مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ مَعَهَا فِيهِ إِدَامٌ، أَوْ طَعَامٌ، أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ، وَلَا نَصَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ خدیجہ آپ کے پاس ایک برتن لے کر آرہی ہیں اس میں سالن یا کھانے پینے کی چیز ہے جب یہ آپ کے پاس پہنچیں تو آپ انہیں ان کے رب کی طرف سے اور میری جانب سے سلام کہہ دیں اور انہیں جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت دے دیں جس پر لکڑی کا کام ہوا ہو گا اس میں کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تھکاوٹ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3820، م: 2432
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3820، م: 2432