بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث معَاوِیَةَ بنِ اَبِی سفیَانَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 112
صفحہ 1 از 6
حدیث نمبر: 16828 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ أَبِي: وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَنَادَى الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ: أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: وَأَنَا أَشْهَدُ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ يَحْيَى: فَحَدَّثَنَا رَجُلٌ، أَنَّهُ لَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، قَالَ مُعَاوِيَةُ: هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عیسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اسی اثناء میں مؤذن نے اذان دینا شروع کردی، جب اس نے «الله اكبر، الله اكبر» کہا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی «الله اكبر، الله اكبر» کہا، جب اس نے «اشهد ان لا اله الا الله» کہا تو انہوں نے کہا «وانا اشهد» جب اس نے «اشهد ان محمد رسول الله» کہا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی «وانا اشهد» کہا، جب اس نے «حي على الصلاة» کہا تو انہوں نے کہا «لا حول ولاقوة الا بالله» اور فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح اذان کا جواب دیتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16828]
حکم دارالسلام
إسناده إلى قوله: وأنا أشهد أن محمدا رسول الله صحيح، خ: 912، وباقيه صحيح لغيره لابهام شيخ يحيى بن أبى كثير
الحكم: إسناده إلى قوله: وأنا أشهد أن محمدا رسول الله صحيح، خ: 912، وباقيه صحيح لغيره لابهام شيخ يحيى بن أبى كثير
حدیث نمبر: 16829 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، فَخَطَبَنَا، وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ، أَوْ الزِّيرَ ، شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا، جس میں بالوں کا ایک گچھا نکال کر دکھایا اور فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح تو صرف یہودی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جھوٹ کا نام دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16829]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3488، م: 2127
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3488، م: 2127
حدیث نمبر: 16830 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، أَبَا مِجْلَزٍ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَامِرٍ، قَالَ: فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ، وَلَمْ يَقُمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: وَكَانَ الشَّيْخُ أَوْزَنَهُمَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ عِبَادُ اللَّهِ قِيَامًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابن عامر کے یہاں گئے، ابن عامر تو ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے لیکن ابن زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے نہیں ہوئے اور شیخ ان دونوں پر بھاری تھے، وہ کہنے لگے کہ رک جاؤ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے سامنے کھڑے رہیں اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16830]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16831 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ البُرْسَانِي ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عِيسَى بْنَ عُمَرَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، مُعَاوِيَةُ
قَالَ عَبْد اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ البُرْسَانِي ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، حَتَّى إِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، فَلَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی وہی کلمات دہرانے لگے، جب اس نے حی علی الصلاۃ کہا تو انہوں نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہا، حی علی الفلاح کے جواب میں بھی یہی کہا، اس کے بعد مؤذن کے کلمات دہراتے رہے، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16831]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عيسي بن عمر مجهول، وعبدالله بن علقمة بن وقاص مجهول الحال، لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عيسي بن عمر مجهول، وعبدالله بن علقمة بن وقاص مجهول الحال، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16832 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ لَهُ: أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ؟ فَقَالَ: مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِيِ وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ يَعْنِي: " الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكِ" ، كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ، وَفِي حَوَائِجِكِ؟ قَالَتْ: صَالِحٌ، قَالَ: فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں اس بات کا خطرہ نہ ہوا کہ میں ایک آدمی کو بٹھا دوں گی اور وہ تمہیں قتل کر دے گا؟ وہ کہنے لگے کہ آپ ایسا نہیں کر سکتیں، کیونکہ میں امن و امان والے گھر میں ہوں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان بہادری کو بیڑی ڈال دیتا ہے، آپ یہ بتائیے کہ میرا آپ کے ساتھ اور آپ کی ضروریات کے حوالے سے رویہ کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا صحیح ہے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو پھر ہمیں اور انہیں چھوڑ دیجئے تاآنکہ ہم اپنے پروردگار سے جا ملیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16832]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على حماد بن سلمة، مدار الإسناد على على بن زيد بن جدعان، وحديثه حسن فى الشواهد، وهذا منها
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على حماد بن سلمة، مدار الإسناد على على بن زيد بن جدعان، وحديثه حسن فى الشواهد، وهذا منها
حدیث نمبر: 16833 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ"؟ قَالُوا: أَمَّا هَذَا، فَلَا، قَالَ: أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، جی ہاں! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ معمولی سا ہو؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چیتے کی سواری سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! فرمایا: میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! فرمایا: میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ بات بھی ثابت شدہ ہے اور پہلی باتوں کے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16833]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16834 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا فَقَّهَهُ فِي الدِّينِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1037
الحكم: إسناده صحيح، م: 1037
حدیث نمبر: 16835 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟ قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" مَا أَجْلَسَكُمْ؟" قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ، قَالَ:" آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟" قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَإِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں ایک حلقہ ذکر کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ہم لوگ بیٹھتے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں قسم دے کر پوچھا: کیا واقعی آپ لوگوں کو یہاں اسی چیز نے بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے قسم کھا کر جواب دیا کہ ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آپ لوگوں کو قسم کھانے پر اس لئے مجبور نہیں کیا کہ میں آپ کو جھوٹا سمجھتا ہوں، مجھ سے زیادہ کم احادیث نبویہ بیان کرنے والا کوئی نہ ہو گا، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اپنے صحابہ کے ایک حلقے میں تشریف لے گئے اور انہوں نے بھی اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہی سوال و جواب کیے تھے اور ان سے قسم لی تھی اور بعد میں فرمایا تھا کہ میں نے تمہیں قسم کھانے پر اس لئے مجبور نہیں کیا کہ میں تمہیں جھوٹا سمجھتا ہوں، بلکہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اس وقت اللہ اپنے فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2701
الحكم: إسناده صحيح، م: 2701
حدیث نمبر: 16836 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَيْسٌ ، عَطَاءٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ ، أَخَذَ مِنْ أَطْرَافِ يَعْنِي شَعَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ بِمِشْقَصٍ مَعِي وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَالنَّاسُ يُنْكِرُونَ ذَلِكَ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطا کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت احرام میں تھے (اس سے نکلنے کے لیے بال کٹوانا ضروری ہوتا ہے) یہ ایام عشر کی بات ہے، لیکن کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16836]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: فى أيام العشر، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع هذا الحديث من معاوية
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: فى أيام العشر، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع هذا الحديث من معاوية
حدیث نمبر: 16837 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: كَانَ مُعَاوِيَةُ قَلَّمَا يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، وَيَقُولُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ قَلَّمَا يَدَعُهُنَّ، أَوْ يُحَدِّثُ بِهِنَّ فِي الْجُمَعِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ، فَمَنْ يَأْخُذْهُ بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ، فَإِنَّهُ الذَّبْحُ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معبد جہنی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرتے تھے، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں، اور یہ دنیا کا مال بڑا شیریں اور سرسبز و شاداب ہوتا ہے، سو جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور منہ پر تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16837]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16838 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ، فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ، إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ سے پہلے رکوع سجدہ نہ کیا کرو، کیونکہ جب میں تم سے پہلے رکوع کروں گا تو میرے سر اٹھانے سے پہلے تم بھی مجھے رکوع میں پالو گے اور جب تم سے پہلے سجدہ کروں گا تو میرے سر اٹھانے سے پہلے تم بھی مجھے سجدہ میں پا لو گے، یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اب میرا جسم بھاری ہو گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16838]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16839 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ عَلَى الْمِنْبَرِ " اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ" سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ماویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ منبر پر یہ کلمات کہے: «اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ» اے ﷲ! جسے آپ دیں، اس سے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے آپ روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی، اﷲ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے، میں نے یہ کلمات اسی منبر پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16839]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16840 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبُو الْمُعْتَمِرِ ، ابْنِ سِيرِينَ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُعْتَمِرِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ" ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: وَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يُقَالُ لَهُ: الْحِيْرِيُّ، يَعْنِي أَبَا الْمُعْتَمِرِ، وَيَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ هَذَا
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ریشم یا چیتے کی کھال کسی جانور پر بچھا کر سواری نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16841 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَشَهَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِينَ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مؤذن کے ساتھ تشہد پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16841]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 612
حدیث نمبر: 16842 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ بَهْزٌ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا يُفَقّهِْهُّ فِي الدِّينِ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ھے تو اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16842]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16843 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلَكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدٍ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلَكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ ذَاتَ يَوْمٍ: إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سُوءٍ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزُّورِ" ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: الزُّورُ، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ، فَقَالَ: أَلَا وَهَذَا الزُّورُ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: قَالَ قَتَادَةُ: هُوَ مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے برا طریقہ ایجاد کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «زور» سے منع فرمایا ھے۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی اور سر پر عورتوں جیسا کپڑا تھا، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ ہے «زور» ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3488، م: 2127
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3488، م: 2127
حدیث نمبر: 16844 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ رُكُوبِ النِّمَارِ، وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چیتیے کی سواری سے اور سونے پہننے سے منع فرمایا، الّا یہ کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو (معمولی مقدار ہو)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16844]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ميمون القناد حديثه عن أبى قلابة مرسل، وأبو قلابة لم يسمع من معاوية
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ميمون القناد حديثه عن أبى قلابة مرسل، وأبو قلابة لم يسمع من معاوية
حدیث نمبر: 16845 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ بَيْتًا فِيهِ ابْنُ عَامِرٍ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ، وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : اجْلِسْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الْعِبَادُ قِيَامًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابن عامر کے یہاں گئے، ابن عامر تو ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے، لیکن ابن زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے نہیں ہوئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ بیٹھ جاؤ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے سامنے کھڑے رہیں اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16845]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16846 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: كَانَ مُعَاوِيَةُ قَلَّمَا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ قَلَّمَا يَكَادُ أَنْ يَدَعَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ أَنْ يُحَدِّثَ بِهِنَّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ، فَمَنْ يَأْخُذْهُ بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معبد جہنی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں اور یہ دنیا کا مال بڑا شیریں اور سرسبز و شاداب ہوتا ہے، سو جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16846]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16847 مسند احمد
عَارِمٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْمُغِيرَةِ ، مَعْبَدٍ الْقَاصِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْقَاصِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ، فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ، فَاقْتُلُوهُ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص شراب پیے تو اسے کوڑے مارے جائیں، اگر دوبارہ پیے تو دوبارہ کوڑے مارو، حتیٰ کہ اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کر دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16847]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح