بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِیَّة حَدِیثِ اَبِی مَسعود البَدرِیِّ الاَنصَارِیِّ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 48
صفحہ 2 از 3
حدیث نمبر: 17083 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا، وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِغِلْمَانِهِ، تَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، قَالَ: فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ: نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ، تَجَاوَزُوا عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو حساب کتاب کے لئے بارگاہ خداوندی میں پیش کیا گیا، لیکن اس کی کوئی نیکی نہیں مل سکی، البتہ وہ مالدار آدمی تھا، لوگوں سے تجارت کرتا تھا، اس نے اپنے غلاموں سے کہہ رکھا تھا کہ تنگدست کو مہلت دیا کرو، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بات کے حقدار تو تجھ سے زیادہ ہم ہیں، فرشتو! میرے بندے سے بھی درگزر کرو چنانچہ اس کی بخشش ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17083]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1561
الحكم: إسناده صحيح، م: 1561
حدیث نمبر: 17084 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَيْ عُبَيْدٍ، قَالُوا: أَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي أُبْدِعَ بِي، فَاحْمِلْنِي، قَالَ: مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا، فَأَتَاهُ، فَحَمَلَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ، فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ" ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَإِنَّهُ قَدْ بُدِعَ بِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا سامان سفر اور سواری ختم ہو گئی ہے لہٰذا مجھے کوئی سواری دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تو میرے پاس کوئی جانور نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کر دوں، البتہ فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، وہ اس کے پاس چلا گیا اور اس نے سواری دے دی، وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع کر دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیکی کی طرف رہنمائی کر دے، اسے بھی نیکی کرنے والے کی طرح اجر و ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17084]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1893
الحكم: إسناده صحيح، م: 1893
حدیث نمبر: 17085 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ ، أَبَا شُعَيْبٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكَنَّى أَبَا شُعَيْبٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ، فَأَتَيْتُ غُلَامًا لِي قَصَّابًا، فَأَمَرْتُهُ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ رِجَالٍ، قَالَ: ثُمَّ دَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، وَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَابَ، قَالَ: " هَذَا قَدْ تَبِعَنَا، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ وَإِلَّا رَجَعَ" فَأَذِنَ لَهُ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا جس کا نام ابوشعیب تھا، اس کا ایک غلام قصائی تھا، اس نے اپنے غلام سے کہا کہ کسی دن کھانا پکاؤ تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کروں جو کہ پانچ میں سے پانچویں آدمی ہوں گے، چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی زائد آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے گھر پہنچ کر فرمایا کہ یہ ہمارے ساتھ آ گیا ہے، کیا تم اسے بھی اجازت دیتے ہو؟ اس نے اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2036
الحكم: إسناده صحيح، م: 2036
حدیث نمبر: 17086 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أُبْدِعَ بِي أَيْ انْقَطَعَ بِي فَاحْمِلْنِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17086]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1893
الحكم: إسناده صحيح، م: 1893
حدیث نمبر: 17087 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَضْرِبُ غُلَامًا لِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ وَرَائِي:" اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ" ثَلَاثًا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا"، قَالَ: فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَضْرِبَ مَمْلُوكًا أَبَدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں اپنے کسی غلام کو مار پیٹ رہا تھا کہ پیچھے سے ایک آواز تین مرتبہ سنائی دی، اے ابومسعود! یاد رکھو! میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بخدا! تم اس غلام پر جتنی قدرت رکھتے ہو، اللّٰہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے، اسی وقت میں نے قسم کھائی کہ آئندہ کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17087]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1659
الحكم: إسناده صحيح، م: 1659
حدیث نمبر: 17088 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ، وَعَنْ حُلْوَانِ الْكَاهِنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاحشہ عورت کی کمائی، اور کاہنوں کی مٹھائی کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17088]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2237، م: 1567
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2237، م: 1567
حدیث نمبر: 17089 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَبُو مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَأَخَّرَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مَرَّةً، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ مَرَّةً يَعْنِي الْعَصْرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مَسْعُودٍ : أَمَا وَاللَّهِ يَا مُغِيرَةُ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام نَزَلَ فَصَلَّى، وَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: انْظُرْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ هُوَ سَنَّ الصَّلَاةَ؟ قَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ فَمَا زَالَ عُمَرُ يَتَعَلَّمُ وَقْتَ الصَّلَاةِ بِعَلَامَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام زہری فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے، انہوں نے عصر کی نماز موخر کر دی، تو عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: مجھ سے بشیر بن ابی مسعود انصاری نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی نماز عصر میں تاخیر کر دی تھی، تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا تھا: بخدا! مغیرہ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اس وقت نماز پڑھی، اسی طرح پانچوں نماز کے وقت وہ آئے اور وقت مقرر کیا۔ یہ حدیث سن کر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: عروہ! اچھی طرح سوچ سمجھ کر کہو، کیا جبریل علیہ السلام نے نماز کا وقت متعین کیا تھا؟ عروہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جی ہاں! بشیر بن ابی مسعود نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی ہے، اس کے بعد عمر بن عبدالعزیز دنیا سے رخصت ہونے تک نماز کے وقت کی تعیین علامت سے کر لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17089]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3221، م: 610
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3221، م: 610
حدیث نمبر: 17090 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ، فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں نے پہلی نبوت کا جو کلام پایا ہے، اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم میں شرم و حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3484
حدیث نمبر: 17091 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنْتُ أُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ حَدِيثًا، فَلَقِيتُهُ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُهُ، فَحَدَّثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ الْآخِرَتَيْنِ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص رات کے وقت سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5009، م: 807
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5009، م: 807
حدیث نمبر: 17092 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ ، أَبَا مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمَّنَّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ أَوْ بِإِذْنِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں قرآن کا سب سے بڑا قاری اور سب سے قدیم القرأت ہو، اگر سب لوگ قرأت میں برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے، اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو سب سے عمر رسیدہ آدمی امامت کرے، کسی شخص کے گھر یا حکو مت میں کوئی دوسرا امامت نہ کرائے، اسی طرح کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کے باعزت مقام پر نہ بیٹھے الا یہ کہ وہ اجازت دے، دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 673
الحكم: إسناده صحيح، م: 673
حدیث نمبر: 17093 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا وَائِلٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شُعَيْبٍ صَنَعَ طَعَامًا، فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتِنِي أَنْتَ وَخَمْسَةٌ مَعَكَ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَنْ: " ائْذَنْ لِي فِي السَّادِسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا، جس کا نام ابوشعیب تھا، اس نے ایک دن کھانا پکایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ آپ اپنے ساتھ پانچ آدمیوں کو لے کر تشریف لائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے چھٹے کی بھی اجازت دے دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2036
الحكم: إسناده صحيح، م: 2036
حدیث نمبر: 17094 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَتَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِ مِئَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے راہِ خدا میں ایک اونٹنی صدقہ کر دی جس کی ناک میں نکیل بھی پڑی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن یہ سات سو اونٹنیاں لے کر آئے گی جن کی ناک میں نکیل پڑی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1892
الحكم: إسناده صحيح، م: 1892
حدیث نمبر: 17095 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلْقَمَةَ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ" ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ، فَحَدَّثَنِي بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص رات کے وقت سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کے لئے کافی ہو جائیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5008، م: 808
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5008، م: 808
حدیث نمبر: 17096 مسند احمد
جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ، كَفَتَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص رات کے وقت سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کے لئے کافی ہو جائیں گی [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5009، م: 807
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5009، م: 807
حدیث نمبر: 17097 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَؤُمَّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمَّنَّ رَجُلٌ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں قرآن کا سب سے بڑا قاری اور سب سے قدیم القرأت ہو، اگر سب لوگ قرأت میں برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو سب سے زیادہ عمر رسیدہ آدمی امامت کرے، کسی شخص کے گھر یا حکومت میں کوئی دوسرا امام نہ کر آئے، اسی طرح کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کے باعزت مقام پر نہ بیٹھے الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17097]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 673
الحكم: إسناده صحيح، م: 673
حدیث نمبر: 17098 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، مَنْصُورٌ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْبَدْرِيَّ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْبَدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں نے پہلی نبوت کا جو کلام پایا ہے، اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم میں شرم و حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17098]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3484
حدیث نمبر: 17099 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ . ح وَإِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمَّنَّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ" ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ:" وَلَا فِي أَهْلِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ"، قَالَ إِسْمَاعِيلُ:" فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ أَوْ يَأْذَنَ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں قرآن کا سب سے بڑا قاری ہو اور سب سے قدیم القرأت ہو، اگر سب لوگ قرأت میں برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو سب سے زیادہ عمر رسیدہ آدمی امامت کرے، کسی شخص کے گھر یا حکومت میں کوئی دوسرا امام نہ کرائے اسی طرح کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کے باعزت مقام پر نہ بیٹھے الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17099]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17100 مسند احمد
يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17100]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17101 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ قَالَ يَزِيدُ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شمس و قمر کسی کی موت (و حیات) کی وجہ سے نہیں گہناتے، یہ دونوں تو اللہ کی نشانیاں ہیں، اس لئے جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17101]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 91
الحكم: إسناده صحيح، م: 91
حدیث نمبر: 17102 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ابْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ ، أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيِّ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ابْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ، قَالَ وَكِيعٌ وَيَقُولُ: " اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ فَأَنْتُمْ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرماتے: صفیں سیدھی کر لو، اور آگے پیچھے نہ ہو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، تم میں سے جو عقلمند اور دانشور ہیں، وہ میرے قریب رہا کریں، پھر درجہ بدرجہ صف بندی کیا کرو، سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کہ آج تم انتہائی شدید اختلافات میں پڑے ہوئے ہو (جس کی وجہ ظاہر ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 432
الحكم: إسناده صحيح، م: 432