حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ"، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَادَاهُمْ:" يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا". فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. قَالَ لهم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ أُرِيدُ". ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ , فَقَالَ: " اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا یہودیوں کے پاس چلو چنانچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور بیت المدراس " (یہودیوں کے ایک گرجے) میں پہنچے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں پہنچ کر انہیں تین مرتبہ دعوت دی اے گروہ یہود! اسلام قبول کرلو، سلامتی پا جاؤگے اور تینوں مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ نے اپنا پیغام پہنچا (کر اپناحق ادا کر) دیا آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں اس علاقے سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں اس لئے تم میں سے جس کے پاس کوئی مال ہو وہ اسے پیچ لے ورنہ یاد رکھو! کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3167، م: 1765
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3167، م: 1765