بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 33
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 18101 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ، وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ، فَجَعَلَتْ الْهَوَامُّ تَسَّاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟" قُلْتُ نَعَمْ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حالت احرام میں حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے مشرکین نے ہمیں گھیر رکھا تھا (حرم میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے) میرے سر کے بال بہت بڑے تھے اس دوران میرے سر سے جوئیں نکل نکل کر چہرے پر گرنے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گذرے تو فرمایا کیا تمہیں جوئیں تنگ کر رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ سرمنڈ والو، اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دہ چیز ہو تو وہ روزے رکھ کر یا صدقہ دے کر یا قربانی دے کر اس کا فدیہ ادا کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18101]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201 ، أبو البشر لم يسمع من مجاهد، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201 ، أبو البشر لم يسمع من مجاهد، لكنه متابع
حدیث نمبر: 18102 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، أَبِي قِلَابَةَ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: قَمِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ كُلَّ شَعْرَةٍ مِنْ رَأْسِي فِيهَا الْقَمْلُ مِنْ أَصْلِهَا إِلَى فَرْعِهَا، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى ذَلِكَ، قَالَ: " احْلِقْ"، وَنَزَلَتْ الْآيَةُ، قَالَ:" أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے سر میں اتنی جوئیں ہوگئیں کہ میرا خیال تھا میرے سرکے ہر بال میں جڑ سے لے کر شاخوں تک جوئیں بھری پڑی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کیفیت دیکھ کر مجھے حکم دیا کہ بال منڈوالو اور مذکورہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجوریں کھلادو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18102]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يدرك كعباً
الحكم: حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يدرك كعباً
حدیث نمبر: 18103 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ فُلَانِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَبَا ثُمَامَةَ الْحَنَّاطَ ، كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ فُلَانِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ أَبَا ثُمَامَةَ الْحَنَّاطَ حَدَّثَهُ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَا يُشَبِّكْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنَّهُ فِي الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر نماز کے ارادے سے نکلے تو اس دوران اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل نہ کرے کیونکہ وہ نماز میں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18103]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لاختلاف فيه، ولجهالة حال أبى ثمامة الحناط
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لاختلاف فيه، ولجهالة حال أبى ثمامة الحناط
حدیث نمبر: 18104 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! ہمیں آپ کو سلام کرنے کا طریقہ تو معلوم ہوگیا ہے یہ بتائیے کہ آپ پر درود کیسے بھیجا کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم انک حمید مجید اللہم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم انک حمید مجید۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18104]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3370، م: 406
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3370، م: 406
حدیث نمبر: 18105 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: قَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا أَوْ عَرَفْنَا كَيْفَ السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! ہمیں آپ کو سلام کرنے کا طریقہ تو معلوم ہوگیا ہے یہ بتائیے کہ آپ پر دورد کیسے بھیجاکریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کماصلیت علی ابراہیم انک حمید مجید اللہم بارک علی محمد وعلی آل محمد کمابارکت علی ابراہیم انک حمید مجید۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3370، م: 406
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3370، م: 406
حدیث نمبر: 18106 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، وَقَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ لِكُلِّ إِنْسَانٍ، أَوْ انْسُكْ بِشَاةٍ، أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے انہیں ان کے سر کی جوؤں نے بہت تنگ کر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سرمنڈانے کا حکم دے دیا اور فرمایا تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو فی کس دو مد کے حساب سے کھانا کھلا دو یا ایک بکری کی قربانی دے دو جو بھی کرو گے تمہاری طرف سے کافی ہوجائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18107 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي أَوْ قَالَ: عَلَى حَاجِبَيَّ، فَقَال" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاحْلِقْهُ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوْ انْسُكْ نَسِيكَةً" . قَالَ أَيُّوبُ: لَا أَدْرِي بِأَيَّتِهِنَّ بَدَأَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے سر کے کیڑے (جوئیں) تمہیں تنگ کر رہے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سرمنڈانے کا حکم دے دیا اور فرمایا تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو فی کس دو مد کے حساب سے کھانا کھلادو یا ایک بکری کی قربانی دے دو جو بھی کرو گے تمہاری طرف سے کافی ہوجائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18108 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18109 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، كَعْبٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: فَقَالَ كَعْبٌ : نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟ فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: " صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، نِصْفَ صَاعِ نصفَ صاعِ طَعَامٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ" ، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جو مسجد میں تھے اور ان سے اس آیت " فدیہ دے دے یعنی روزہ رکھ لے یا صدقہ دے دے یا قربانی کرلے " کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا یہ آیت میرے متعلق ہی نازل ہوئی ہے میرے سر میں تکلیف تھی مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیش کیا گیا، اس وقت جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ جائے گی کیا تمہیں بکری میسر ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دہ چیز ہو تو وہ روزے رکھ کر یا صدقہ دے کر یا قربانی دے کر اس کا فدیہ ادا کرے۔ یعنی تین روزے رکھ لے یافی کس نصف صاع گندم کے حساب سے چھ مسکینوں کو کھانا کھلادے یہ آیت میرے واقعے میں خاص تھی اور تمہارے لئے عام ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18109]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18110 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ ، كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ يَقُولُ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ..
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18111 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، كُلَّ مِسْكِينٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18112 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، رَجُلٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَتَطَهَّرُ رَجُلٌ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، إِلَّا كَانَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، وَلَا يُخَالِفْ أَحَدُكُمْ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر نماز کے ارادے سے نکلے تو وہ نماز سے فارغ ہونے تک نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اس لئے اس دوران اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل نہ کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18112]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولابهام بعض رجاله
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولابهام بعض رجاله
حدیث نمبر: 18113 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَمْلِي يَتَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَ وَهُمْ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحْلِقُونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطْعِمَ فِرْقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَذْبَحَ شَاةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حالت احرام میں حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے مشرکین نے ہمیں گھیر رکھا تھا (حرم میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے) میرے سر کے بال بہت بڑے تھے اس دوران میرے سر سے جوئیں نکل نکل کر چہرے پر گرنے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گذرے تو فرمایا کیا تمہیں جوئیں تنگ کر رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ سرمنڈوالو، اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دہ چیز ہو تو وہ روزے رکھ کر یا صدقہ دے کر یا قربانی دے کر اس کا فدیہ ادا کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18114 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، بَعْضِ ، كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ وُضُوءَكَ، ثُمَّ عَمَدْتَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ، فَلَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر نماز کے ارادے سے نکلے تو اس دوران اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل نہ کرے کیونکہ وہ نماز میں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18114]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لاختلاف فيه، ولجهالة حال أبى ثمامة الحناط
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لاختلاف فيه، ولجهالة حال أبى ثمامة الحناط
حدیث نمبر: 18115 مسند احمد
قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ أَبُو تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ أَبُو تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ وُضُوءَكَ، ثُمَّ خَرَجْتَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَا تُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِكَ" قَالَ قُرَّانُ: أُرَاهُ قَالَ:" فَإِنَّكَ فِي صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر نماز کے ارادے سے نکلے تو اس دوران اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل نہ کرے کیونکہ وہ نماز میں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18115]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، راجع ماقبله
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، راجع ماقبله
حدیث نمبر: 18116 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ كَعْبًا أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ مِنَ الْقَمْلِ، قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ، أَوْ اذْبَحْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سرمنڈانے کا حکم دے دیا اور فرمایا تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو فی کس دو مد کے حساب سے کھانا کھلادو یا ایک بکری کی قربانی دے دو . [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18117 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خَالِدٌ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ، فَقَالَ:" كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ؟" فَقُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: " فَاحْلِقْهُ، وَاذْبَحْ شَاةً، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حدیبیہ کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے میرے بال بہت زیادہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شاید تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے بہت تنگ کر رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سرمنڈانے کا حکم دے دیا اور فرمایا تین روزے رکھ لو یاچھ مسکینوں کو فی کس دو مد کے حساب سے کھانا کھلادو یا ایک بکری کی قربانی دے دو . [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18118 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، ابْنِ سِيرِينَ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنِي مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، وَعَظَّمَهَا، قَالَ: ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ، فِي مِلْحَفَةٍ، فَقَالَ:" هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ". فَانْطَلَقْتُ مُسْرِعًا، أَوْ قَالَ: مُحْضِرًا، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هَذَا". فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فتنہ کا ذکر فرمایا اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے میں اس کے پیچھے چلا گیا اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف اس کا رخ کرکے پوچھا یہ آدمی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18118]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث كعب بن مرة البهزي، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين عن كعب ابن عجرة مرسل، ومطر الوراق ضعيف، لكنه توبع
الحكم: صحيح من حديث كعب بن مرة البهزي، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين عن كعب ابن عجرة مرسل، ومطر الوراق ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18119 مسند احمد
مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوْ يَذْبَحَ شَاةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سرمنڈانے کا حکم دے دیا اور فرمایا تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو فی کس دو مد کے حساب سے کھانا کھلادو یا ایک بکری کی قربانی دے دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18119]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 18120 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ قَرْمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ ، كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ قَرْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلَّيْنَا بِعُمْرَةٍ، فَوَقَعَ الْقَمْلُ فِي رَأْسِي وَلِحْيَتِي، وَحَاجِبَيَّ وَشَارِبِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ، فَدَعَانِي، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ:" لَقَدْ أَصَابَكَ بَلَاءٌ وَنَحْنُ لَا نَشْعُرُ، ادْعُ الْحَجَّامَ". فَلَمَّا جَاءَهُ، أَمَرَهُ فَحَلَقَنِي، قَالَ:" أَتَقْدِرُ عَلَى نُسُكٍ؟" قُلْتُ: لَا. قَالَ:" فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جو مسجد میں تھے اور ان سے اس آیت " فدیہ دے دے یعنی روزہ رکھ لے یا صدقہ دے دے یا قربانی کرلے " کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا یہ آیت میرے متعلق ہی نازل ہوئی ہے میرے سر میں تکلیف تھی مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، اس وقت جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ جائے گی کیا تمہیں بکری میسر ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دہ چیز ہو تو وہ روزے رکھ کر یا صدقہ دے کر یا قربانی دے کر اس کا فدیہ ادا کرے۔ یعنی تین روزے رکھ لے یا فی کس نصف صاع گندم کے حساب سے چھ مسکینوں کو کھانا کھلادے یہ آیت میرے واقعے میں خاص تھی اور تمہارے لئے عام ہے۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت فدیہ میرے متعلق ہی نازل ہوئی تھی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18120]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201 دون قوله: "لقد أصابك بلاء........ ونحن لا نشعر" والصحيح فيه قوله: "ماكنت أري أن الجهد بلغ بك ما أري"
الحكم: حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201 دون قوله: "لقد أصابك بلاء........ ونحن لا نشعر" والصحيح فيه قوله: "ماكنت أري أن الجهد بلغ بك ما أري"