بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث رَافِعِ بنِ خَدِیج رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 35
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 17276 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، يَحْيَى ابْنُ سَعِيدٍ ، بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فِي حَاجَةٍ لَهُمَا، فَتَفَرَّقَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، وَوَجَدُوهُ قَتِيلًا، قَالَ: فَجَاءَ مُحَيِّصَةُ، وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، وَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْقَتِيلِ، وَكَانَ أَحْدَثَهُمَا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ، فَبَدَأَ الَّذِي أَوْلَى بِالدَّمِ، وَكَانَا هَذَيْنِ أَسَنُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرْ الْكِبَرَ"، قَالَ: فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَحِقُّوا صَاحِبَكُمْ أَوْ قَتِيلَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْه، فَكَيْفَ نَحْلِفُ؟ قَالَ:" فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ أَيْمَانًا مِنْهُمْ"، فَقَالُوا: قَوْمٌ كُفَّارٌ، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ، فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ الَّتِي وَدَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهَا رَكْضَةً ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود اپنے کسی کام کے سلسلے میں خیبر آئے، وہ دونوں متفرق ہوئے تو کسی نے عبداللہ کو قتل کردیا اور وہ خیبر کے وسط میں مقتول پائے گئے، ان کے دو چچا اور بھائی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، ان کے بھائی کا نام عبدالرحمن بن سہل اور چچاؤں کے نام حویصہ اور محیصہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے عبدالرحمن بولنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا بڑوں کو بولنے دو، چنانچہ ان کے چچاؤں میں سے کسی نے ایک گفتگو شروع کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا کر کہہ دیں کہ اسے یہودیوں نے قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے کہ ہم نے جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں ہے، اس پر قسم کیسے کھا سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر پچاس یہودی قسم کھا کر اس بات سے برأت ظاہر کردیں اور کہہ دیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا ہے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم ان کی قسم پر کیسے اعتماد کرسکتے ہیں کہ وہ تو مشرک ہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کردی، دیت کے ان اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹ نے مجھے ٹانگ مار دی تھی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17276]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6142، م: 1669
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6142، م: 1669
حدیث نمبر: 17277 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
قَالَ عَبْدِ الله بْنُ أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6142، م: 1669
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6142، م: 1669
حدیث نمبر: 17278 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَمِّي
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُنْبِتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْئًا مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الزَّرْعِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: كَيْفَ كِرَاؤُهَا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں زمین کی پیداوار اور کھیت کے کچھ حصے کے عوض جسے زمیندار مستثنی کرلیتا تھا، زمین کرائے پردے دیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ میں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ دینار و درہم کے بدلے زمین کو کرائے پر لینا دینا کیسا ہے؟ حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2346، م: 1547
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2346، م: 1547
حدیث نمبر: 17279 مسند احمد
أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ أَوْ لِأَجْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صبح کی نماز روشنی میں پڑھا کرو کہ اس کا ثواب زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17279]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17280 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرًا ، ابْنَ عُمَرَ ، رَافِعٌ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا ، قَالَ: سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا، حَتَّى زَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، فَتَرَكْنَاهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم لوگ زمین کو بٹائی پردے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، بعد میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اس لئے ہم نے اسے ترک کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17280]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17281 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پھل یا شگوفے چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17281]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد بن يحيى ورافع بن خديج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد بن يحيى ورافع بن خديج
حدیث نمبر: 17282 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ نَافِعٍ الْكَلَاعِيِّ ، أَبِي
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ نَافِعٍ الْكَلَاعِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ بِالْمَدِينَةِ، فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَإِذَا شَيْخٌ، فَلَامَ الْمُؤَذِّنَ، وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ أَبِي أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ هَذِهِ الصَّلَاةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا الشَّيْخُ؟ قَالُوا: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالواحد بن نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کی کسی مسجد کے قریب سے گذرا تو دیکھا کہ نماز کے لئے اقامت کہی جا رہی ہے اور ایک بزرگ مؤذن کو ملامت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میرے والد نے مجھے یہ حدیث بتائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس نماز کو مؤخر کرنے کا حکم دیتے تھے؟ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ بزرگ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17282]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ومتنه منكر، عبدالواحد بن نافع ضعيف، فقد روي عن
الحكم: إسناده ضعيف ومتنه منكر، عبدالواحد بن نافع ضعيف، فقد روي عن
حدیث نمبر: 17283 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى؟ قَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ، فَمُدَى الْحَبَشَةِ" . قَالَ: قَالَ: وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَسَعَوْا لَهُ، فَلَمْ يَسْتَطِيعُوهُ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوْ قَالَ: النَّعَمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کل ہمارا دشمن (جانوروں) سے آمنا سامنا ہوگا، جبکہ ہمارے پاس تو کوئی چھری نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دانت ناخن کے علاوہ جو چیز جانور کا خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا گیا ہو، تم اسے کھا سکتے ہو اور اس کی وجہ بھی بتادوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اس دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مال غنیمت کے طور پر کچھ اونٹ ملے جن میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگوں نے اسے قابو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے، تنگ آکر ایک آدمی نے اسے تاک کر تیر مارا اور اسے قابو میں کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جانور بھی بعض اوقات وحشی ہوجاتے ہیں جیسے وحشی جانور بپھر جاتے ہیں، جب تم کسی جانور سے مغلوب ہوجاؤ تو اس کے اسی طرح کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17283]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5503، م: 1968
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5503، م: 1968
حدیث نمبر: 17284 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يُكْرُونَ الْمَزَارِعَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاذِيَانَاتِ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِرَاءَ الْمَزَارِعِ بِهَذَا، وَنَهَى عَنْهَا ، قَالَ رَافِعٌ: لَا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگ قابل کاشت زمین سبزیوں، پانی کی نالیوں اور کچھ بھوسی کے عوض بھی کرائے پردے دیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان چیزوں کے عوض اسے اچھا نہیں سمجھا اس لئے اس سے منع فرما دیا، البتہ درہم و دینار کے عوض اسے کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17284]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2332، م: 1547
الحكم: حديث صحيح، خ: 2332، م: 1547
حدیث نمبر: 17285 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْعَامِلُ بِالْحَقِّ عَلَى الصَّدَقَةِ، كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی رضاء کے لئے حق کے ساتھ زکوٰۃ وصول کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہو، تاآنکہ اپنے گھر واپس لوٹ آئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17285]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17286 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، مَحْمُودِ بْن لَبِيدٍ ، بَعْضِ
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْن لَبِيدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صبح کی نماز روشنی میں پڑھا کرو اس کا ثواب زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17286]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زيد بن أسلم لم يسمع من محمود ابن لبيد، وهشام بن سعد ضعيف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زيد بن أسلم لم يسمع من محمود ابن لبيد، وهشام بن سعد ضعيف
حدیث نمبر: 17287 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبُو أُوَيْسٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَمَّيْهِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عِنْدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ عَمَّيْهِ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا أَخْبَرَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے زمین کو کرائے پر لینے دینے کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے دو چچاؤں سے جو شرکاء بدر میں سے تھے اپنے اہل خانہ کو یہ حدیث سناتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر لینے دینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17287]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، أبو أويس ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح ، أبو أويس ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17288 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ ، بَعْضِ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ، فَاغْتَسَلْتُ، وَخَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ، فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَلَيْكَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ"، قَالَ رَافِعٌ: ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغُسْلِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے میرے گھر کے باہر سے آواز دی، میں اس وقت اپنی بیوی کے ساتھ " مشغول " تھا، آواز سن کر میں اٹھ کھڑا ہوا، اس وقت تک انزال نہیں ہوا تھا تاہم میں نے غسل کرلیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس باہر نکل آیا اور بتایا کہ جس وقت آپ نے مجھے آواز دی، اس وقت میں اپنی بیوی کے ساتھ مشغول تھا، میں اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا، انزال نہیں ہوا تھا لیکن میں نے غسل کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی ضرورت نہیں تھی انزال سے غسل واجب ہوتا ہے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں غسل کا حکم دے دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17288]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد، ولجهالة بعض ولد رافع
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد، ولجهالة بعض ولد رافع
حدیث نمبر: 17289 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبِي النَّجَاشِيِّ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَنْحَرُ الْجَزُورَ، فَنُقَسِّمُهُ عَشَرَةَ أَجْزَاءٍ، ثُمَّ نَطْبُخُ، فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کرتے، اس کے دس حصے بناتے، پھر اسے پکاتے اور نماز مغرب سے پہلے پکا ہوا گوشت کھالیتے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17289]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ: 2485، محمد بن مصعب فيه كلام، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح ، خ: 2485، محمد بن مصعب فيه كلام، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17290 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَطَاءٌ أَبُو النَّجَاشِيِّ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: لَقِيَنِي عَمِّي ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، قَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا هُوَ يَا عَمُّ؟ قَالَ: نَهَانَا أَنْ نُكْرِيَ مَحَاقِلَنَا، يَعْنِي أَرْضَنَا الَّتِي بِصِرَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: أَيْ عَمُّ، طَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ تُكْرُوهَا؟" قَالَ: بِالْجَدَاوِلِ الرُّبِّ، وَبِالْأَصَوَاعِ مِنَ الشَّعِيرِ؟ قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا"، قَالَ: فَبِعْنَا أَمْوَالَنَا بِصِرَارٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَأَلْتُ أَبِي عَنْ أَحَادِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، مَرَّةً يَقُولُ: نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَرَّةً يَقُولُ: عَنْ عَمَّيْهِ، فَقَالَ: كُلُّهَا صِحَاحٌ، وَأَحَبُّهَا إِلَيَّ حَدِيثُ أَيُّوبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری ملاقات اپنے چچا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ سے ہوگئی، انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لئے نفع بخش ہوسکتی تھی، میں نے پوچھا چچاجان! اور وہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ بلند جگہوں پر جو ہماری زمینیں ہیں، ان میں مزارعت سے ہمیں منع فرما دیا ہے، میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لئے اس سے بھی زیادہ نفع بخش ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تم کسی چیز کے بدلے زمین کو کرائے پر دیتے ہو؟ انہوں نے کہا چھوٹی نالیوں کی پیداوار اور جو کے مقررہ صاع کے عوض، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو، جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو، وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے، اگر خود نہیں کرسکتا تو اپنے کسی بھائی کو اجازت دے دے چنانچہ ہم نے وہاں پر موجود اپنی زمینیں بیچ دیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17290]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1548، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1548، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة، لكنه توبع