قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يُكْرُونَ الْمَزَارِعَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاذِيَانَاتِ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِرَاءَ الْمَزَارِعِ بِهَذَا، وَنَهَى عَنْهَا ، قَالَ رَافِعٌ: لَا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگ قابل کاشت زمین سبزیوں، پانی کی نالیوں اور کچھ بھوسی کے عوض بھی کرائے پردے دیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان چیزوں کے عوض اسے اچھا نہیں سمجھا اس لئے اس سے منع فرما دیا، البتہ درہم و دینار کے عوض اسے کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17284]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2332، م: 1547
الحكم: حديث صحيح، خ: 2332، م: 1547