بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِیَّة حَدِیثِ اَبِی مَسعود البَدرِیِّ الاَنصَارِیِّ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 48
صفحہ 1 از 3
حدیث نمبر: 17063 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ ، أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ ، أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ الْبَدْرِيَّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ الْبَدْرِيَّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانَ هِجْرَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ، أَوْ إِلَّا بِإِذْنِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں قرآن کا سب سے بڑا قاری اور سب سے قدیم القرأت ہو, اگر سب لوگ قرأت میں برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو سب سے زیادہ عمر رسیدہ آدمی امامت کرے، کسی شخص کے گھر یا حکومت میں کوئی دوسرا امام نہ کرائے، اسی طرح کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کے باعزت مقام پر نہ بیٹھے الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 673
الحكم: إسناده صحيح، م: 673
حدیث نمبر: 17064 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبُو مَالِكٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا؟ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَرْجُوكَ بِهَا، فَقَالَهَا لَهُ ثَلَاثًا، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ: أَيْ رَبِّ، كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي فَضْلًا مِنْ مَالٍ فِي الدُّنْيَا، فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ، وَكَانَ مِنْ خُلُقِي أَتَجَاوُزُ عَنْهُ، وَكُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ، وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: نَحْنُ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْكَ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي، فَغُفِرَ لَهُ"، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ." وَرَجُلٌ آخَرُ أَمَرَ أَهْلَهُ إِذَا مَاتَ أَنْ يُحَرِّقُوهُ، ثُمَّ يَطْحَنُوهُ، ثُمَّ يَذُرُّوه فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ، فَجُمِعَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: يَا رَبِّ لَمْ يَكُنْ عَبْدٌ أَعْصَى لَكَ مِنِّي، فَرَجَوْتُ أَنْ أَنْجُوَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي" فَغُفِرَ لَهُ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو بارگاہ خداوندی میں پیش کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تو نے دنیا میں کیا کیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے ایک ذرے کے برابر بھی نیکی کا کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کے ثواب کی مجھے تجھ سے امید ہو، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا کہ پروردگار! تو نے مجھے دنیا میں مال و دولت کی فراوانی عطاء فرمائی تھی، اور میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، میری عادت تھی کہ میں لوگوں سے درگزر کرتا تھا، مالدار پر آسانی کر دیتا تھا اور تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بات کے حقدار تو تجھ سے زیادہ ہم ہیں, فرشتو! میرے بندے سے بھی درگزر کرو چنانچہ اس کی بخشش ہو گئی، اس حدیث کو سن کر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک سے اسی طرح سنی ہے۔ ایک اور آدمی تھا جس نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا کر پیس لیں، اور جس دن تیز ہوا چل رہی ہو تو اس کی راکھ کو بکھیر دیں، اس کے اہل خانہ نے ایسا ہی کیا، اس شخص کے تمام اعضاء کو پروردگار کی بارگاہ میں جمع کیا گیا اور اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے ایسا کرنے پہ کس چیز نے مجبور کیا؟ اس نے عرض کی کہ پروردگار! مجھ سے زیادہ تیرا نافرمان بندہ کوئی نہ تھا، میں نے سوچا کہ شاید اس طرح بچ جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فرشتو! میرے بندے سے درگزر کرو، یہ حدیث سن کر بھی حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ حدیث بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17065 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَخَافَةَ فُلَانٍ يَعْنِي إِمَامَهُمْ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی (اپنے امام) کے خوف سے میں فجر کی نماز سے رہ جاؤں گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ دوران وعظ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض افراد دوسرے لوگوں کو متنفر کر دیتے ہیں، تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کمزور بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17065]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 90، م: 466
الحكم: إسناده صحيح، خ: 90، م: 466
حدیث نمبر: 17066 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ . ح وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: " الْإِيمَانُ هَاهُنَا"، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَصْحَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ" ، قَالَ مُحَمَّدٌ:" عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے دست مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ایمان یہاں ہے، یاد رکھو! دلوں کی سختی اور درشتی ان متکبروں میں ہوتی ہے، جو اونٹوں کے مالک ہوں، جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔یعنی ربعیہ اور مضر نامی قبائل میں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17066]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4387 ، م: 51
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4387 ، م: 51
حدیث نمبر: 17067 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي مَسْعُودٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟، فَقَالَ: قُولُوا: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" . وَقَرَأْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا یوں کہا کرو «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17068 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمٍ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَلْقَمَةَ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص رات کے وقت سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17068]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ: 5009، م: 807، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح ، خ: 5009، م: 807، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 17069 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَوْ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِيكُمْ، وَإِنَّكُمْ وُلَاتُهُ، وَلَنْ يَزَالَ فِيكُمْ حَتَّى تُحْدِثُوا أَعْمَالًا، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ شَرَّ خَلْقِهِ فَيَلْتَحِيكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعور رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ حکومت تمہارے ہاتھ میں رہے گی اور تم اس پر حاکم ہو گے اور اس وقت تک رہو گے جب تک بدعات ایجاد نہیں کرتے، جب تم ایسا کرنے لگو گے تو اللّٰہ تم پر اپنی مخلوق میں سے بدترین کو بھیج دے گا جو تمہیں لکڑی کی طرح چھیل دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17069]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على وهم واختلاف فيه ، فقول شعبة: «عن عبيد الله بن القاسم، أو القاسم بن عبيدالله» وهم منه ، والصواب: عن القاسم، عن عبيد الله
الحكم: إسناده ضعيف على وهم واختلاف فيه ، فقول شعبة: «عن عبيد الله بن القاسم، أو القاسم بن عبيدالله» وهم منه ، والصواب: عن القاسم، عن عبيد الله
حدیث نمبر: 17070 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ هِشَامٍ ، أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاحشہ عورت کی کمائی، اور کاہنوں کی مٹھائی کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2237، م: 1567
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2237، م: 1567
حدیث نمبر: 17071 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَمَّادٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَوْسَطَهُ وَآخِرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17071]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، إبراهيم نخعي لم يسمع أبا عبدالله الجدلي
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، إبراهيم نخعي لم يسمع أبا عبدالله الجدلي
حدیث نمبر: 17072 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخِي بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلَاتِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ، فَقَالَ:" إِذَا أَنْتُمْ صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالکل سامنے آ کر بیٹھ گیا، ہم بھی وہاں موجود تھے، وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! آپ کو سلام کرنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے، جب نماز میں ہم آپ پر درود پڑھیں تو کس طرح پڑھیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے سوال پر اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم سوچنے لگے کہ اگر یہ شخص سوال نہ کرتا تو اچھا ہوتا۔ تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مجھ پر درود پڑھا کرو تو یوں کہو۔ «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17072]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح ، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 17073 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ التَّيْمِيَّ ، أَبِي مَعْمَرٍ الْأَزْدِيِّ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لِرَجُلٍ أَوْ أَحَدٍ لَا يُقِيمُ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17073]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17074 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : إِنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَهُوَ جَدُّ زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَبُو أُمِّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَاهُمْ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاخشہ عورت کی کمائی، اور کاہنوں کی مٹھائی کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17074]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ: 2237، م: 1567
الحكم: حديث صحيح ، خ: 2237، م: 1567
حدیث نمبر: 17075 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي زَعَمُوا؟ قَالَ: " بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لوگوں کا خیال ہے والے جملے کے متعلق کیا سنا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: یہ انسان کی بدترین سواری ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17075]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يدرك أبا مسعود البدري
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يدرك أبا مسعود البدري
حدیث نمبر: 17076 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، سَالِمٌ الْبَرَّادُ ، أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْبَرَّادُ ، قَالَ: وَكَانَ عِنْدِي أَوْثَقَ مِنْ نَفْسِي، قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ : أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَكَبَّرَ، فَرَكَعَ، فَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَفُضَلَتْ أَصَابِعُهُ عَلَى سَاقَيْهِ، وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ، وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَاسْتَوَى جَالِسًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ الثَّانِيَةَ، فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم البراد (جو ایک قابل اعتماد راوی ہیں) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاوں؟ یہ کہہ کر انہوں نے تکبیر کہی، رکوع میں اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھا، انگلیوں کے جوڑ کھلے رکھے، اور ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، یہاں تک کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر «سمع الله لمن حمده» کہہ کر سیدھے کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر سر اٹھا کر سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر دوسرا سجدہ کیا اور چاروں رکعتیں اسی طرح پڑھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17076]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17077 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا يُطِيلُ بِنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِيكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ بِهِمْ الصَّلَاةَ، فَإِنَّ وَرَاءَهُ الْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَذَا الْحَاجَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسول اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی (اپنے امام) کے خوف سے میں فجر کی نماز سے رہ جاؤں گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ دوران وعظ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض افراد دوسرے لوگوں کو متنفر کر دیتے ہیں، تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے، اسے چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 90، م: 466
الحكم: إسناده صحيح، خ: 90، م: 466
حدیث نمبر: 17078 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ، أَبِي ، عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ إِلَى السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ:" لِيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ، وَلَا يُطِيلُ الْخُطْبَةَ، فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا، وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ"، فَقَالَ قَائِلُهُمْ وَهُوَ أَبُو أُمَامَةَ: سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ، ثُمَّ سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ، ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: " أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا، وَتَنْصُرُونَا، وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ"، قَالُوا: فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ:" لَكُمْ الْجَنَّةُ"، قَالُوا: فَلَكَ ذَلِكَ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عامر کہتے ہیں کہ (بیعت عقبہ کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک گھاٹی کے قریب ستر انصارمی افراد کے پاس درخت کے نیچے پہنچے اور فرمایا کہ تمہارا متکلم بات کر لے لیکن لمبی بات نہ کرے کیونکہ مشرکین نے تم پر اپنے جاسوس مقرر کر رکھے ہیں, اگر انہیں پتہ چل گیا تو وہ تمہیں بدنام کریں گے، چنانچہ ان میں سے ایک صاحب یعنی ابوامامہ بولے: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پہلے آپ اپنے رب، اپنی ذات اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو چاہیں مطالبات پیش کریں، پھر یہ بتائیے کہ اللہ تعالیٰ پر اور آپ پر ہمارا کیا بدلہ ہو گا اگر ہم نے آپ کے مطالبات پورے کر دئیے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کے لئے تو میں تم سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ صرف اسی کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم ہمیں ٹھکانہ دو، ہماری مدد کرو اور ہماری حفاظت بھی اس طرح کرو جیسے اپنی حفاظت کرتے ہو؟ انہوں نے پوچھا کہ اگر ہم نے یہ کام کر لیے تو ہمیں کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جنت ملے گی، انہوں نے کہا کہ پھر ہم نے آپ سے اس کا وعدہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17078]
حکم دارالسلام
مرسل صحيح، عامر الشعبي لم يدرك النبى صلى الله عليه و آله وسلم
الحكم: مرسل صحيح، عامر الشعبي لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 17079 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، مُجَالِدٌ ، عَامِرٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17079]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 17080 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، الشَّعْبِيَّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: مَا سَمِعَ الشِّيبُ وَلَا الشُّبَّانُ خطبة مثلها.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی جوان یا بوڑھے نے ایسا خطبہ نہیں سنا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17080]
حکم دارالسلام
مرسل صحيح، عامر الشعبي لم يدرك النبى صلى الله عليه و آله وسلم
الحكم: مرسل صحيح، عامر الشعبي لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 17081 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو : أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " فَقَامَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، وَجَافَى يَدَيْهِ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ، حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ، حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ"، قَالَ:" فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ" ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، أَوْ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم البراد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ یہ کہہ کر انہوں نے تکبیر کہی، رکوع میں اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھا، انگلیوں کے جوڑ کھلے رکھے اور ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر رکوع سر اٹھایا اور سیدھے کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، پھر سر اٹھا کر سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر دوسرا سجدہ کیا اور چاروں رکعتیں اسی طرح پڑھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17081]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17082 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قُلْتُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا، كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ پہ خرچ کرتا ہے اور ثواب کی نیت رکھتا ہے تو وہ خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17082]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 55، م: 1002
الحكم: إسناده صحيح، خ: 55، م: 1002