عَبْدُ الصَّمَدِ ، عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ ، الْحَسَنَ ، جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ جُنْدُبٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ، فَحُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ، فَآلَمَتْ جِرَاحَتُهُ، فَاسْتَخْرَجَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، فَطَعَنَ بِهِ فِي لَبَّتِهِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ: " سَابَقَنِي بِنَفْسِه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو (میدان جنگ میں) کوئی زخم لگ گیا اسے اٹھا کر لوگ گھر لے آئے جب اسے درد کی شدت زیادہ محسوس ہونے لگی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اپنے سینے میں اسے خود ہی گھونپ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جب یہ بات ذکر کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل کیا کہ میرے بندے نے اپنی کے معاملے میں مجھ پر سبقت کرلی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18800]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة لضعف عمران القطان، وقد خولف
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة لضعف عمران القطان، وقد خولف