بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث رَافِعِ بنِ خَدِیج رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 35
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 17256 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، رَافِعًا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَلَغَهُ، أَنَّ رَافِعًا يُحَدِّثُ فِي ذَلِكَ بِنَهْيٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ" ، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ، فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا، فَكَانَ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ: زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِع".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ زمین کو بٹائی پردے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، بعد میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اس لئے ہم نے اسے ترک کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2344، م: 1547
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2344، م: 1547
حدیث نمبر: 17257 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ أَوْ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صبح کی نماز روشنی میں پڑھا کرو کہ اس کا ثواب زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17257]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17258 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، رَبِيعَةُ ، حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ"، قَالَ: قُلْتُ: بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَأَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر سونے چاندی کے عوض ہو تو فرمایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کی پیداوار کے عوض اسے اچھا نہیں سمجھا البتہ درہم و دینار کے عوض اسے کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2332، م: 1547
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2332، م: 1547
حدیث نمبر: 17259 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ أُخْتِ النِّمْرِ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ أُخْتِ النِّمْرِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " شَرُّ الْكَسْبِ: ثَمَنُ الْكَلْبِ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے کی کمائی گندی ہے، فاحشہ عورت کی کمائی گندی ہے اور کتے کی قیمت گندی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1568
الحكم: إسناده صحيح، م: 1568
حدیث نمبر: 17260 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ، وَلَا كَثَرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پھل یا شگوفے چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17260]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد بن يحيى ورافع بن خديج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد بن يحيى ورافع بن خديج
حدیث نمبر: 17261 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، أَبِي ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى؟ قَالَ: " أَعْجِلْ أَوْ أَرِنْ، مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ" . قَالَ: وَأَصَابَنَا نَهْبُ إِبِلٍ وَغَنَمٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَرَمَاهَا رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لَهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ، فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کل ہمارا دشمن (جانوروں) سے آمنا سامنا ہوگا، جبکہ ہمارے پاس تو کوئی چھری نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دانت ناخن کے علاوہ جو چیز جانور کا خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا گیا ہو، تم اسے کھا سکتے ہو اور اس کی وجہ بھی بتادوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اس دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مال غنیمت کے طور پر کچھ اونٹ ملے جن میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگوں نے اسے قابو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے، تنگ آکر ایک آدمی نے اسے تاک کر تیر مارا اور اسے قابو میں کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جانور بھی بعض اوقات وحشی ہوجاتے ہیں جیسے وحشی جانور بپھر جاتے ہیں، جب تم کسی جانور سے مغلوب ہوجاؤ تو اس کے اسی طرح کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17261]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5509، م: 1968
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5509، م: 1968
حدیث نمبر: 17262 مسند احمد
أَبُو أُسَامَةَ ، الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا، فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، البتہ ضرورت مندوں کو (پانچ وسق سے کم میں) اس کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17262]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1540
الحكم: إسناده صحيح، م: 1540
حدیث نمبر: 17263 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِيهِ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلًا، قَالَ: فَعَجَّلَ الْقَوْمُ، فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَالَ:" عَدْلُ عَشْرَةٍ مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ"، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا" . قَالَ: قَالَ: فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : إِنَّا لَنَرْجُو وَإِنَّا لَنَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ قَالَ: " أَعْجِلْ أَوْ أَرِنْ، مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگ ذوالحلیفہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مال غنیمت کے طور پر کچھ بکریاں اور اونٹ ملے لوگوں نے جلدی سے ہانڈیاں چڑھا دیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور ہانڈیاں الٹا دینے کا حکم دیا، پھر فرمایا ایک اونٹ کے مقابلے میں دس بکریاں بنتی ہییں، ان اونٹوں میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگوں نے اسے قابو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے، تنگ آکر ایک آدمی نے اسے تاک کر تیر مارا اور اسے قابو میں کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جانور بھی بعض اوقات وحشی ہوجاتے ہیں جیسے وحشی جانور بپھر جاتے ہیں، جب تم کسی جانور سے مغلوب ہوجاؤ تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو، کل ہمارا دشمن (جانوروں) سے آمنا سامنا ہوگا، جبکہ ہمارے پاس تو کوئی چھری نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دانت اور ناخن کے علاوہ جو چیز جانور کا خون بہادے اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا گیا ہو، تم اسے کھا سکتے ہو اور اس کی وجہ بھی بتادوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17263]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2507، م: 1968
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2507، م: 1968
حدیث نمبر: 17264 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي حَصِينٍ ، مُجَاهِدٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَأْجَرَ الْأَرْضُ بِالدَّرَاهِمِ الْمَنْقُودَةِ، أَوْ بِالثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حفل سے منع فرمایا ہے، راوی نے پوچھا کہ حفل سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تہائی اور چوتھائی کے عوض زمین کو بٹائی پر دینا، یہ حدیث سن کر ابراہیم نے بھی اس کے مکروہ ہونے کا فتوی دے دیا اور دراہم کے عوض زمین لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17264]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح و بعضه منكر، وهذا اسناد ضعيف، وفيه انقطاع، مجاهد لم يسمع من رافع بن خديج، وشريك سيئ الحفظ
الحكم: بعضه صحيح و بعضه منكر، وهذا اسناد ضعيف، وفيه انقطاع، مجاهد لم يسمع من رافع بن خديج، وشريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17265 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، وَائِلٍ أَبِي بَكْرٍ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ وَائِلٍ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے افضل اور عمدہ کمائی کون سی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہاتھ کی کمائی اور ہر مقبول تجارت۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17265]
حکم دارالسلام
حسن لغيره على خطأ فى إسناده
الحكم: حسن لغيره على خطأ فى إسناده
حدیث نمبر: 17266 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِيهِ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے، اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3262، م: 2212
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3262، م: 2212
حدیث نمبر: 17267 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عِكْرِمَةُ ، أَبِي النَّجَاشِيِّ ، رَافِعٌ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعًا عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، قُلْتُ: إِنَّ لِي أَرْضًا أُكْرِيهَا؟ فَقَالَ رَافِعٌ : لَا تُكْرِهَا بِشَيْءٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَدَعْهَا"، فَقُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ إِنْ تَرَكْتُهُ وَأَرْضِي، فَإِنْ زَرَعَهَا، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ مِنَ التِّبْنِ؟ قَالَ:" لَا تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا وَلَا تِبْنًا"، قُلْتُ: إِنِّي لَمْ أُشَارِطْهُ، إِنَّمَا أَهْدَى إِلَيَّ شَيْئًا؟ قَالَ:" لَا تَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالنجاشی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کا مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس کچھ زمین ہے، میں اسے کرائے پردے سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے کرائے پر نہ دو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ خود کھیتی باڑی کرے، خود نہ کرسکے تو اپنے کسی بھائی کو اجازت دے دے اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتا تو پھر اسی طرح رہنے دے۔ میں نے کہا یہ بتائیے کہ اگر میں کسی کو اپنی زمین دے کر چھوڑ دوں اور وہ کھیتی باڑی کرے اور مجھے بھوسہ بھیج دیا کرے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا تم اس سے کچھ بھی نہ لو حتی کہ بھوسہ بھی نہ لو، میں نے کہا کہ اس سے اس کی شرط نہیں لگاتا، بلکہ وہ میرے پاس صرف ہدیۃ بھیجتا ہے؟ فرمایا پھر بھی تم اس سے کچھ نہ لو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1548
الحكم: إسناده صحيح، م: 1548
حدیث نمبر: 17268 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ جَدَّهُ حِينَ مَاتَ تَرَكَ جَارِيَةً، وَنَاضِحًا، وَغُلَامًا حَجَّامًا، وَأَرْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَارِيَةِ، فَنَهَى عَنْ كَسْبِهَا قَالَ شُعْبَةُ مَخَافَةَ أَنْ تَبْغِيَ وَقَالَ: " مَا أَصَابَ الْحَجَّامُ فَاعْلِفْهُ النَّاضِحَ"، وَقَالَ فِي الْأَرْضِ:" ازْرَعْهَا أَوْ ذَرْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کے دادا کا انتقال ہوا تو وہ اپنے ترکے میں ایک باندی، ایک پانی لانے والا اونٹ، ایک حجام غلام اور کچھ زمین چھوڑ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باندی کے متعلق تو یہ حکم دیا کہ اس کی کمائی سے منع کردیا، (تاکہ کہیں وہ پیشہ ور نہ بن جائے) اور فرمایا حجام جو کچھ کما کر لائے، اس کا چارہ خرید کر اونٹ کو کھلا دیا کرو اور زمین کے متعلق فرمایا کہ اسے خود کھیتی باڑی کے ذریعے آباد کرو یا یونہی چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17268]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لإرساله واضطرابه، يحيي بن أبى سليم كان يخطي، وقد اختلف فيه على عباية بن رفاعة
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لإرساله واضطرابه، يحيي بن أبى سليم كان يخطي، وقد اختلف فيه على عباية بن رفاعة
حدیث نمبر: 17269 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَالْخُزَاعِيُّ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَطَاءٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَالْخُزَاعِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ قَالَ الْخُزَاعِيُّ: مَا أَنْفَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مالک کی اجازت کے بغیر اس کی زمین میں فصل اگائے، اس سے اس کا خرچ ملے گا، فصل میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17269]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكن تابعه ضعيف مثله ، ولانقطاعه، عطاء لم يسمع من رافع
الحكم: صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكن تابعه ضعيف مثله ، ولانقطاعه، عطاء لم يسمع من رافع
حدیث نمبر: 17270 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے کی کمائی گندی ہے، فاحشہ عورت کی کمائی گندی ہے اور کتے کی قیمت گندی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17270]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17271 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ مَكَّةَ، قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان ساری جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17271]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1361، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين
الحكم: حديث صحيح، م: 1361، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين
حدیث نمبر: 17272 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: خَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَكَّةَ وَحُرْمَتَهَا، فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ: إِنَّ مَكَّةَ إِنْ تَكُنْ حَرَمًا، فَإِنَّ الْمَدِينَةَ حَرَمٌ حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مَكْتُوبٌ عِنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ، إِنْ شِئْتَ أَنْ نُقْرِئَكَهُ فَعَلْنَا، فَنَادَاهُ مَرْوَانُ: أَجَلْ قَدْ بَلَغَنَا ذَلِكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کے سامنے مکہ مکرمہ اور اس کے حرم ہونے کا تذکرہ کیا، تو حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا کہ اگر مکہ مکرمہ حرم ہے تو مدینہ منورہ بھی حرم ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے اور یہ بات ہمارے پاس چمڑے پر لکھی ہوئی موجود ہے، اگر تم چاہو تو ہم تمہارے سامنے اس عبارت کو پڑھ کر بھی سنا سکتے ہیں، مروان نے کہا ٹھیک ہے، یہ بات ہم تک بھی پہنچی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17272]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ،م: 1361، فليح بن سليمان حديثه صحيح فى المتابعات والشواهد، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح ،م: 1361، فليح بن سليمان حديثه صحيح فى المتابعات والشواهد، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17273 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، ابْنِ الْهَادِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا" ، يُرِيدُ الْمَدِينَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان ساری جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1361
الحكم: إسناده صحيح، م: 1361
حدیث نمبر: 17274 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى الْحُمْرَةَ قَدْ ظَهَرَتْ، فَكَرِهَهَا، فَلَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، جَعَلُوا عَلَى سَرِيرِهِ قَطِيفَةً حَمْرَاءَ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب سرخ رنگ کو غالب آتے ہوئے (بکثرت استعمال میں آتے ہوئے) دیکھا تو اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا: راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ان کی چارپائی پر سرخ رنگ کی چادر ڈال دی جس سے عوام کو بہت تعجب ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17274]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه انقطاع بين عثمان بن محمد وبين رافع بن خديج
الحكم: إسناده ضعيف، فيه انقطاع بين عثمان بن محمد وبين رافع بن خديج
حدیث نمبر: 17275 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبُو النَّجَاشِيِّ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَنْحَرُ الْجَزُورَ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قَسْمٍ، ثُمَّ تُطْبَخُ، فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ . قَالَ: وَكُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ. قَالَ: وَكُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کرتے، اس کے دس حصے بناتے، پھر اسے پکاتے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پکا ہوا گوشت کھالیتے اور نماز مغرب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم اس وقت پڑھتے تھے کہ جب نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17275]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، ووقت صلاة العصر فى خ: 2485، ووقت صلاة المغرب في، خ: 559، م: 637
الحكم: إسناده صحيح، ووقت صلاة العصر فى خ: 2485، ووقت صلاة المغرب في، خ: 559، م: 637