بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 33
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 18121 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
. [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18122 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ هَذَا الْحَدِيثَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
. [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18122]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18123 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَشْعَثُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، بِنَحْوٍ مِنْ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أَطْعِمْ الْمَسَاكِينَ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
. [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18123]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، حديث أشعث حسن فى الشواهد
الحكم: حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، حديث أشعث حسن فى الشواهد
حدیث نمبر: 18124 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: إِنَّ كَعْبًا أَحْرَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَاهُ، وَقَالاَ:" ثَلَاثَةُ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ".
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، وهذا إسناد منقطع، الشعبي لم يسمع من كعب بن عجرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، وهذا إسناد منقطع، الشعبي لم يسمع من كعب بن عجرة
حدیث نمبر: 18125 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبًا
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ كَعْبًا حِينَ حَلَقَ رَأْسَهُ أَنْ يَذْبَحَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ فِرْقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سرمنڈانے کا حکم دے دیا اور فرمایا تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو فی کس دو مد کے حساب سے کھانا کھلادو یا ایک بکری کی قربانی دے دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18125]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، وهذا إسناد مرسل، لكنه ورد متصلاً
الحكم: حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، وهذا إسناد مرسل، لكنه ورد متصلاً
حدیث نمبر: 18126 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، أَبُو حَصِينٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَخَلَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ، وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، فَصَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نو آدمی تھے اور ہمارے درمیان چمڑے کا ایک تکیہ پڑا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو دروغ بیانی سے کام لیں گے اور ظلم کریں گے سو جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کو سچ قرار دے گا اور ظلم پر ان کی مدد کرے گا اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ میرے پاس حوض کوثر پر بھی نہیں آسکے گا اور جو شخص نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور نہ ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے پاس حوض کوثر پر بھی آئے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18127 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مِسْعَرٌ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَدْ عَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: فَعَلَّمَهُ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! ہمیں آپ کو سلام کرنے کا طریقہ تو معلوم ہوگیا ہے یہ بتائیے کہ آپ پر دورد کیسے بھیجا کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کماصلیت علی ابراہیم انک حمید مجید اللہم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم انک حمید مجید۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4797، م: 406
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4797، م: 406
حدیث نمبر: 18128 مسند احمد
يَحْيَى ، سَيْفٍ ، مُجَاهِدًا ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَيْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ بِالْحُدَيْبِيَةِ، قَال: وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا، قَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاحْلِقْ رَأْسَكَ". قَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِفِرْقٍ بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوْ بِنُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حالت احرام میں حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے مشرکین نے ہمیں گھیر رکھا تھا (حرم میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے) میرے سر کے بال بہت بڑے تھے اس دوران میرے سر سے جوئیں نکل نکل کر چہرے پر گرنے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گذرے تو فرمایا کیا تمہیں جوئیں تنگ کر رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ سرمنڈوالو، اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دہ چیز ہو تو وہ روزے رکھ کر یا صدقہ دے کر یا قربانی دے کر اس کا فدیہ ادا کرے، چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کے درمیان ایک فرق کی مقدار صدقہ کردو یا قربانی کردو جو بھی آسان ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18128]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18129 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ، فَقَالَ:" هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى". قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى أَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ، فَحَوَّلْتُ وَجْهَهُ إِلَيْهِ، وَكَشَفْتُ عَنْ رَأْسِهِ، وَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فقَالَ:" نَعَمْ". فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فتنہ کا ذکر فرمایا اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے میں اس کے پیچھے چلا گیا اس کامونڈھا پکڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف اس کا رخ کرکے پوچھا یہ آدمی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18129]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا الحديث من مسند كعب بن مرة البهزي، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين عن كعب بن عجرة مرسل
الحكم: صحيح لغيره، وهذا الحديث من مسند كعب بن مرة البهزي، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين عن كعب بن عجرة مرسل
حدیث نمبر: 18130 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، الْمَقْبُرِيِّ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ لِي:" يَا كَعْبُ، إِذَا كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتَ الصَّلَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں میرے پاس تشریف لائے اس وقت میں اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کعب! جب تم مسجد میں ہو تو اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل نہ کرو کیونکہ جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہو گے تم نماز میں شمار ہوگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18130]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله، وللاختلاف فيه
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله، وللاختلاف فيه
حدیث نمبر: 18131 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، أَوْ يَنْسُكَ نُسُكًا، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ فِرْقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سرمنڈانے کا حکم دے دیا اور فرمایا تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو فی کس دو مد کے حساب سے کھانا کھلادو یا ایک بکری کی قربانی دے دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18131]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1814، م: 1201
حدیث نمبر: 18132 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ ، الشَّعْبِيِّ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، مُسْنِدِي ظُهُورِنَا إِلَى قِبْلَةِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَبْعَةُ رَهْطٍ أَرْبَعَةٌ مَوَالِينَا، وَثَلَاثَةٌ مِنْ عَرَبِنَا، إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا، فَقَالَ:" مَا يُجْلِسُكُمْ هَاهُنَا؟" قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ. قَالَ: فَأَرَمَّ قَلِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ؟" قال: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ:" فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَحَافَظَ عَلَيْهَا، وَلَمْ يُضَيِّعْهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا، فَلَهُ عَلَيَّ عَهْدٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ لِوَقْتِهَا، وَلَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا، وَضَيَّعَهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا، فَلَا عَهْدَ لَهُ، إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ، وَإِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں قبلہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا ہم کل سات آدمی تھے جن میں سے چار ہمارے آزاد کردہ غلام تھے اور تین اصل نسل عرب، اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ظہر کے لئے تشریف لے آئے ہمارے پاس پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تم یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ ہم نے جواب دیا یا رسول اللہ! نماز کا انتظار کر رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھوڑی دیر رکے پھر سر اٹھا کر فرمایا تم جانتے ہو کہ تمہارا رب کیا کہتا ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا رب کہتا ہے کہ جو شخص اپنے وقت پر نماز ادا کرتا ہے اس کی پابندی کرتا ہے اور اسے ہلکا سمجھ کر اس کا حق ضائع نہیں کرتا میرا اس سے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو شخص بروقت نماز نہیں پڑھتا اس کی پابندی نہیں کرتا اور اسے ہلکا سمجھ کر اس کا حق ضائع کردیتا ہے تو اس سے میرا کوئی وعدہ نہیں چاہوں تو اسے عذاب دے دوں اور چاہوں تو معاف کردوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18132]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لا نقطاعه، الشعبي لم يسمع من كعب، ولضعف عيسي بن المسيب
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لا نقطاعه، الشعبي لم يسمع من كعب، ولضعف عيسي بن المسيب
حدیث نمبر: 18133 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْب ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 56، قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّه؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" . قَالَ: وَنَحْنُ نَقُولُ: وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ. قَالَ يَزِيدُ: فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ زَادَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ، أَوْ شَيْءٌ رَوَاهُ كَعْبٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت درود نازل ہوئی تو ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ آپ پر درود کیسے بھیجا کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کماصلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید اللہم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم انک حمید مجید۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18133]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3370، م: 406، يزيد بن أبى زياد ضعيف، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3370، م: 406، يزيد بن أبى زياد ضعيف، لكنه متابع