بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 6851
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 6851
حدیث نمبر: 6851 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى بَيْنَ يَدَيَّ صَحِيفَةً، فَقَالَ: هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فِيهَا، فَإِذَا فِيهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلْ: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا، أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو راشد حبرانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہو اس پر انہوں نے میرے سامنے ایک صحیفہ رکھا اور فرمایا: کہ یہ وہ صحیفہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے لکھوایا ہے میں نے دیکھا تو اس میں یہ بھی درج تھا کہ ایک مرتبہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ!! مجھے کوئی دعاء سکھا دیجئے جو میں صبح وشام پڑھ لیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر یہ دعاء پڑھ لیا کرو " اے آسمان و زمین کے پیدا کر نے والے اللہ پوشیدہ اور ظاہر سب کو جاننے والے اللہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو ہر چیز کا رب اور اس کا مالک ہے میں اپنی ذات کے شر شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے کہ خود کسی گناہ کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان کو کھینچ کر اس میں مبتلا کروں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6851]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
← پچھلی حدیث (6850) باب پر واپس اگلی حدیث (6852) →