يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْمِي الصَّيْدَ، فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ، فَأَجِدُ فِيهِ سَهْمِي؟ فَقَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ ؛ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ، فَكُلْ" ، فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بِشْرٍ، فَقَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ، فَكُلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض یا کہ ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیرپھینکتا ہے وہ شکار ایک دو دن تک اس سے غائب رہتا ہے پھر وہ اسے پالیتا ہے اور اس کے جسم میں اس کاتیرپیوست ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس میں اپناتیر دیکھ لو اور کسی درندے نے اسے کھایانہ ہو تو تم اسے کھالو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5484، م: 1929