حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ،
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ، أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنَ الْيَهُودِ". فَجَمَعُوا لَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ؟". قَالُوا: نَعَمْ , يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَبُوكُمْ؟". قَالُوا: أَبُونَا فُلَانٌ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" كَذَبْتُمْ، أَبُوكُمْ فُلَانٌ". قَالُوا: صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ. قَالَ لَهُمْ:" هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟". قَالُوا: نَعَمْ , يَا أَبَا الْقَاسِمِ، وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" مَنْ أَهْلُ النَّارِ؟". قَالُوا: نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا، ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا"، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ:" هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟". فَقَالُوا: نَعَمْ , يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ:" هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟". قَالُوا: أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا نَسْتَرِيحُ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ تَضُرَّكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر فتح ہوگیا تو (یہودیوں کی طرف سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی گئی جو در حقیقت زہر آلود تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چل گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں جتنے یہودی ہیں ان سب کو جمع کرو چنانچہ وہ لوگ اکٹھے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم سچ بولوگے؟ انہوں نے کہا جی اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باوا کون ہے؟ انہوں نے کہا فلاں آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم جھوٹ بولتے ہو تمہارا باوا فلاں آدمی ہے انہوں نے کہا کہ آپ سچ کہتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں تم سے کچھ پوچھوں تو کیا تم اس کا جواب صحیح دوگے؟ انہوں نے اقرار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے جھوٹ بولا تو آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا جیسے ہمارے باوا کے بارے آپ کو پتہ چل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنمی کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے تک تو ہم اس میں رہیں گے اس کے بعد آپ کی امت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم کبھی بھی تمہارے پیچھے جہنم میں نہیں جائیں گے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں تم سے پوچھوں تو کیا تم اس کا صحیح جواب دوگے؟ انہوں نے اقرار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ انہوں نے اقرار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ اگر آپ (معاذاللہ) جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے چھٹکارا مل جائے گا اور اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3169
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3169