وَكِيعٌ ، مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، ذَاكَ اللَّخْمِيُّ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَمْرُو، اشْدُدْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ وَأْتِنِي"، فَفَعَلْتُ فَجِئْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَهُ، وَقَالَ:" يَا عَمْرُو، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ وَجْهًا، فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ، وَأَرْعَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَعْبَةً صَالِحَةً"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ، إِنَّمَا أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْجِهَادِ وَالْكَيْنُونَةِ مَعَكَ. قَالَ:" يَا عَمْرُو، نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ" . قَالَ كَذَا فِي النُّسْخَةِ نَعِمَّا بِنَصْبِ النُّونِ وَكَسْرِ الْعَيْنِ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ بِكَسْرِ النُّونِ وَالْعَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضو فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت حاصل ہوجائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نیک آدمی کے لئے حلال مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17802]
الحكم: إسناده صحيح