أَبُو النَّضْرِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، مُحَمَّدٌ ، سُلَيْمَانُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ، وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ، وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ"، قَالَ أَبُو النَّضْرِ:" فَيَكُونُ رِمِّيًّا فِي عِمِّيًّا، فِي غَيْرِ فِتْنَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”قتل شبہ عمد کی دیت بھی قتل عمد کی دیت کی طرح مغلظ ہو گی (جس کی تفصیل گزشتہ حدیث میں گزری) البتہ اس صورت میں قاتل کو قتل نہیں کیا جاسکے گا اور اس کی صورت یہ ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان کود پڑے اور بغیر کسی امتحان کے یا اسلحہ اٹھانے کے اندھا دھند تیر اندازی شروع ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6718]
الحكم: إسناده حسن