ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ ، أَبَا شُعَيْبٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكَنَّى أَبَا شُعَيْبٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ، فَأَتَيْتُ غُلَامًا لِي قَصَّابًا، فَأَمَرْتُهُ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ رِجَالٍ، قَالَ: ثُمَّ دَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، وَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَابَ، قَالَ: " هَذَا قَدْ تَبِعَنَا، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ وَإِلَّا رَجَعَ" فَأَذِنَ لَهُ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا جس کا نام ابوشعیب تھا، اس کا ایک غلام قصائی تھا، اس نے اپنے غلام سے کہا کہ کسی دن کھانا پکاؤ تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کروں جو کہ پانچ میں سے پانچویں آدمی ہوں گے، چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی زائد آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے گھر پہنچ کر فرمایا کہ یہ ہمارے ساتھ آ گیا ہے، کیا تم اسے بھی اجازت دیتے ہو؟ اس نے اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2036
الحكم: إسناده صحيح، م: 2036