أَبُو الْمُغِيرَةِ ، أبو الْعَلَاءِ بْنُ زَبْرٍ ، مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ ، أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبو الْعَلَاءِ بْنُ زَبْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي مِمَّا يُحَرَّمُ عَلَيَّ. قَالَ: فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ، ثُمَّ قَالَ:" نُوَيْبِتَةٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ، أَمْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ:" بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ، لَا تَأْكُلْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ کون سی چیزیں میرے لئے حلال اور کون سی چیزیں حرام ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا اور فرمایا کہ چھوٹی سی خبر ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیر کی خبر ہے یا شر کی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خیر کی، پھر فرمایا پالتو گدھوں کے گوشت اور کچلی سے شکار کرنے والے کسی درندے کا گوشت نہ کھانا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17745]
الحكم: إسناده صحيح