بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث معَاوِیَةَ بنِ اَبِی سفیَانَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 112
صفحہ 4 از 6
حدیث نمبر: 16888 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مُغِيرَةَ ، مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاضْرِبُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص شراب پیے اسے کوڑے مارے جائیں، اگر دوبارہ پیے تو دوبارہ کوڑے مارو حتیٰ کہ اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کر دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16889 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ: " اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے کہ جسے آپ دیں، اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16889]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16890 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، جَرِيرٍ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَنَا الْيَوْمَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جریر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوۓ سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی، اور میں اب تریسٹھ سال کا ہو گیا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16890]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2352
الحكم: إسناده صحيح، م: 2352
حدیث نمبر: 16891 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ بِالْمَدِينَةِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں دوران خطبہ یہ کہتے ہوۓ سنا کہ اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں چلے گئے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ رکھنا ہم پر فرض نہیں ہے، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھ لے، اور میں تو روزے سے ہوں، اس پر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔ پھر انہوں نے ہاتھوں میں بالوں کا ایک گچھا لے کر فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس قسم کی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل پر عذاب اسی وقت آیا تھا جب ان کی عورتوں نے اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16891]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3468، م: 1129، 2127
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3468، م: 1129، 2127
حدیث نمبر: 16892 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُبَادِرُونِي فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَإِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ سے پہلے رکوع سجدہ نہ کیا کرو، کیونکہ جب میں تم سے پہلے رکوع کروں گا تو میرے سر اٹھانے سے پہلے تم بھی مجھے رکوع میں پالو گے اور جب تم سے پہلے سجدہ کروں گا تو میرے سر اٹھانے سے پہلے تم بھی مجھے سجدہ میں پا لو گے، یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اب میرا جسم بھاری ہو گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16892]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16893 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، ابْنِ مُنَبِّهٍ ، أَخِيهِ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ شَيْئًا، فَتَخْرُجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ، فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی سے سوال کرتے ہوئے اس سے چمٹ نہ جایا کرو (کہ اس کی جان ہی نہ چھوڑو) بخدا! مجھ سے جو آدمی بھی کچھ مانگے گا اور ضرورت نے اسے مانگنے پر مجبور کیا ہو گا تو اسے (میری طرف سے ملنے والی بخشش میں) برکت عطاء کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16893]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1038
الحكم: إسناده صحيح، م: 1038
حدیث نمبر: 16894 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، مُحَمَّدُ ابْنُ كَعْبٍ يَعْنِي الْقُرَظِيَّ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ ابْنُ كَعْبٍ يَعْنِي الْقُرَظِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: تَعَلَّمُنَّ أَنَّهُ " لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ اللَّهُ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ، مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ" سَمِعْتُ هَذِهِ الْأَحْرُفَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ منبر پر یہ کلمات کہے، اے اللّٰہ! جسے آپ دیں، اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک لیں، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی، اللّٰہ پاک جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے، میں نے یہ کلمات اسی منبر پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16894]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16895 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَسَنُ ابْنُ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَنُ ابْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أخْبَرَهُ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أخْبَرَهُ، قَالَ: قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ، أَوْ قَالَ: رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ عِنْدَ الْمَرْوَةِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے مروہ پر کاٹے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16895]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1730، م: 1246
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1730، م: 1246
حدیث نمبر: 16896 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي ، جَدِّي ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ"، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ"، فَقَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، فَقَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَقَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ"، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَوْ نَبِيُّكُمْ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ بن وقاص رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کے مؤذن اذان دینے لگا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی وہی کلمات دہرانے لگے، جب انہوں نے «حي على الصلوة» کہا: تو انہوں نے «لا حول ولا قوة الا بالله» کہا، «حي على الفلاح» کے جواب میں بھی یہی کہا، اس کے بعد مؤذن کے کلمات دہراتے رہے، پھر فرمایا کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی یہی فرماتے تھے جب مؤذن اذان دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16896]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا سند محتمل للتحسين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا سند محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 16897 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: حَجَّ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُعَاوِيَةُ، فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : إِنَّمَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ مَهْجُورٌ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما حرم مکی میں آئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے طواف کیا تو خانہ کعبہ کے سارے کونوں کا استلام کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو صرف دو کونوں کا استلام کیا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ خانہ کعبہ کا کوئی کونا بھی متروک نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16897]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات على قلب فى متنه، فالمحفوظ أن القائل: ليس من أركانه مهجور هو معاوية، وأن ابن عباس هو الذى أنكر عليه
الحكم: رجاله ثقات على قلب فى متنه، فالمحفوظ أن القائل: ليس من أركانه مهجور هو معاوية، وأن ابن عباس هو الذى أنكر عليه
حدیث نمبر: 16898 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ إِذَا أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت والے دن موذنین سب سے لمبی گردنوں والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16898]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16899 مسند احمد
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، طَلْحَةُ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، أَبِي بُرْدَةَ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ مسلمان کو اس کے جسم میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16899]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16900 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، جَابِرٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ يُشَقِّقُونَ الْكَلَامَ تَشْقِيقَ الشِّعْرِ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشعار کی طرح بات چبا چبا کر کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16900]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 16901 مسند احمد
وَكِيعٌ ، بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ ، أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ سَمِعْهُ مِنْهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ معمولی سا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16901]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16902 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى ، أَبِي أُمَامَةَ ابْنِ سَهْلٍ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ابْنِ سَهْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَشَهَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِينَ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مؤذن کے ساتھ خود بھی تشہد پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16902]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 612
حدیث نمبر: 16903 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَلَّمَا خَطَبَ إِلَّا ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي خُطْبَتِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ، بَارِكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا، يُفَقِّهِْهُّ فِي الدِّينِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْمَدْحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معبد جہنی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں اور یہ دنیا کا مال بڑا شیریں اور سرسبز و شاداب ہوتا ہے، سو جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16903]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16904 مسند احمد
يَعْقُوبُ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ فِيهِ:" وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث یعقوب سے بھی مروی ہے (اور اس میں «مدح» کے بجائے «تمادح» کا لفظ ہے مطلب دونوں کا ایک ہی ہے یعنی) منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16904]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، راجع ما قبله
الحكم: حديث صحيح، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 16905 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس شخص کے حق میں عمریٰ جائز ہوتا ہے جس کے لیے وہ کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16905]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 16906 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيُّ ، أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ وَقَدْ غَمَّضَ عَيْنَيْهِ، فَتَذَاكَرْنَا الْهِجْرَةَ، وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: قَد انْقَطَعَتْ، وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: لَمْ تَنْقَطِعْ، فَاسْتَنْبَهَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ: مَا كُنْتُمْ فِيهِ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ قَلِيلَ الرَّدِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَذَاكَرْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوہند بجلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، جو اپنے تخت پر آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے، ہم نے ہجرت کا تذکرہ شروع کر دیا، ہم میں سے کسی کی رائے تھی کہ ہجرت منقطع ہو گئی ہے اور کسی کی رائے تھی کہ ہجرت منقطع نہیں ہوئی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہوشیار ہو گئے اور فرمایا: تم کیا باتیں کر رہے ہو؟ ہم نے انہیں بتا دیا، وہ کسی بات کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بہت کم کرتے تھے، کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس یہی مذاکرہ کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک توبہ منقطع نہ ہو جائے اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16906]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى هند البجلي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى هند البجلي
حدیث نمبر: 16907 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبِي عَوْنٍ ، أَبِي إِدْرِيسَ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ، إِلَّا الرَّجُلُ يَمُوتُ كَافِرًا، أَوْ الرَّجُلُ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوادریس کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جو بہت کم احادیث بیان کرتے تھے کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ امید ہے اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف فرما دے گا، سوائے اس کے کہ کوئی شخص کفر کی حالت میں مر جائے یا وہ آدمی جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16907]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن