وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، جُنْدُبًا الْعَلَقِيَّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْعَلَقِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَبْطَأَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزِعَ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ، قَالَ: فَنَزَلَتْ وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہونے میں کچھ تاخیر کردی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےچین ہوگئے کسی نے اس پر کچھ کہہ دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے، [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1125، م: 1797
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1125، م: 1797