بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِيَّةُ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 26
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 19389 مسند احمد
حُسَيْن ، جَرِيرٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، رَجُلًا ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْن ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: قُلْتُ: أَسْأَلُ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ، أَفَلَا أَكُونُ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْهُ؟! فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: نَعَمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ فِيهِ:" أَلَسْتَ رَكُوسِيًّا؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَوَلَسْتَ تَرْأَسُ قَوْمَكَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَوَلَسْتَ تَأْخُذُ الْمِرْبَاعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ذَاكَ لَا يَحِلُّ لَكَ فِي دِينِكِ، قَالَ: فَتَوَاضَعَتْ مِنِّي نَفْسِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19390 مسند احمد
يَزِيدُ ، زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ"، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ، فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ، وَقَدْ قَتَلَهُ، وَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَ مَعَهُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے ماراہو تو اسے کھاسکتے ہو لیکن جسے تیر کی چوڑائی سے ماراہو وہ موقوذہ (چوٹ سے مرنے والے جانور) کے حکم میں ہے پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کتے کے ذریعے شکار کے متعلق دریافت کیا (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو تو اسے کھاسکتے ہو) اس نے تمہارے لئے جو شکار پکڑا ہو اور خود نہ کھایا ہو تو اسے کھالو کیونکہ اس کا پکڑناہی اسے ذبح کرنا ہے اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ اس دوسرے کتے نے شکار کو پکڑا اور قتل کیا ہوگا تو تم اسے مت کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا دوسرے کے کتے پر نہیں لیا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19390]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5475، م: 1929
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5475، م: 1929
حدیث نمبر: 19391 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، وَعَنْ نَاسٍ ذَكَرَهُمْ شُعْبَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، فَلَا تَأْكُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي؟ قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَسَمَّيْتَ، فَأَخَذَ، فَكُلْ، فَإِذَا أَكَلَ مِنْهُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي، فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ؟ قَالَ:" لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے ماراہو تو اسے کھاسکتے ہو لیکن جسے تیر کی چوڑائی سے ماراہو وہ موقوذہ (چوٹ سے مرنے والے جانور) کے حکم میں ہے پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کتے کے ذریعے شکار کے متعلق دریافت کیا (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو تو اسے کھاسکتے ہو) اس نے تمہارے لئے جو شکار پکڑا ہو اور خود نہ کھایا ہو تو اسے کھالو کیونکہ اس کا پکڑناہی اسے ذبح کرنا ہے اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ اس دوسرے کتے نے شکار کو پکڑا اور قتل کیا ہوگا تو تم اسے مت کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا دوسرے کے کتے پر نہیں لیا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19391]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 175، م: 1929
الحكم: إسناده صحيح، خ: 175، م: 1929
حدیث نمبر: 19392 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ، فَخَالَطَ كِلَابًا أُخْرَى، فَأَخَذَتْهُ جَمِيعًا، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ، وَإِذَا رَمَيْتَ فَسَمَّيْتَ، فَخَزَقْتَ، فَكُلْ، فَإِنْ لَمْ يَنْخَزقْ، فَلَا تَأْكُلْ، وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ، وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْبُنْدُقَةِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس جانور کو کس کتے نے شکار کیا ہے اور جب تم کسی شکار پر تیر چلاؤ، جو آرپار گذر جائے تو اسے کھالو، ورنہ مت کھاؤ اور چوڑائی سے لگنے والے تیر کا شکار مت کھاؤ الاّ یہ کہ اسے ذبح کرلو اور بندوق کی گولی کا شکارمت کھاؤ الاّ یہ کہ اسے ذبح کرلو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19392]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله:ولا تأكل من البندقة إلا ما ذكيت، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ما بين إبراهيم النخعي وعدي بن حاتم
الحكم: حديث صحيح دون قوله:ولا تأكل من البندقة إلا ما ذكيت، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ما بين إبراهيم النخعي وعدي بن حاتم
حدیث نمبر: 19393 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَن هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي الْمُكَلَّبَ؟ قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ، فَكُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ، مَا لَمْ يُشَارِكْهُ كَلْبٌ غَيْرُهُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ؟ قَالَ:" مَا خَزَقَ، فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ، فَقَتَلَ، فَلَا تَأْكُلْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اپنے سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کھالیا کرو میں نے عرض کیا اگرچہ وہ اسے ماردے؟ نبی کریم نے فرمایا ہاں! بشرطیکہ دوسرے کتے اس کے ساتھ شریک نہ ہوئے ہوں میں نے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے ماراہو تو اسے کھاسکتے ہو لیکن جسے تیر کی چوڑائی سے مارا ہو اسے مت کھاؤ۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19393]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 175، م: 1929، مؤمل ضعيف لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 175، م: 1929، مؤمل ضعيف لكنه توبع
حدیث نمبر: 19394 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 175، م: 1929، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 175، م: 1929، وهذا إسناد حسن