بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 21
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 18796 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الأسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ ، قَالَ: قَالَتْ امْرَأَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَرَى صَاحِبَكَ إلَا قَدْ أَبْطَأَ عَلَيْكَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 3" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارا ساتھی کافی عرصے سے تمہارے پاس نہیں آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18796]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4951، م: 1796
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4951، م: 1796
حدیث نمبر: 18797 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ: أَصَابَ إِصْبَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: حَجَرٌ فَدَمِيَتْ، فَقَالَ: " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلی پر کوئی زخم آیا اور اس میں سے خون بہنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو ایک انگلی ہی ہے تو خون آلود ہوگئی ہے اور اللہ کے راستے میں تجھے کوئی بڑی تکلیف تو نہیں آئی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18797]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6146، م: 1796
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6146، م: 1796
حدیث نمبر: 18798 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، جُنْدُبًا
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا يُحَدِّثُ: أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى" . وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى:" فَلْيَذْبَحْ، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھ کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18798]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
الحكم: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18799 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ ، جُنْدُبٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ ، حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ عَقَلَهَا، ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ، فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا، ثُمَّ رَكِبَهَا، ثُمَّ نَادَى: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَقُولُونَ هَذَا أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" لَقَدْ حَظَرْتَ، رَحْمَةُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ رَحْمَةً وَاحِدَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الْخلَاَئِقُ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا، وَعِنْدَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ، أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اپنی اونٹنی بٹھائی اسے باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز میں شریک ہوگیا، نماز سے فراغت کے بعد وہ اپنی سواری کے پاس آیا اس کی رسی کھولی اور اس پر سوار ہوگیا پھر اس نے بلند آواز سے یہ دعاء کی کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور اپنی اس رحمت میں ہمارے ساتھ کسی کو شریک نہ فرما، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ بتاؤ کہ یہ شخص زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ؟ تم نے سنا نہیں کہ اس نے کیا کہا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ کی وسیع رحمت کو محدود کردینا چاہا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں جن میں سے ایک رحمت نازل فرمادی اس کا نتیجہ ہے کہ تمام مخلوقات جن وانس اور جانور تک ایک دوسرے پر رحم اور مہربانی کرتے ہیں اور بقیہ ننانوے رحمتیں اسی کے پاس ہیں اب بتاؤ کہ یہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ؟ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18799]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على الجريري، وأبو عبدالله مجهول الحال
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على الجريري، وأبو عبدالله مجهول الحال
حدیث نمبر: 18800 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ ، الْحَسَنَ ، جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ جُنْدُبٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ، فَحُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ، فَآلَمَتْ جِرَاحَتُهُ، فَاسْتَخْرَجَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، فَطَعَنَ بِهِ فِي لَبَّتِهِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ: " سَابَقَنِي بِنَفْسِه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو (میدان جنگ میں) کوئی زخم لگ گیا اسے اٹھا کر لوگ گھر لے آئے جب اسے درد کی شدت زیادہ محسوس ہونے لگی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اپنے سینے میں اسے خود ہی گھونپ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جب یہ بات ذکر کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل کیا کہ میرے بندے نے اپنی کے معاملے میں مجھ پر سبقت کرلی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18800]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة لضعف عمران القطان، وقد خولف
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة لضعف عمران القطان، وقد خولف
حدیث نمبر: 18801 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ ، يَقُولُ: " اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، لَمْ أَرَهُ قَرَبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى، مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوگئے جس کی وجہ سے دو تین راتیں قیام نہیں کرسکے ایک عورت نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارا ساتھی کافی عرصے سے تمہارے پاس نہیں آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18801]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4951، م: 1797
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4951، م: 1797
حدیث نمبر: 18802 مسند احمد
عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، ثُمَّ الْعَلَقِيّ
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، ثُمَّ الْعَلَقِيّ : أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ بِاللَّحْمِ وَذَبَائِحِ الْأَضْحَى، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ حَتَّى صَلَّيْنَا، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عیدالاضحی پڑھ کر واپس ہوئے تو گوشت اور قربانی کے ذبح شدہ جانور نظر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھ گئے کہ ان جانوروں کو نماز عید سے پہلے ہی ذبح کرلیا گیا ہے سو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18802]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
الحكم: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18803 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلاَةَ الْفَجْرِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے لہٰذا تم اللہ کی ذمہ داری کو ہلکا (حقیر) مت سمجھو اور وہ تم سے اپنے ذمے کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18803]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 657
الحكم: إسناده صحيح، م: 657
حدیث نمبر: 18804 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، جُنْدُبًا
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ: " اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ، فَأَتَتْ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِلَاّ قَدْ تَرَكَكَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى، مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوگئے جس کی وجہ سے دو تین راتیں قیام نہیں کرسکے ایک عورت نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارا ساتھی کافی عرصے سے تمہارے پاس نہیں آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18804]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4983، م: 1797
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4983، م: 1797
حدیث نمبر: 18805 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ ، جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ الْعَلَقِيَّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ الْعَلَقِيَّ حَيٌّ مِنْ بَجِيلَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأْضْحَى عَلَى قَوْمٍ قَدْ ذَبَحُوا أَوْ نَحَرُوا وقَوْمٍ لَمْ يَذْبَحُوا أَوْ لَمْ يَنْحَرُوا، فَقَالَ: " مَنْ ذَبَحَ أَوْ نَحَرَ قَبْلَ صَلَاتِنَا، فَلْيُعِدْ، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ أَوْ يَنْحَرْ، فَلْيَذْبَحْ أَوْ يَنْحَرْ بِاسْمِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عیدالاضحی پڑھ کر واپس ہوئے تو گوشت اور قربانی کے ذبح شدہ جانور نظر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھ گئے کہ ان جانوروں کو نماز عید سے پہلے ہی ذبح کرلیا گیا ہے سو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18805]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
الحكم: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18806 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، جُنْدُبًا الْعَلَقِيَّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْعَلَقِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَبْطَأَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزِعَ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ، قَالَ: فَنَزَلَتْ وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہونے میں کچھ تاخیر کردی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےچین ہوگئے کسی نے اس پر کچھ کہہ دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے، [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1125، م: 1797
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1125، م: 1797
حدیث نمبر: 18807 مسند احمد
قال: قال: سَمِعْت جُنْدُبًا، يَقُولُ: دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلی پر کوئی زخم آیا اور اس میں سے خون بہنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو ایک انگلی ہی ہے تو خون آلود ہوگئی ہے اور اللہ کے راستے میں تجھے کوئی بڑی تکلیف تو نہیں آئی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18807]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6146، م: 1796
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6146، م: 1796
حدیث نمبر: 18808 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، جُنْدُبًا
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ: قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ: الْبَجَلِيُّ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعْ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائيِ يُرَائي اللَّهُ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شہرت حاصل کرنے کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے اس کے حوالے کردیتا ہے اور جو شخص ریاء کاری سے کوئی کام کرے اللہ اسے اس کے ہی حوالے کردیتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18808]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6499، م: 2987
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6499، م: 2987
حدیث نمبر: 18809 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جُنْدُبٍ الْعَلَقِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ الْعَلَقِيِّ سَمِعَهُ مِنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18809]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18810 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جُنْدُبًا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ" . قَالَ سُفْيَانُ: الْفَرَطُ الَّذِي يَسْبِقُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18811 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ المَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنا فَرَطُكم عَلَى الحَوْضِ" .
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18812 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ، فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَرُبَّمَا قَالَ: فَلْيُعِدْ أُخْرَى، وَمَنْ لَاَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھ کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18812]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
الحكم: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18813 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، سَمِعَهُ مِنْ جُنْدُبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ" . قَالَ سُفْيَانُ: الْفَرَطُ الَّذِي يَسْبِقُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18813]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،خ: 6589، م: 2289
الحكم: إسناده صحيح،خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18814 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، الْحَسَنِ ، جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَا: أخبرنا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَانْظُرْ يَا ابْنَ آدَمَ لَا يَطْلُبَنَّكَ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے لہٰذاتم اللہ کی ذمہ داری کو ہلکا (حقیر) مت سمجھو اور وہ تم سے اپنے ذمے کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18814]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 657
الحكم: إسناده صحيح، م: 657
حدیث نمبر: 18815 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ ، يَقُولُ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ أُضْحِيَّتَهُ، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ، عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھ کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18815]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
الحكم: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960