بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 22
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 17731 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قُدُورِ أهل الكتاب، فَقَالَ: " إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَاغْسِلْ وَاطْبُخْ" , وَسَأَلَهُ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَعَنْ كُلِّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اہل کتاب کی ہانڈیوں کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھوکر کھانا پکا سکتے ہو، پھر گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17731]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5478، م: 1930، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمع من أبى ثعلبة
الحكم: حديث صحيح، خ: 5478، م: 1930، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمع من أبى ثعلبة
حدیث نمبر: 17732 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، مَكْحُولٍ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَسَاوِئكُمْ أَخْلَاقًا، الثَّرْثَارُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب اچھے اخلاق والے ہوں گے اور میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مبغوض اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ دور بداخلاق، بےہودہ گو، پھیلا کر لمبی بات کرنے والے اور جبڑا کھول کر بتکلف بولنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17732]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يسمع من أبى ثعلبة الخشني
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يسمع من أبى ثعلبة الخشني
حدیث نمبر: 17733 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، مَكْحُولٍ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ. فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ، فَكُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ". قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ رَمْيٍ. قَالَ:" مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، فَكُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى، وَالْمَجُوسِ، وَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ. قَالَ:" فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم شکاری لوگ ہیں (ہمیں احکام صید بتائیے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ پڑھ لو، تو وہ جو شکار کرے، تم اسے کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا اگرچہ کتا اس شکار کو مار چکا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ اسے مار چکا ہو، میں نے عرض کیا کہ ہم لوگ تیر انداز ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری کمان تمہیں جو چیز لوٹا دے وہ تم کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا کہ ہم مسافر لوگ ہیں، یہود و نصاری اور مجوس کے پاس سے گذرتے ہیں اور ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہیں ملتا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے تو اسے پانی سے دھو لو، پھر اس میں کھاپی سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17733]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5478، م: 1931، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعن ، مكحول لم يسمع من أبى ثعلبة
الحكم: حديث صحيح، خ: 5478، م: 1931، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعن ، مكحول لم يسمع من أبى ثعلبة
حدیث نمبر: 17734 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ وَهُوَ بِالْفُسْطَاطِ فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَغْزَى النَّاسَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا تَعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ إِذَا رَأَيْتَ الشَّامَ مَائِدَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے جبکہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شہر فسطاط میں تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسطنطنیہ میں جہاد کے لئے بھیجا ہوا تھا، سنا کہ بخدا! یہ امت نصف دن سے عاجز نہیں آئے گی، جب تم شام کو ایک آدمی اور اس کے اہل بیت کا دستر خوان دیکھ لو تو قسطنطنیہ کی فتح قریب ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17734]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17735 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي إِدْرِيسَ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ:" حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَلَحْمَ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پالتو گدھوں سے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17735]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، شطره الثاني أخرجه البخاري: 5530، ومسلم: 1932
الحكم: إسناده صحيح، شطره الثاني أخرجه البخاري: 5530، ومسلم: 1932
حدیث نمبر: 17736 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ زَبْرٍ ، مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ ، أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ زَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَعَسْكَرَ، تَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، فَقَامَ فِيهم، فَقَالَ: " إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي الشِّعَابِ والأَزدِية إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ" قَالَ: فَكَانُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا نَزَلُوا، انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، حَتَّى إِنَّكَ لَتَقُولُ: لَوْ بَسَطْتُ عَلَيْهِمْ كِسَاءً لَعَمَّهُمْ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی لشکر کے ساتھ کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو لوگ مختلف گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہوجاتے تھے، (ایک مرتبہ ایسا ہی ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ نے کھڑے ہو کر فرمایا تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہونا) شیطان کی وجہ سے ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب بھی کسی مقام پر پڑاؤ ہوتا تو لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب رہتے تھے کہ تم کہہ سکتے ہو اگر انہیں ایک چادر اوڑھائی جاتی تو وہ سب پر آجاتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17736]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5478، م: 1930
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5478، م: 1930
حدیث نمبر: 17737 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبْ لِي بِأَرْضِ كَذَا وَكَذَا لأَرْضٍ بِالشَّامِ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ هَذَا؟" فَقَالَ أَبُو ثَعْلَبَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَظْهَرُنَّ عَلَيْهَا. قَالَ: فَكَتَبَ لَهُ بِهَا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ، فَأُرْسِلُ كَلْبِيَ الْمُكَلَّبَ، وَكَلْبِيَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ؟ قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَسَمَّيْتَ، فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ، وَإِنْ قَتَلَ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ، فَكُلْ، وَكُلْ مَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ، وَإِنْ قَتَلَ، وَسَمِّ اللَّهَ". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ أَهْلِ كِتَابٍ، وَإِنَّهُمْ يَأْكُلُونَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ، وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِآنِيَتِهِمْ وَقُدُورِهِمْ؟ قَالَ:" إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَارْحَضُوهَا وَاطْبُخُوا فِيهَا، وَاشْرَبُوا". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يُحَرَّمُ عَلَيْنَا؟ قَالَ:" لَا تَأْكُلُوا لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، وَلَا كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شام میں فلاں فلاں زمین جس پر ابھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غالب نہیں آئے تھے میرے نام لکھ دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تم ان کی بات سن نہیں رہے؟ حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، آپ اس پر ضرور غالب آئیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس مضمون کی ایک تحریر لکھ کر دے دی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم شکاری لوگ ہیں (ہمیں احکام صید بتائیے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ پڑھ لو، تو وہ جو شکار کرے، تم اسے کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا اگرچہ کتا اس شکار کو مارچکا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ اسے مار چکا ہو اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو اور تم اسے ذبح کرسکو تو ذبح کر کے کھالو، تمہاری کمان تمہیں جو چیز لوٹا دے، وہ تم کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا ہم لوگ یہودونصاری کے علاقے میں رہتے ہیں، وہ لوگ خنزیر کھاتے اور شراب پیتے ہیں، تو ہم ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کو کس طرح استعمال کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے تو اسے پانی سے دھو لو، پھر اس میں کھا پی سکتے ہو۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے لئے کیا چیز حلال اور کیا چیز حرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پالتو گدھے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے کو مت کھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17737]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 1931 دون قصة الأرض، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمع من أبى ثعلبة
الحكم: صحيح، م: 1931 دون قصة الأرض، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمع من أبى ثعلبة
حدیث نمبر: 17738 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17738]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5530، م: 932
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5530، م: 932
حدیث نمبر: 17739 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي إِدْرِيسَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي إِدْرِيسَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي خِلَافَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5530، م: 932
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5530، م: 932
حدیث نمبر: 17740 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5530، م: 932
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5530، م: 932
حدیث نمبر: 17741 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَأَصَبْنَا بِهَا حُمُرًا مِنْ حُمُرِ الْإِنْسِ، فَذَبَحْنَاهَا، قَالَ: فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَنَادَى فِي النَّاسِ: " أَنَّ لُحُومَ الحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ لَا تَحِلُّ لِمَنْ شَهِدَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ"، قَالَ: وَوَجَدْنَا فِي جِنَانِهَا بَصَلًا وَثُومًا، وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَجَهِدُوا فَرَاحُوا، فَإِذَا رِيحُ الْمَسْجِدِ بَصَلٌ وَثُومٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ، فَلَا يَقْرَبْنَا"، وَقَالَ:" لَا تَحِلُّ النُّهْبَى، وَلَا يَحِلُّ كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ خیبر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شرکت کی ہے، لوگ بھوکے تھے، ہمیں کچھ پالتو گدھے ہاتھ لگے، ہم نے انہیں ذبح کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں منادی کردی کہ جو شخص میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہے، اس کے لئے پالتو گدھوں کا گوشت حلال نہیں ہے، ہم نے وہاں کے باغات میں لہسن اور پیاز پایا، لوگ چونکہ بھوکے تھے اس لئے انہوں نے اسے نکالا اور کھانے لگے، جب وہ مسجد میں آئے تو مسجد میں لہسن اور پیاز کی بو بسی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ گندی سبزی کھائے، وہ ہمارے قریب نہ آئے، لوٹ مار کا جانور حلال نہیں ہے، کچلی سے شکار کرنے والا کوئی جانور اور نشانہ بنایا ہوا کوئی جانور حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17741]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بقية بن الوليد مدلس ، وقد عنعن ، لكنه توبع
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بقية بن الوليد مدلس ، وقد عنعن ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17742 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ ، الْخُشَنِيَّ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي، وَيُحَرَّمُ عَلَيَّ، قَالَ: فَصَعَّدَ فِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَوَّبَ فِيَّ النَّظَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ: " الْبِرُّ مَا سَكَنَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا لَمْ تَسْكُنْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَلَمْ يَطْمَئِنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ" وَقَالَ: " لَا تَقْرَبْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا ذَا نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ کون سی چیزیں میرے لئے حلال اور کون سی چیزیں حرام ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا اور فرمایا کہ نیکی وہ ہوتی ہے جسے کر کے نفس کو سکون اور دل کو اطمینان نصیب ہو اور گناہ وہ ہوتا ہے جس میں نفس کو سکون ملتا ہے اور نہ ہی دل کو اطمینان، اگرچہ مفتی فتوے دیتے رہیں اور فرمایا پالتو گدھوں کے گوشت اور کچلی سے شکار کرنے والے کسی درندے کے قریب بھی نہ جانا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17742]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17743 مسند احمد
يَزِيدُ ، دَاوُدُ ، مَكْحُولٍ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَبُّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبُكُمْ مِنِّي، مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي، مَسَاوِئكُمْ أَخْلَاقًا، الثَّرْثَارُونَ، الْمُتَشَدِّقُونَ، الْمُتَفَيْهِقُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب اچھے اخلاق والے ہوں گے اور میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مبغوض اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ دور بداخلاق، بیہودہ گو، پھیلا کر لمبی بات کرنے والے اور جبڑا کھول کر بتکلف بولنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17743]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يسمع من ابي ثعلبة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يسمع من ابي ثعلبة
حدیث نمبر: 17744 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ، فَغَابَ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَأَدْرَكْتَهُ، فَكُلْ مَا لَمْ يُنْتِنْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی جانور پر تیر چلاؤ اور وہ شکار تین دن تک تمہیں نہ ملے، تین دن کے بعد ملے تو اگر اس میں بدبو پیدا نہ ہوئی ہو تو تم اسے کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17744]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1931
الحكم: إسناده صحيح، م: 1931
حدیث نمبر: 17745 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، أبو الْعَلَاءِ بْنُ زَبْرٍ ، مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ ، أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبو الْعَلَاءِ بْنُ زَبْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي مِمَّا يُحَرَّمُ عَلَيَّ. قَالَ: فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ، ثُمَّ قَالَ:" نُوَيْبِتَةٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ، أَمْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ:" بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ، لَا تَأْكُلْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ کون سی چیزیں میرے لئے حلال اور کون سی چیزیں حرام ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا اور فرمایا کہ چھوٹی سی خبر ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیر کی خبر ہے یا شر کی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خیر کی، پھر فرمایا پالتو گدھوں کے گوشت اور کچلی سے شکار کرنے والے کسی درندے کا گوشت نہ کھانا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17745]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17746 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي إِدْرِيسَ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، مِثْلَ ذَلِكَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17747 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبَا إِدْرِيسَ ، أَبَا ثَعْلَبَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ قَالَ:" حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پالتو گدھوں سے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17747]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17748 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيُّ ، يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ الْكَلَاعِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ، ثُمَّ صَوَّبَهُ، فَقَالَ:" نُوَيْبِتَةٌ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ:" بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ، فَأُرْسِلُ كَلْبِي الْمُعَلَّمَ، فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَأَرْمِي بِسَهْمِي، فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدُكَ وَقَوْسُكَ وَكَلْبُكَ الْمُعَلَّمُ، ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسم نے مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھوٹی سی خبر ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیر کی خبر ہے یا بری خبر؟ فرمایا خیر کی، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں، میں اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں تو کبھی جانور کو ذبح کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور کبھی نہیں (شکار تک میرے پہنچنے سے پہلے، وہ مرچکا ہوتا ہے) اسی طرح میں تیر چھوڑتا ہوں، تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے، میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا ہاتھ، کمان اور سدھایا ہوا کتا تمہارے پاس جو چیز شکار کر کے لے آئے خواہ اسے ذبح کرنے کا موقع ملا ہو یا نہیں، تم اسے کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1931
الحكم: إسناده صحيح، م: 1931
حدیث نمبر: 17749 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أُصْبَعِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَقْرَعُ يَدَهُ بِعُودٍ مَعَهُ، فَغَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَأَخَذَ الْخَاتَمَ، فَرَمَى بِهِ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرَهُ فِي أُصْبَعِهِ، فَقَالَ: " مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چھڑی سے ان کے ہاتھ کو ہلانے لگے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دوبارہ جب نظر پڑی تو انگلی میں انگوٹھی نظر نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں تکلیف دی اور مقروض بنادیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17749]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف النعمان بن راشد ، وقد خولف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف النعمان بن راشد ، وقد خولف
حدیث نمبر: 17750 مسند احمد
مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَعَفَّانُ ، وَهَذَا لَفْظُ مُهَنَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ، أَفَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ، وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا فِيهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذَكِّ وَكُلْ، وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَقَتَلَ، فَكُلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگ اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں اور ان کے برتنوں میں پی سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھو کر کھانا پکا سکتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں، ہم کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑو اور تم نے اس پر اللہ کا نام بھی لیا ہو اور وہ اسے مار دے تو تم اسے کھالو اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو تو تم شکار کو ذبح کرلو اور کھالو، اسی طرح جب تم اللہ کا نام لے کر تیر مارو اور وہ تیر اسے مار دے تو تم اسے بھی کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17750]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح