صلہ رحمی اور فلاں فلاں کام کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ کا ایک مقصد (شہرت ') تھا جو اس نے پالیا۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم جب شکار کرتے ہیں تو بعض اوقات چھری نہیں ملتی صرف نوکیلے پتھریالاٹھی کی تیزدھارہوتی ہے تو کیا کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کا نام لے کر جس چیز سے بھی چاہوخون بہادو۔ میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اس کھانے کے متعلق پوچھتاہوں جو میں صرف مجبوری کے وقت چھوڑوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسی چیز مت چھوڑو جس میں تم عیسائیت کے مشابہہ معلوم ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19374]
حکم دارالسلام
قوله :إن أباك أراد شيئا فأدركه حسن، وقوله: أمر الدم بما شئت ….. صحيح، وهذا إسناد ضيعف لجهالة مري بن قطري
الحكم: قوله :إن أباك أراد شيئا فأدركه حسن، وقوله: أمر الدم بما شئت ….. صحيح، وهذا إسناد ضيعف لجهالة مري بن قطري
حدیث نمبر: 19375 مسند احمد
يَحْيَى ، مُجَالِدٍ ، عَامِرٌ ، عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، قَالَ:" صَلِّ كَذَا وَكَذَا، وَصُمْ، فَإِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ، فَكُلْ وَاشْرَبْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، وَصُمْ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، إِلَّا أَنْ تَرَى الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ"، فَأَخَذْتُ خَيْطَيْنِ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ وَأَبْيَضَ، فَكُنْتُ أَنْظُرُ فِيهِمَا، فَلَا يَتَبَيَّنُ لِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، وَقَالَ:" يَا ابْنَ حَاتِمٍ، إِنَّمَا ذَاكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز روزے کی تعلیم دی اور فرمایا فلاں فلاں وقت نماز پڑھو، روزہ رکھوجب سورج غروب ہوجائے تو کھاؤ پیو جب تک تمہارے سامنے سفید دھاگے کالے دھاگے سے واضح اور ممتاز نہ ہوجائے " اور تیس روزے رکھو الا یہ کہ اس سے پہلے ہی چاند نظر آجائے تو میں نے دو دھاگے لئے ایک کالے رنگ کا اور ایک سفید رنگ کا اور انہیں ایک تکیے کے نیچے رکھ لیا میں انہیں دیکھتارہا لیکن کالا دھاگہ سفید سے اور سفید دھاگہ کالے سے جدا نہ ہوا صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا تکیہ تو بڑا چوڑا ہے اس سے مراد دن کی روشنی اور رات کی تاریکی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19375]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1916، م: 1090، مجالد ضعيف لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1916، م: 1090، مجالد ضعيف لكنه توبع
حدیث نمبر: 19376 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْمِي الصَّيْدَ، فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ، فَأَجِدُ فِيهِ سَهْمِي؟ فَقَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ ؛ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ، فَكُلْ" ، فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بِشْرٍ، فَقَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ، فَكُلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض یا کہ ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیرپھینکتا ہے وہ شکار ایک دو دن تک اس سے غائب رہتا ہے پھر وہ اسے پالیتا ہے اور اس کے جسم میں اس کاتیرپیوست ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس میں اپناتیر دیکھ لو اور کسی درندے نے اسے کھایانہ ہو تو تم اسے کھالو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929
حدیث نمبر: 19377 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص جہنم سے بچ سکتا ہو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے عوض تو وہ ایساہی کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19377]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 957
الحكم: إسناده صحيح، م: 957
حدیث نمبر: 19378 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدِ ، ابْنِ حُذَيْفَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ، عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أُحَدَّثُ حَدِيثًا عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، فَقُلْتُ: هَذَا عَدِيٌّ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ، فَلَوْ أَتَيْتُهُ، فَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أُحَدَّثُ عَنْكَ حَدِيثًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْكَ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَرْتُ مِنْهُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَقْصَى أَرْضِ الْمُسْلِمِينَ مِمَّا يَلِي الرُّومَ، قَالَ: فَكَرِهْتُ مَكَانِي الَّذِي أَنَا فِيهِ، حَتَّى كُنْتُ لَهُ أَشَدَّ كَرَاهِيَةً لَهُ مِنِّي مِنْ حَيْثُ جِئْتُ، قَالَ: قُلْتُ: لَآتِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ صَادِقًا، فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ، وَلَئِنْ كَانَ كَاذِبًا، مَا هُوَ بِضَائِرِي، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، وَاسْتَشْرَفَنِي النَّاسُ، وَقَالُوا: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ! قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي مِنْ أَهْلِ دِينٍ، قَالَ:" يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي مِنْ أَهْلِ دِينٍ، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ:" أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ"، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِينِي مِنِّي؟! قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" أَلَيْسَ تَرْأَسُ قَوْمَكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى قَالَ: فَذَكَرَ مُحَمَّدٌ الرَّكُوسِيَّةَ، قَالَ كَلِمَةً الْتَمَسَهَا يُقِيمُهَا، فَتَرَكَهَا قَالَ:" فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ فِي دِينِكَ الْمِرْبَاعُ"، قَالَ: فَلَمَّا قَالَهَا، تَوَاضَعَتْ مِنِّي هُنَيَّةٌ، قَالَ: وَقَالَ:" إِنِّي قَدْ أَرَى أَنَّ مِمَّا يَمْنَعُكَ خَصَاصَةٌ تَرَاهَا بِمَّنْ حَوْلِي، وَأَنَّ النَّاسَ عَلَيْنَا أَلْبٌ وَاحِد، هَلْ تَعْلَمُ مَكَانَ الْحِيرَةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: قَدْ سَمِعْتُ بِهَا،، وَلَمْ آتِهَا، قَالَ:" لَتُوشِكَنَّ الظَّعِينَةُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهَا بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ"، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: جِوَار، وَقَالَ يُونُسُ، عَنْ حَمَّادٍ: جَوَازٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ" حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ، وَلَتُوشِكَنَّ كُنُوزُ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ أَنْ تُفْتَحَ"، قَالَ: قُلْتُ: كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ؟! قَالَ:" كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ"، قَالَ: قُلْتُ: كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ؟! قَالَ:" كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،" وَلَيُوشِكَنَّ أَنْ يَبْتَغِيَ مَنْ يَقْبَلُ مَالَهُ مِنْهُ صَدَقَةً، فَلَا يَجِدُ"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ ثِنْتَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَخْرُجُ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ، وَكُنْتُ فِي الْخَيْلِ الَّتِي غَارَتْ وَقَالَ يُونُسُ، عَنْ حَمَّادٍ: أَغَارَتْ عَلَى الْمَدَائِنِ، وَايْمُ اللَّهِ، لَتَكُونَنَّ الثَّالِثَةُ، إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن حذیفہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی میں نے سوچا کہ وہ کوفہ میں آئے ہوئے ہیں میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر براہ راست ان سے اس کا سماع کرتا ہوں چناچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے لیکن میں اسے خود آپ سے سننا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا بہت اچھاجب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعلان نبوت کی خبرملی تو مجھے اس پر بڑی ناگواری ہوئی میں اپنے علاقے سے نکل کر روم کے ایک کنارے پہنچا اور قیصر کے پاس چلا گیا لیکن وہاں پہنچ کر مجھے اس سے زیادہ شدیدناگواری ہوئی جو بعثت نبوت کی اطلاع ملنے پر ہوئی تھی، میں نے سوچا کہ میں اس شخص کے پاس جاکرتودیکھوں اگر وہ جھوتاہو تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا اور اگر سچا ہوا تو مجھے معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ میں واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں پہنچا تو لوگوں نے " عدی بن حاتم، عدی بن حاتم " کہنا شروع کردیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا اے عدی! اسلام قبول کرلو سلامتی پاجاؤگے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا میں نے عرض کیا کہ میں تو پہلے سے ایک دین پر قائم ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم سے زیادہ تمہارے دین کو جانتاہوں میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ سے زیادہ میرے دین کو جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیا تم " رکوسیہ " میں سے نہیں ہو جو اپنی قوم کا چوتھائی مال غنیمت کھاجاتے ہیں؟ میں نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حالانکہ یہ تمہارے دین میں حلال نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے آگے جو بات فرمائی میں اس کے آگے جھک گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جانتاہوں کہ تمہیں اسلام قبول کرنے میں کون سی چیز مانع لگ رہی ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ اس دین کے پیروکار کمزور اور بےمایہ لوگ ہیں جنہیں عرب نے دھتکاردیا ہے یہ بتاؤ کہ تم شہرحیرہ کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ دیکھاتو نہیں ہے البتہ سناضرور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اللہ اس دین کو مکمل کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک عورت حیرہ سے نکلے گی اور کسی محافظ کے بغیربیت اللہ کا طواف کر آئے گی اور عنقریب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح ہوں گے میں نے تعجب سے پوچھا کسریٰ بن ہرمز کے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! کسریٰ بن ہرمز کے اور عنقریب اتنامال خرچ کیا جائے گا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واقعی اب ایک عورت حیرہ سے نکلتی ہے اور کسی محافظ کے بغیربیت اللہ کا طواف کر جاتی ہے اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں کو فتح کرنے والوں میں تو میں خود بھی شامل تھا اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تیسری بات بھی وقوع پذیر ہو کررہے گی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19378]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19379 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا وَقَعَتْ رَمِيَّتُكَ فِي الْمَاءِ، فَغَرِقَ، فَلَا تَأْكُلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہارا شکارپانی میں گر کر غرق ہوجائے تو اسے مت کھاؤ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929
حدیث نمبر: 19380 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ يَسْأَلُهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ اسْتَقَلَّهُ، فَحَلَفَ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرِهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ" . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ مَا سَمِعْتُهُ قَطُّ مِنْ أَحَدٍ، إِلَّا مِنْ أَبِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے پاس آیا اور ان سے سو درہم مانگے انہوں نے فرمایا کہ تو مجھ سے صرف سو درہم مانگ رہا ہے جبکہ میں حاتم طائی کا بیٹاہوں، واللہ میں تجھے کچھ نہیں دوں گا پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی بات پر قسم کھائے پھر کسی اور چیز میں بہتری محسوس کرے تو وہی کام کرے جس میں بہتری ہو (اور قسم کا کفارہ دے دے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19380]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عمرو
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عمرو
حدیث نمبر: 19381 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ ، عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ سَمِعْتُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِعَقْرَبٍ، فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا، قَالَ: فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَصَفُّوا لَهُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَأَى الْوَافِدُ، وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ، وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، مَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ، فَمُنَّ عَلَيَّ، مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، قَالَ:" مَنْ وَافِدُكِ؟"، قَالَتْ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ:" الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟!"، قَالَتْ: فَمَنَّ عَلَيَّ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ نَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ ؛ قَالَ:" سَلِيهِ حُمْلَانًا"، قَالَ: فَسَأَلَتْهُ، فَأَمَرَ لَهَا، قَالَتْ: فَأَتَانِي، فَقَالَتْ: لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا، قَالَتْ: ائْتِهِ رَاغِبًا، أَوْ رَاهِبًا، فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ، فَأَصَابَ مِنْهُ، وَأَتَاهُ فُلَانٌ، فَأَصَابَ مِنْهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَوْ صَبِيٌّ فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مُلْكُ كِسْرَى، وَلَا قَيْصَرَ، فَقَالَ لَهُ:" يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ! مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ؟! مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ؟ فَهَلْ شَيْءٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟!" قَالَ: فَأَسْلَمْتُ، فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ، وَقَالَ: " إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ الْيَهُودُ، وَالضَّالِّينَ النَّصَارَي"، ثُمَّ سَأَلُوهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَلَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أَنْ تَرْضَخُوا مِنَ الْفَضْلِ، ارْتَضَخَ امْرُؤٌ بِصَاعٍ، بِبَعْضِ صَاعٍ، بِقَبْضَةٍ، بِبَعْضِ قَبْضَةٍ"، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ:" بِتَمْرَةٍ، بِشِقِّ تَمْرَةٍ"،" وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ: أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا؟! أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا؟! فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَجِدُ شَيْئًا، فَمَا يَتَّقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهُ، فَبِكَلِمَةٍ لَيِّنَةٍ، إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَاقَةَ، لَيَنْصُرَنَّكُمْ اللَّهُ تَعَالَى، وَلَيُعْطِيَنَّكُمْ أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ، ويَثْرِبَ، إِنْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ السَّرَقَ عَلَى ظَعِينَتِهَا" ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: حَدَّثَنَاهُ شُعْبَةُ مَا لَا أُحْصِيهِ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میں " عقرب " نامی مقام پر تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شہسوار ہم تک آپہنچے انہوں نے میری پھوپھی اور بہت سے لوگوں کو گرفتار کرلیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہیں ایک صف میں کھڑا کردیا گیا میری پھوپھی نے کہا یا رسول اللہ! رونے والے دورچلے گئے اور بچے بچھڑگئے میں بہت بوڑھی ہوچکی ہوں کسی قسم کی خدمت بھی نہیں کرسکتی اس لئے مجھ پر مہربانی فرمائیے اللہ آپ پر مہربانی کرے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا تمہیں کون لایا ہے؟ انہوں نے بتایاعدی بن حاتم، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہی جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگا پھر رہا ہے اس نے کہ پھر بھی آپ مجھ پر مہربانی فرمائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس جانے لگے تو ان کے پہلو میں ایک آدمی تھا جو غالباً حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ان سے سواری کا جانورمانگ لو، میں نے ان سے درخو اس کی تو انہوں نے میرے لئے اس کا حکم دے دیا۔ تھوڑی دیربعدعدی ان کے پاس گئے تو وہ کہنے لگیں کہ تم نے ایساکام کیا جو تمہارے باپ نے نہیں کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس شوق سے جاؤیاخوف سے (لیکن جاؤضرور) کیونکہ فلاں آدمی ان کے پاس گیا تھا تو اسے بھی کچھ مل گیا اور فلاں آدمی بھی گیا تھا اور اسے بھی کچھ مل گیا چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں ایک عورت اور کچھ بچے بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کے قریب ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھ گیا کہ یہ قیصروکسریٰ جیسے بادشاہ نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اے عدی! لا الہ الا اللہ کہنے سے تمہیں کون سی چیزراہ فرار پر مجبور کرتی ہے؟ کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے؟ تمہیں " اللہ اکبر " کہنے سے کون سی چیزراہ فرار پر مجبور کرتی ہے؟ کیا اللہ سے بڑی بھی کوئی چیز ہے؟ اس پر میں نے اسلام قبول کرلیا اور میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے کھل اٹھا اور فرمایا جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا وہ یہودی ہیں اور جو گمراہ ہوئے وہ عیسائی ہیں۔ پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ مانگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء سے فارغ ہو کر " امابعد " کہہ کر فرمایا لوگو! زائد چیزیں اکٹھی کرو چناچہ کسی نے ایک صاع کسی نے نصف صاع کسی نے ایک مٹھی اور کسی نے آدھی مٹھی دی، پھر فرمایا تم لوگ اللہ سے ملنے والے ہو، اس وقت ایک کہنے والا وہی کہے گا جو میں کہہ رہاہوں کہ کیا میں نے تمہیں سننے اور دیکھنے والا نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ تم نے آگے کیا بھیجا؟ وہ اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھے گا لیکن کچھ نہیں ملے گا اور اپنی ذات کے علاوہ کسی چیز کے ذریعے آگ سے نہیں بچ سکے گا اس لئے تم جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے ہو اگر وہ بھی نہ ملے تو نرمی سے بات کرکے بچو مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں ہے اللہ تمہاری مددضرور کرے گا اور تمہیں ضرورمال و دولت دے گا یا اتنی فتوحات ہوں گی کہ ایک عورت حیرہ اور مدینہ کے درمیان اکیلی سفر کرلیا کرے گی حالانکہ عورت کے پاس سے چوری ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19381]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وفي هذا الإسناد عباد بن حبيش مجهول
الحكم: بعضه صحيح، وفي هذا الإسناد عباد بن حبيش مجهول
حدیث نمبر: 19382 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: مَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ، قُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو ان " دونوں " کی نافرمانی کرتا ہے وہ گمراہ ہوجاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بہت برے خطیب ہو، یہاں سے آٹھ جاؤ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 870
الحكم: إسناده صحيح، م: 870
حدیث نمبر: 19383 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مُجَالِدٌ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ، فَسَمَّيْتَ عَلَيْهِ، فَأَخَذَ، فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ، فَذَكِّهِ، وَإِنْ قَتَلَ، فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَلَا تَأْكُلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کتے کے ذریعے شکار کے متعلق دریافت کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو تو اس نے تمہارے لئے جو شکار پکڑا ہو اور خود نہ کھایا ہو تو اسے کھالو اور اگر تم نے شکارکوزندہ پایا تو اسے ذبح کرلو اور اگر کتے نے اس میں سے کچھ کھالیاہو تو تم اسے نہ کھاؤ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19383]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 19384 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، رَجُلٍ ، وَهِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، عَنْ رَجُلٍ. قَالَ حَمَّادٌ: وَهِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ رَجُلٍ. قَالَ حَمَّادٌ يَعْنِي كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَهُوَ إِلَى جَنْبِي لَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَسَأَلْتُهُ. فَقَالَ: نَعَمْ، بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بُعِثَ، فَكَرِهْتُهُ أَشَدَّ مَا كَرِهْتُ شَيْئًا قَطُّ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے لیکن میں اسے خود آپ سے سننا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا بہت اچھاجب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعلان نبوت کی خبرملی تو مجھے اس پر بڑی ناگواری ہوئی۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19384]
حکم دارالسلام
إسنادهما حسنان
الحكم: إسنادهما حسنان
حدیث نمبر: 19385 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، رَجُلٍ ، لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد حسن، وقوله فى الإسناد:عن رجل خطا
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد حسن، وقوله فى الإسناد:عن رجل خطا
حدیث نمبر: 19386 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، مُرَيِّ ابْنِ قَطَرِيٍّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُرَيِّ ابْنِ قَطَرِيٍّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ؟ يَعْنِي مِنْ أَجْرٍ، قَالَ: " إِنَّ أَبَاكَ طَلَبَ أَمْرًا، فَأَصَابَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی سے مروی ہے کہ ایک میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میرے والد صاحب صلہ رحمی اور فلاں فلاں کام کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ کا ایک مقصد (شہرت ') تھا جو اس نے پالیا [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19386]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضيعف لجهالة مري بن قطري، مؤمل ضعيف لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضيعف لجهالة مري بن قطري، مؤمل ضعيف لكنه توبع
حدیث نمبر: 19387 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، خَيْثَمَةَ ، ابْنِ مَعْقِلٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّقُوا النَّارَ"، قَالَ: فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ:" اتَّقُوا النَّارَ"، وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ قَالَ: قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کی آگ سے بچو، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نفرت سے اس طرح منہ پھیرلیاگویا جہنم کو دیکھ رہے ہوں، دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا پھر فرمایا جہنم کی آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے عوض ہی ہو اگر وہ بھی نہ مل سکے تو اچھی بات ہی کرلو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19387]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد أخطأ فيه شريك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد أخطأ فيه شريك
حدیث نمبر: 19388 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَامِرٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ، فَقَالَ: " إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ بِسَهْمِهِ، فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِنْ قَتَلَ فَلْيَأْكُلْ، وَإِنْ وَقَعَ فِي مَاءٍ، فَوَجَدَهُ مَيْتًا، فَلَا يَأْكُلْهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الْمَاءَ قَتَلَهُ، فَإِنْ وَجَدَ سَهْمَهُ فِي صَيْدٍ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ اثْنَيْنِ، وَلَمْ يَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِهِ، فَإِنْ شَاءَ فَلْيَأْكُلْهُ"، قَالَ:" وَإِذَا أَرْسَلَ عَلَيْهِ كَلْبَهُ، فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ أَدْرَكَهُ قَدْ قَتَلَهُ، فَلْيَأْكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَلَا يَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَلَمْ يُمْسِكْ عَلَيْهِ، وَإِنْ أَرْسَلَ كَلْبَهُ، فَخَالَطَ كِلَابًا لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا، فَلَا يَأْكُلْ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم شکاری لوگ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص شکار پر تیر چلائے تو اللہ کا نام لے لے، اگر اس تیر سے شکارمرجائے تو اسے کھالے اور پانی میں گر کر مرجائے تو نہ کھائے کیونکہ ہوسکتا ہے وہ پانی کی وجہ سے مراہو اور اگر ایک دو دن کے بعد کسی شکار میں اپنے تیرنظر آئے اور اس پر کسی دوسرے کے تیر کانشان نہ ہو سو اگر دل چاہے تو اسے کھالے اور اگر شکاری کتا چھوڑے تو اللہ کا نام لے لے پھر اگر وہ شکارمرا ہوا ملے تو اسے کھالے اور اگر کتے نے اس میں سے کچھ کھالیا ہو تو نہ کھائے کیونکہ اس نے اسے اپنے لئے شکار کیا ہے اپنے مالک کے لئے نہیں اور اگر اس نے اپنا کتا چھوڑا اور اس کے ساتھ دوسرے کتے ملے گئے جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا تو اسے بھی نہ کھائے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ ان میں سے کون سے کتے نے اسے قتل کیا ہے۔ ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے لیکن میں اسے خود آپ سے سننا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا بہت اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کیا تم " رکوسیہ " میں سے نہیں ہو جو اپنی قوم کا چوتھائی مال غنیمت کھاجاتے ہیں؟ میں نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حالانکہ یہ تمہارے دین میں حلال نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے آگے جو بات بھی فرمائی میں اس کے آگے جھک گیا۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19388]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929