بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 7157
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 7157
حدیث نمبر: 7157 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لَا يَخْرُجُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي، وَإِيمَانًا بِي، وَتَصْدِيقًا بِرَسُولِي، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ، نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ كُلِمَ، لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ، وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنِّي لَا أَجِدُ سَعَةً، فَيَتْبَعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ، فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أَغْزُوَ، فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أَغْزُوَ، فَأُقْتَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اسے اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کر چکا ہو۔ _x000D_ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہو گا جیسے زخم لگنے کے دن تھا۔ اس کا رنگ تو خون کی طرح ہو گا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہو گی۔ _x000D_ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں گے تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ وہ میری پیروی کر سکیں اور ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے ہٹنے لگیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کر لوں۔ پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہو جاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہو جاؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7157]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
← پچھلی حدیث (7156) باب پر واپس اگلی حدیث (7158) →