يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيُّ ، يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ الْكَلَاعِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ، ثُمَّ صَوَّبَهُ، فَقَالَ:" نُوَيْبِتَةٌ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ:" بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ، فَأُرْسِلُ كَلْبِي الْمُعَلَّمَ، فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَأَرْمِي بِسَهْمِي، فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدُكَ وَقَوْسُكَ وَكَلْبُكَ الْمُعَلَّمُ، ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسم نے مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھوٹی سی خبر ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیر کی خبر ہے یا بری خبر؟ فرمایا خیر کی، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں، میں اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں تو کبھی جانور کو ذبح کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور کبھی نہیں (شکار تک میرے پہنچنے سے پہلے، وہ مرچکا ہوتا ہے) اسی طرح میں تیر چھوڑتا ہوں، تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے، میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا ہاتھ، کمان اور سدھایا ہوا کتا تمہارے پاس جو چیز شکار کر کے لے آئے خواہ اسے ذبح کرنے کا موقع ملا ہو یا نہیں، تم اسے کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1931
الحكم: إسناده صحيح، م: 1931