بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِيَّةُ حَدِيثِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 27
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 17801 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي قَيْسٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَن أَبِيهِ ، عَن أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِكُمْ وَصِيَامِ 59 أهل الكتاب، أَكْلَةُ السَّحَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17801]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1096
الحكم: إسناده صحيح، م: 1096
حدیث نمبر: 17802 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، ذَاكَ اللَّخْمِيُّ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَمْرُو، اشْدُدْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ وَأْتِنِي"، فَفَعَلْتُ فَجِئْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَهُ، وَقَالَ:" يَا عَمْرُو، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ وَجْهًا، فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ، وَأَرْعَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَعْبَةً صَالِحَةً"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ، إِنَّمَا أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْجِهَادِ وَالْكَيْنُونَةِ مَعَكَ. قَالَ:" يَا عَمْرُو، نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ" . قَالَ كَذَا فِي النُّسْخَةِ نَعِمَّا بِنَصْبِ النُّونِ وَكَسْرِ الْعَيْنِ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ بِكَسْرِ النُّونِ وَالْعَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضو فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت حاصل ہوجائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نیک آدمی کے لئے حلال مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17802]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17803 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ:" لَا تَلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا، عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا: أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت میں اشتباہ پیدا نہ کرو، ام ولدہ کا آقا اگر فوت ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17803]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، قبيصة لم يسمع من عمرو
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، قبيصة لم يسمع من عمرو
حدیث نمبر: 17804 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ، يَقُولُ: " إِنَّ آلَ أَبِي فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو علانیہ طور پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے آل ابو فلاں میرے ولی نہیں ہیں، میرا ولی تو اللہ اور نیک مومنین ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17804]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5990، م: 215
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5990، م: 215
حدیث نمبر: 17805 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ذَكْوَانَ ، مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَمْرًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَأَذِنَ لَهُ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، سَأَلَ الْمَوْلَى عَمْرًا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَدْخُلَ عَلَى النِّسَاءِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ایک غلام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت لینے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورتوں کے پاس نہ جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17805]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده ، مولي عمرو بن العاص لم يبين
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده ، مولي عمرو بن العاص لم يبين
حدیث نمبر: 17806 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي قَبِيلٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: " عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْفَ مَثَلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک ہزار مثالیں یاد کی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17806]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17807 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، الْحَسَنَ ، لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ، أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ: قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدْ اسْتَعْمَلَكَ. فَقَالَ: قَدْ اسْتَعْمَلَنِي، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ، أَوْ اسْتِعَانَةً بِي، وَلَكِنِّي" سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
احسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا یہ بتائیے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی آدمی سے محبت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہوں، تو کیا وہ نیک آدمی ہوگا؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں، اس نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ سے محبت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور وہ آپ کو مختلف ذمہ داریاں سونپتے تھے؟ انہوں نے فرمایا یہ تو واقعی حقیقت ہے، لیکن میں تمہیں بتاؤں، بخدا! میں نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم محبت کی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملہ فرماتے تھے یا تالیف قلب کے لئے، البتہ میں اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ دنیا سے رخصت ہونے تک وہ دو آدمیوں سے محبت فرماتے تھے، ایک سمیہ کے بیٹے عمار رضی اللہ عنہ سے اور ایک ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17807]
حکم دارالسلام
هذا إسناد منقطع ، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن العاص
الحكم: هذا إسناد منقطع ، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن العاص
حدیث نمبر: 17808 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَبِيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَتَخَوَّلُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ قُرَيْشٌ، لَيَضَعَنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِنْ جَمَاهِيرِ الْعَرَبِ سِوَاهُمْ. فَقَالَ: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ كَذَبْتَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " قُرَيْشٌ وُلَاةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی الہذیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہماری رعایت اور خیال فرماتے تھے، ایک مرتبہ بکر بن وائل قبیلے کا ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر قریش کے لوگ باز نہ آئے تو حکومت ان کے ہاتھ سے نکل کر جمہور اہل عرب کے ہاتھ میں چلی جائے گی، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا آپ سے غلطی ہوئی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش ہر نیکی اور برائی کے کاموں میں قیامت تک لوگوں کے سردار ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17808]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17809 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ:" مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَنْتُمْ أَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17809]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17810 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُوسَى ، أَبِيهِ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَن مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ، فَأَخَذْتُ سَيْفًا فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ؟!" ثُمَّ قَالَ:" أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خوف وہراس پھیلا ہوا تھا، میں حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم کے پاس آیا تو انہوں نے اپنی تلوار حمائل کر رکھی تھی، میں نے بھی اپنی تلوار پکڑی اور اسے حمائل کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگو! گھبراہٹ کے اس وقت میں تم اللہ اور اس کے رسول کے پاس کیوں نہیں آئے؟ پھر فرمایا تم نے اس طرح کیوں نہ کیا جس طرح ان دو مومن مردوں نے کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17811 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي عُثْمَانَ ، عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَائِشَةُ". قَالَ: قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ:" أَبُوهَا إِذًا". قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ عُمَرُ" قَالَ: فَعَدَّ رِجَالًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذات السلاسل کے لشکر پر مجھے امیر بنا کر بھیجا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ سولم) لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ، میں نے کہا کہ مردوں میں سے؟ فرمایا ان کے والد، میں نے پوچھا کہ پھر کون؟ فرمایا عمر، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی آدمیوں کے نام لئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17811]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3662، م: 2384
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3662، م: 2384
حدیث نمبر: 17812 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَن عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَاحْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ، فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلَكَ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الصُّبْحِ. قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ" يَا عَمْرُو، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ، فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلَكَ، وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29 فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمرو! تم نے ناپاکی کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ سولم) جس رات میں مجھ پر غسل واجب ہوا، وہ انتہائی سرد رات تھی اور مجھے اندیشہ تھا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا، وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا اور میں نے اللہ کا قول (وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا) اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے، اس لئے میں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرانے لگے اور کچھ کہا نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17812]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن لهيعة سيئ الحفظ ، لكنه توبع، وقد اختلف فيه على عبدالرحمن بن جبير
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن لهيعة سيئ الحفظ ، لكنه توبع، وقد اختلف فيه على عبدالرحمن بن جبير
حدیث نمبر: 17813 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَيْسِ بْنِ شُفَيٍّ ، عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ شُفَيٍّ . أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ، وَإِنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا" . قَالَ عَمْرٌو: فَوَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَشَدَّ النَّاسِ حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا مَلَأْتُ عَيْنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا رَاجَعْتُهُ بِمَا أُرِيدُ، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَيَاءً مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ سے اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ میرے پچھلے سارے گناہ معاف ہوجائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے کے تمام گناہ مٹا دیتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حیاء کرتا تھا، اس لئے میں نے انہیں کبھی آنکھیں بھر کر نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی اپنی خواہش میں ان سے کوئی تکرار کیا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17813]
حکم دارالسلام
الشطر الأول منه حسن، وهذا الإسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، وقيس بن سمي- على الصواب- ليس بمشهور
الحكم: الشطر الأول منه حسن، وهذا الإسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، وقيس بن سمي- على الصواب- ليس بمشهور
حدیث نمبر: 17814 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، عَن أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ". قَالَ الرَّجُلُ: أَكْثَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِينُ الْكَلَامِ، وَبَذْلُ الطَّعَامِ، وَسَمَاحٌ وَحُسْنُ الخُلُقِ". قَالَ الرَّجُلُ: أُرِيدُ كَلِمَةً وَاحِدَةً. قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَلَا تَتَّهِمِ اللَّهَ عَلَى نَفْسِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا اللہ پر ایمان و تصدیق، اللہ کے راستہ میں جہاد اور حج مبرور، اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ تو آپ نے بہت سی چیزیں بیان فرما دی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر کلام میں نرمی، کھانا کھلانا، سہل ہونا اور اچھے اخلاق سب سے افضل عمل ہیں، اس نے کہا کہ میں صرف ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہوں، نبی نے فرمایا تو پھر جاؤ اور اپنی ذت پر تہمت نہ لگنے دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17814]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين لشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد
الحكم: حديث محتمل للتحسين لشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد
حدیث نمبر: 17815 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، أَبَا هَانِئٍ ، عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ ، عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هَانِئٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلنَّاسِ:" مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا هُوَ، فَأَزْهَدُ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا، وَأَمَّا أَنْتُمْ، فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17815]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17816 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي قَيْسٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ وَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ وَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور خوب احتیاط و اجتہاد سے کام لے اور صحیح فیصلہ کرے تو اسے دہرا اجر ملے گا اور اگر احتیاط کے باوجود غلطی ہوجائے تو پھر بھی اسے اکہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17816]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7352، م: 1716
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7352، م: 1716
حدیث نمبر: 17817 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ:" لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهِ أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهَا، وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا لَهُ". قَالَ: فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْلِفُ وَقَالَ: غَيْرُ يَحْيَى: وَاللَّهِ مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو، واللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ساری زندگی کوئی رات ایسی نہیں آئی جس میں ان پر مالی بوجھ مالی فراوانی سے زیادہ نہ ہو اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرض لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ یحییٰ تین دنوں کا ذکر کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17817]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17818 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو قَبِيلٍ ، مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَمْرِو بْنِ الْعاصِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، عَن مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ قَالَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ: مَوْتِ الْفَجْأَةِ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ، وَمِنْ السَّبُعِ، وَمِنْ الْغَرَقِ، وَمِنْ الْحَرْقِ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَمِنْ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سات قسم کی موت سے پناہ مانگی ہے، ناگہانی موت، سانپ کے ڈسنے سے، درندے کے حملے سے، ڈوب کر مرنے سے، جل کر مرنے سے، کسی چیز پر گرنے سے، کسی چیز کے گرنے سے اور میدان جنگ سے بھاگتے ہوئے مرنے سے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17818]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، ومالك بن عبدالله مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، ومالك بن عبدالله مجهول
حدیث نمبر: 17819 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْرَمِيَّ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي قَيْسٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْرَمِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَن بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْقُرْآنُ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، عَلَى أَيِّ حَرْفٍ قَرَأْتُمْ، فَقَدْ أَصَبْتُمْ، فَلَا تَتَمَارَوْا فِيهِ، فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم سات حرفوں پر نازل ہوا ہے، لہذا تم جس حرف کے مطابق پڑھو گے، صحیح پڑھو گے، اس لئے تم قرآن کریم میں مت جھگڑا کرو کیونکہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17819]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17820 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي قَيْسٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، لِأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِنْ أَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ" . قَالَ يَزِيدُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي بِهِ أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور خوب احتیاط و اجتہاد سے کام لے اور صحیح فیصلہ کرے تو اسے دہرا اجر ملے گا اور اگر احتیاط کے باوجود غلطی ہوجائے تو پھر بھی اسے اکہرا اجر ملے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17820]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 7352، م: 1716
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 7352، م: 1716