عَبْدُ الْمَلَكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدٍ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلَكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ ذَاتَ يَوْمٍ: إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سُوءٍ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزُّورِ" ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: الزُّورُ، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ، فَقَالَ: أَلَا وَهَذَا الزُّورُ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: قَالَ قَتَادَةُ: هُوَ مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے برا طریقہ ایجاد کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «زور» سے منع فرمایا ھے۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی اور سر پر عورتوں جیسا کپڑا تھا، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ ہے «زور» ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3488، م: 2127
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3488، م: 2127