بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِيَّةُ حَدِيثِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 27
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 17821 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي قَيْسٍ ، عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِ هَذَا! فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آيَةُ كَذَا وَكَذَا! ثُمَّ قَرَأَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ". فَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَرَأَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيَّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَحْسَنْتُمْ، وَلَا تَمَارَوْا فِيهِ، فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ، أَوْ آيَةُ الْكُفْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک آدمی کو قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو اس سے پوچھا کہ یہ آیت تمہیں کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے تو یہ آیت کسی اور طرح پڑھائی ہے، چنانچہ وہ دونوں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے اس آیت کا حوالہ دے کر اسے پڑھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ آیت اس طرح نازل ہوئی ہے، دوسرے نے اپنے طریقے کے مطابق اس کی تلاوت کی اور کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا یہ آیت اس طرح نازل نہیں ہوئی! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسی طرح نازل ہوئی ہے، پھر فرمایا یہ قرآن کریم سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، جس حرف کے مطابق پڑھو گے، صحیح پڑھو گے، اس لئے تم قرآن کریم میں مت جھگڑا کرو کیونکہ قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17821]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وصورة هذا الحديث صورة المرسل
الحكم: حديث صحيح، وصورة هذا الحديث صورة المرسل
حدیث نمبر: 17822 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ الْمُرَادِيِّ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ الْمُرَادِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمْ الرِّبَا، إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ، وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمْ الرُّشَا، إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس قوم میں سود عام ہوجائے، وہ قحط سالی میں مبتلا ہوجاتی ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہوجائے، وہ مرعوب ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17822]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، عبدالله بن لهيعة سيئ الحفظ ، ومحمد بن راشد مجهول، ويبدو أنه سقط رجل بين محمد بن راشد وعمرو
الحكم: إسناده ضعيف جداً، عبدالله بن لهيعة سيئ الحفظ ، ومحمد بن راشد مجهول، ويبدو أنه سقط رجل بين محمد بن راشد وعمرو
حدیث نمبر: 17823 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلَى فَاطِمَةَ، فَأَذِنَتْ لَهُ، قَالَ: ثَمَّ عَلِيٌّ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَرَجَعَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: ثَمَّ عَلِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ حِينَ لَمْ تَجِدْنِي هَاهُنَا؟ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت مانگی، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، انہوں پوچھا کہ یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں، اس پر وہ چلے گئے، دوسری مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے لہذا وہ اندر چلے گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے اجازت لینے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورتوں کے پاس نہ جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17823]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، أبو صالح لم يدرك فاطمة ، ولم يصرح بسماعه لهذا الحديث من عمرو، ولعله رواه عنه بواسطة مولاه، فقد روي عنه قصة بنحو هذه، لكن فى دخوله على أسماء بنت عميس
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، أبو صالح لم يدرك فاطمة ، ولم يصرح بسماعه لهذا الحديث من عمرو، ولعله رواه عنه بواسطة مولاه، فقد روي عنه قصة بنحو هذه، لكن فى دخوله على أسماء بنت عميس
حدیث نمبر: 17824 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْفَرَجُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ لِعَمْرٍو:" اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا عَمْرُو". فَقَالَ: أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" وَإِنْ كَانَ". قَالَ: فَإِذَا قَضَيْتُ بَيْنَهُمَا فَمَا لِي؟ قَالَ: " إِنْ أَنْتَ قَضَيْتَ بَيْنَهُمَا فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ، فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَإِنْ أَنْتَ اجْتَهَدْتَ وَأَخْطَأْتَ، فَلَكَ حَسَنَةٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے عمرو! ان کے درمیان تم فیصلہ کرو، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے زیادہ آپ اس کے حقدار ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمرو! ان کے درمیان تم فیصلہ کرو، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے زیادہ آپ اس کے حقدار ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے باوجود میں تمہیں یہی حکم دیتا ہوں، انہوں نے کہا کہ اگر میں ان کے درمیان فیصلہ کر دوں تو مجھے کیا ثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے ان کے درمیان فیصلہ کیا اور صحیح کیا تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے محنت تو کی لیکن فیصلہ میں غلطی ہوگئی تو تمہیں ایک نیکی ملے گی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17824]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لعلل
الحكم: إسناده ضعيف جدا لعلل
حدیث نمبر: 17825 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْفَرَجُ ، رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنْ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ، فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِنْ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ، فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ".
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الفرج
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الفرج
حدیث نمبر: 17826 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ، عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى : قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا قَدْ وَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى هَوْدَجِهَا، قَالَ: فَمَالَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ، فَدَخَلْنَا مَعَهُ، فَقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ، فَإِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ كَثِيرَةٍ، فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مِثْلُ هَذَا الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ" . قَالَ حَسَنٌ: فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي يَدَيْهَا حَبَائِرُهَا وَخَوَاتِيمُهَا قَدْ وَضَعَتْ يَدَيْهَا. وَلَمْ يَقُلْ حَسَنٌ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمارہ بن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرہ کے سفر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اسی جگہ پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیکھو! تمہیں کچھ دکھائی دے رہا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ چند کوے نظر آرہے ہیں، جن میں ایک سفید کوا بھی ہے جس کی چونچ اور دونوں پاؤں سرخ رنگ کے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں صرف وہی عورتیں داخل ہو سکیں گی جو کو وں کی اس جماعت میں اس کوے کی طرح ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17826]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، لكن تفرد به حماد بن سلمة
الحكم: رجاله ثقات، لكن تفرد به حماد بن سلمة
حدیث نمبر: 17827 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، ابْنِ شِمَاسَةَ ، عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، قَالَ: لَمَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَنِي، فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: لَا أُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي. قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَمْرُو، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، يَا عَمْرُو، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی حقانیت پیدا فرما دی تو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیعت کے لئے حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری جانب بڑھایا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اس وقت تک آپ سے بیعت نہیں کروں گا جب تک آپ میری گزشتہ لغزشات کو معاف نہیں کردیتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عمرو! کیا تم نہیں جانتے کہ ہجرت اپنے سے پہلے کے تمام گناہ مٹا دیتی ہے؟ اے عمرو! کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے!۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح