يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، رَبِيعَةُ ، حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ"، قَالَ: قُلْتُ: بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَأَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر سونے چاندی کے عوض ہو تو فرمایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کی پیداوار کے عوض اسے اچھا نہیں سمجھا البتہ درہم و دینار کے عوض اسے کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2332، م: 1547
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2332، م: 1547