أَبُو مُغِيرَةَ ، هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُغِيرَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا عَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِعُصْفُرٍ، فَقَالَ:" مَا هَذِهِ؟" فَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَهَا، فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ، فَلَفَفْتُهَا، ثُمَّ أَلْقَيْتُهَا فِيهِ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَتْ الرَّيْطَةُ؟" قَالَ: قُلْتُ: قَدْ عَرَفْتُ مَا كَرِهْتَ مِنْهَا، فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَأَلْقَيْتُهَا فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلَّا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ثنیہ اذاخر " سے نیچے اتر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھ پر عصفر سے رنگی ہوئی ایک چادر دکھائی دی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا: ”: چنانچہ جب میں اپنے گھر پہنچا تو اہل خانہ تنور دہکا رہے تھے میں نے اس چادر کو لپیٹا اور تنور میں جھونک دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس چادر کا کیا کیا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ کی ناگواری کا احساس ہو گیا تھا اس لئے جب میں اپنے گھر پہنچا تو گھر والے تنور دہکا رہے تھے میں نے وہ چادر اس میں پھینک دی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے وہ چادر اپنے گھرکے کسی فرد (خاتون) کو کیوں نہ پہنا دی؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6852]
الحكم: إسناده حسن