هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، أَبِي قِلَابَةَ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: قَمِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ كُلَّ شَعْرَةٍ مِنْ رَأْسِي فِيهَا الْقَمْلُ مِنْ أَصْلِهَا إِلَى فَرْعِهَا، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى ذَلِكَ، قَالَ: " احْلِقْ"، وَنَزَلَتْ الْآيَةُ، قَالَ:" أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے سر میں اتنی جوئیں ہوگئیں کہ میرا خیال تھا میرے سرکے ہر بال میں جڑ سے لے کر شاخوں تک جوئیں بھری پڑی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کیفیت دیکھ کر مجھے حکم دیا کہ بال منڈوالو اور مذکورہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجوریں کھلادو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18102]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يدرك كعباً
الحكم: حديث صحيح، خ: 1814، م: 1201، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يدرك كعباً